ریمیشن سے عمر قید کی سزا 15سال سے کم نہیں ہو سکتی:آئینی عدالت
ریمیشن لامحدود صوابدید نہیں، عمر قید کے مجرم کا 15سال قید کاٹنا لازم، درخواست مسترد سرکاری ملازم کو چارج شیٹ سے مختلف یا اضافی الزامات پر سزا نہیں دی جا سکتی:عدالت غیر قانونی رولز پر ملازمین ترقی معاملہ میں آئینی درخواست دائر نہیں کر سکتے :تحریری فیصلہ
اسلام آباد (اے پی پی)پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 217(ii) کے تحت عمر قید کے مجرم کی مجموعی ریمیشن (Remission) کے نتیجے میں اس کی حقیقی قید کی مدت 15 سال سے کم نہیں کی جا سکتی، وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس روزی خان باریچ اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سبا خان کی ایف سی پی ایل اے مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ جیل حکام کے تیار نومینل رول کے مطابق سبا خان نے 9 سال، 4 ماہ اور 19 دن قید کاٹ لی تھی، اس کی 15 سال، 7 ماہ اور 18 دن ریمیشن درج کی گئی اور 5 ماہ اور 23 دن قید باقی ظاہر کی گئی۔ مذکورہ حساب کتاب پاکستان پریزن رولز کے لازمی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ ریمیشن کے نتیجے میں عمر قید کی حقیقی مدت 15 سال سے کم ہو رہی تھی۔ جیل حکام قانونی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ریمیشن نہیں دے سکتے ۔ عدالت نے درخواست میرٹ سے عاری قرار دے کر مسترد کر دی۔
ادھر وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس روزی خان بریچ نے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دو ملازمین کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے نے قرار دیا کہ کسی سرکاری ملازم کو چارج شیٹ میں عائد الزامات سے مختلف یا اضافی الزامات کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی جب تک اسے نئے الزامات کا موثر دفاع کرنے کا موقع نہ دیا جائے ، عدالت نے دونوں ملازمین کو ملازمت سے برطرفی کی تاریخ سے بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا 2 مئی 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سی ای او سیپکو اور دیگر کی درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا غیر قانونی رولز پر ملازمین ترقی کے معاملہ میں آئینی درخواست دائر نہیں کر سکتے ۔ فاضل بینچ نے آئینی درخواست کے ناقابل سماعت ہونے سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments