’’کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون نہیں‘‘

’’کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون نہیں‘‘

سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان میں رجسٹرڈہیں اور نہ ہی مقامی قوانین کی پابند 15لاکھ 77ہزار سے زائد غیر قانونی لنک بلاک کیے :پی ٹی اے کاہائیکورٹ میں جواب

اسلام آباد (رضوان قاضی)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے آن لائن مواد بلاک کرنے کی مجموعی شرح 88.20فیصد رہی،ٹک ٹاک پر 88.68 فیصد، یوٹیوب پر 87.34 فیصد اور فیس بک پر 78.57 فیصد لنکس بلاک کیے گئے ،پی ٹی اے میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون موجود نہیں،پی ٹی اے قانون اور اختیارات سے تجاوز کر کے بچوں کی عمر کی تصدیق کا نظام قائم نہیں کر سکتی،اتھارٹی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے کیس میں اپنا تفصیلی جواب جمع کرا دیا جس میں کہا گیا بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کیلئے نیا قانونی اور پالیسی فریم ورک تشکیل دینا ضروری ہے۔

غیر قانونی آن لائن مواد بلاک کرنے کا اختیار محدود اور عبوری نوعیت کا ہے ، پی ای سی اے ترمیم 2025 کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے ، پی ٹی اے نے آن لائن خلاف ورزیوں پر 15 لاکھ 77 ہزار سے زائد غیر قانونی یو آر ایلز،اخلاق باختہ مواد کی 10 لاکھ 66 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور لنکس، اسلام مخالف مواد کے 2 لاکھ 3 ہزار سے زائد ، ملکی سلامتی کے خلاف 46 ہزار سے زائد لنکس بلاک کیے ،سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں اور نہ ہی مقامی قوانین کی پابند، تکنیکی حدود رکاوٹ ہیں، انفرادی مواد بلاک کرنا ناممکن پوری ویب سائٹ بند کرنا پڑتی ہے ،سوشل میڈیا کمپنیوں سے مقامی تعمیل اور گریوینس آفیسر کی تعیناتی کی درخواست پر جواب نہیں ملا،بچوں کیلئے آگاہی مہمات جاری ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...