این سی سی آئی اے ڈائریکٹرز کیخلاف توہین عدالت کارروائی کا عندیہ
ڈی جی ایف آئی اے ڈائریکٹرز تعیناتیوں ،انکوائریوں کے ریکارڈ سمیت ہائیکورٹ طلب مدعی مینج کرکے درخواست واپس کرا لینا:ریمارکس، احکامات پرعمل ہوگا:ڈی جی ایف آئی اے
لاہور(کورٹ رپورٹر )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے این سی سی آئی اے بننے کے بعد تعینات تمام ڈائریکٹرز کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیدیا،عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو تمام ڈائریکٹرز کی تعیناتیوں اور زیر التوا انکوائریوں کے ریکارڈ سمیت 5 اکتوبر کو طلب کرلیا۔عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور سے استفسار کیا کہ 2024 میں 30 دن میں درخواست پر فیصلے کا حکم دیا تھا ،ڈی جی ایف آئی نے موقف اپنایا کہ 2024 میں درخواست آئی جسکے بعد این سی سی آئی اے الگ ادارہ بن گیا ، ہم نے ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ کردیا، زیر التوا درخواستوں پر تیزی سے کام کررہے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ تاریخ بتائیں کب این سی سی آئی اے معرض وجود میں آیا؟ہم تاریخ دیکھ لیتے ہیں اسکے بعد 30 روزکا حساب لگا کر توہین عدالت کی کارروائی شروع کردیتے ہیں،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ڈائریکٹر زکی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ عدالتی احکامات پر عمل کرتے ۔ ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا مدعی ٹھیک نہیں، جیسے ہی آتا ہے تو اسکو سن لیتے ہیں، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ آپ مدعی مینج کرلینا اور درخواست عدالت سے واپس کروا لینا، ڈی جی نے کہا مائی لارڈ ایسا نہیں ہوگا آپکے احکامات پر عمل ہوگا، عدالت نے ڈی جی سے مکالمہ کرتے ہو ئے کہا کہ آپ آجاتے ہیں، آپکے افسر عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments