نئے قواعد یا ترمیم سے طے شدہ سنیارٹی متاثر نہیں کی جا سکتی :سپریم کورٹ
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ نئے قوانین اور سروس رولز عمومی طور پر مستقبل کے معاملات پر لاگو ہوتے ہیں، ان کا ماضی سے اطلاق کرکے ملازمین کی طے شدہ سنیارٹی، ترقی کی اہلیت اور حاصل شدہ حقوق متاثر نہیں کیے جاسکتے جب تک قانون میں ماضی سے اطلاق کی واضح ہدایت موجود نہ ہو۔
سنیارٹی اور ترقی کے لیے اہلیت ملازمین کے حاصل شدہ حقوق کے مترادف ہیں، انہیں محض طریقہ کار کا معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے واپڈا کے اسسٹنٹ سٹیشن اٹینڈنٹس کی سنیارٹی سے متعلق 25 سول پٹیشنز پر فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا اور واپڈا کی درخواستیں خارج کردیں۔ عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ نئے قواعد یا قواعد میں ترمیم کے ذریعے پہلے سے طے شدہ سنیارٹی متاثر نہیں کی جا سکتی۔ فیصلے کے مطابق واپڈا ہائیڈل جنریشن سٹاف سروس رولز 2018 کے نفاذ کے بعد اسسٹنٹ سٹیشن اٹینڈنٹس کی مشترکہ کے بجائے آپریشنز اور مینٹیننس شعبوں کیلئے علیحدہ سنیارٹی لسٹ مرتب کی گئی جس سے بعض ملازمین کی ترقی متاثر ہوئی اور ان سے جونیئر ترقی پا گئے ۔ وفاقی سروس ٹربیونل نے قرار دیا تھا کہ یہ قواعد نافذ ہونے کے بعد والے ملازمین پر مستقبل سے لاگو ہوں گے جبکہ قواعد کے نفاذ سے قبل تعینات ملازمین کی سابقہ مشترکہ سنیارٹی بحال کی جائے گی۔ ٹربیونل کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی وجہ نہیں، واپڈا کی تمام 25 سول پٹیشنز خارج جبکہ اپیل کی اجازت سے انکار کر دیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments