حکومت، اپوزیشن طویل مذاکرات، ڈیڈ لاک برقرار
فریقین میں پیشرفت جاری تھی معاملہ انسداددہشتگردی کے مسئلے پر اٹک گیا،پی ٹی آئی دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں ضروری انتظامی اقدامات سے پیچھے ہٹ رہی:حکومتی ذرائع،بات چیت بے نتیجہ ختم تحریک انصاف کے لانگ مارچ شروع کر نے پر مذاکرات متاثر اور دیگر آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے :ذرائع، وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی کا آج سے باقاعدہ لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان
اسلام آباد (دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں)حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے تاہم ڈیڈلاک برقرار رہا اور فریقین میں بات چیت بے نتیجہ ختم ہوگئی ،ذرائع کے مطابق اصل مسئلہ انسداد دہشت گردی کے معاملات پر اٹک گیا، تحریک انصاف دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں ضروری انتظامی اقدامات کرنے سے پیچھے ہٹ رہی ہے اور اسی پر ڈیڈ لاک پیداہوا ہے، ذرائع کے مطابق تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف اور انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی میں حکومتی موقف سے گریزاں ہے اوراگر دہشت گردی پر بات آگے نہیں بڑھتی تو باقی کسی چیز پر بھی آگے نہیں جائے گی،حکومتی ذرائع کے مطابق اگر تحریک انصاف دہشت گردی سے جڑے معاملات پر بروقت پیش رفت نہیں کرتی اور دوسری طرف لانگ مارچ بھی شروع کر دیا جاتا ہے تو یہ جاری مذاکرات پر برا اثر ڈالے گا، ایسی صورت میں دیگر آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے، دہشت گردی کے معاملات پر پیش رفت مذاکرات کی کامیابی کے لئے نا گزیر ہے ۔قبل ازیں مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے فریقین کی طرف سے متضاد دعوے کیے جاتے رہے اور رات گئے تک صورت حال غیر واضح رہی۔
تفصیلات کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس سپیکر چیمبر میں حکومتی اور اپوزیشن وفود کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہوا، حکومت کی جانب سے وفاقی وزراء امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن رضا نقوی، طلال چودھری ، طارق فضل چودھری،پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمن، نوید قمر ، اعجاز حسین جاکھرانی جبکہ اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، عامر ڈوگر، اسد قیصر، حلیم عادل شیخ اورجنرل سیکرٹری پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ مذاکرات میں شریک ہوئے ،ایک روز قبل جمعہ کو فریقین میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور ہفتہ کو گلے شکوؤں کے ساتھ شروع ہوا۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی کے ٹویٹ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ہم نے ایک روز قبل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کیلئے لانگ مارچ منسوخ کرنے کی بات کی تو سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا ٹویٹ کر دیا۔ حکومتی وفد نے شکوہ کیاکہ سینئر حکومتی اکابرین سے متعلق نازیبا زبان بھی استعمال کی گئی، ایسے میں ہم کیا سمجھیں کہ اپوزیشن وفد کتنا با اختیار ہے ؟۔ ہم کھلے دل سے آئے ہیں اور مکمل با اختیار ہیں ۔
اپوزیشن نے جواب میں کہا کہ آپ وزیردفاع خواجہ آصف کے ٹویٹ بارے کیا کہیں گے ، کیا وہ درست ہے ؟ اگر آگے بڑھنا ہے تو اعتماد بحال کرنا ہوگا۔دوسری جانب ایک ذریعے نے یہ بھی بتایا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اورمعاہدے کا ڈرافٹ تیارکر لیا گیا ہے ۔رہنما پیپلزپارٹی اور رکن کمیٹی نوید قمر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے ، مذاکرات کا اعلامیہ کچھ دیر میں جاری ہوجائے گا، انتظار کر رہے ہیں، کچھ الفاظ میں تبدیلی کی جارہی ہے ،یہ کامیابی دونوں طرف کی کامیابی ہوگی، نوک پلک درست ہوجائے تو کہہ سکیں کہ کتنے نکات پر اتفاق ہوا ہے ، امید ہے نہ لانگ مارچ ہوگا، نہ ہی ایمرجنسی لگے گی۔ قبل ازیں مذاکرات میں شرکت کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو میں خواجہ آصف کے بیان پر تنقید کی اور کہا کہ انہی وزراء کے بیانات نے ملک کا بہت نقصان کیا ، آپ 32 سال سے سیاست کر رہے ہیں خدارا ایسے بیانات نہ دیں ،وزرا اور دیگر کچھ لوگوں کے غیرذمہ دارانہ بیانات سے مایوسی ہوئی ،مذاکرات قوم،ملک اور جمہوریت کیلئے انتہائی ضروری ہیں ، مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ، کامیاب بنانے کیلئے سنجیدگی اور تحمل کی ضرورت ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کور کمانڈرز کانفرنس سے متعلق سوال پر کہا کہ کور کمانڈرز کانفرنس پر ہم بات نہیں کرتے ، یہ ہماری افواج پاکستان کی پریس ریلیز ہوتی ہے ،ملک میں انتشار نہیں ہونا چاہیے ، دہشت گردی کا خاتمہ اور آئین و قانون کی بالادستی ضروری ہے ۔چیئرمین پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کے راستے میں رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کرتے کہا کہ حیرت ہے لانگ مارچ کو روکنے کیلئے جس طرح کوشش اور انتہائی اقدامات کی باتیں ہو رہیں ، ایسا جمہوریت میں نہیں ہونا چاہیے ۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر اپنے ردعمل میں میڈیا سے گفتگو کرتے کہا کہ ایک صوبے کو دہشت گردی سے جوڑنا عاقبت نااندیشی ہے ، وزیر دفاع کا بیان غیر ذمہ دارانہ اور قابل مذمت ہے ،مذاکرات آئین اور قانون کے اندر ہوئے تو مسائل حل ہوسکتے ہیں، جو حل آئینی اور قانونی نہ ہو وہ دیر پا بھی نہیں ہوتا ۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کچھ لوگوں نے سپائلر کا کردار ادا کرکے معاملات کو خراب کرنے کی کوشش کی لیکن ہمارا مقصد بہت بڑا ہے کہ اس ملک میں ریاست اور قوم میں ہم آہنگی ہو ،اس کیلئے ہم ہر وہ قدم اٹھائیں گے جو ضروری ہو، اپنے حق سے دستبردار نہیں ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ اس جانب کچھ لوگ ہیں جو بہتری اورکچھ لوگ ہیں جو ابتری چاہتے ہیں،ہم دونوں کا مقابلہ کریں گے ۔ ملک میں انصاف اور آئین کو بحال کرو، بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا، ان کو علاج کیلئے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے ۔ جنید اکبر نے کہا کہ یہ تاثر ٹھیک نہیں کہ ہم میں سے کوئی مذاکرات کیخلاف ہے ، مثبت مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل کا حل نکلنا چاہیے ۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ ہم خلوص نیت سے مذاکرات کر رہے ہیں، دیکھتے ہیں کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔ سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ ہماری کوشش ہے جمہوری انداز میں معاملے کا حل نکلے ، سوشل میڈیا پر دیئے بیانات پر فی الحال کوئی ردعمل نہیں دے سکتی ۔دریں اثناء وفاقی وزیر پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل چودھری نے اپنے بیان میں سہیل آفریدی کی ایکس پوسٹ پر ردِعمل دیتے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کو بامقصد اور نتیجہ خیز بنانا چاہتی ہے ، سہیل آفریدی کے بیانات مذاکرات کے عمل کو متاثر کر سکتے ہیں،تحریک انصاف کی قیادت ایسی گفتگو سے گریز کرے جس سے مذاکرات کو نقصان پہنچے۔
وزیراعلیٰ پختونخوا کی مخالفین اور ہماری قیادت کے خلاف گفتگو انتہائی غیر شائستہ اور قابلِ مذمت ہے ۔ دوسری طرف ذرائع نے دعویٰ کیاہے کہ مذاکرات سے قبل اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں بیرسٹر گوہر، علامہ راجہ ناصر عباس اور اسد قیصر پر مشتمل وفد کی ایک اہم شخصیت سے ملاقات ہوئی جو ایک گھنٹہ جاری رہی۔ ملاقات میں پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کردہ مطالبات پر بات چیت ہوئی جبکہ کچھ مطالبات میں رد وبدل بھی کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی کو بذریعہ ٹیلیفون رابطے میں رکھا گیا تھا،اپوزیشن اتحاد نے اس ملاقات کے بعد اپنے حتمی مطالبات تیار کر لئے ۔ذرائع کے مطابق حکومت نے لانگ مارچ ختم کرنے کے اعلان پر پی ٹی آئی کے بعض بنیادی مطالبات تسلیم کرنے کا عندیہ دیا۔ علاوہ ازیں حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کی ذرائع سے سامنے آنے والی اندرونی کہانی کے مطابق حکومتی مذاکراتی ٹیم نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کا اعلان واپس لینے کا واضح پیغام دے دیا۔ حکومتی کمیٹی نے کہا کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر میں ایسا برداشت نہیں ہوسکتا کہ دہشت گردوں کو مارچ میں آنے کا راستہ ملے۔
پشاور(آئی این پی،مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے آج 4مارچ کو گنڈی چوک لکی مروت سے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج بروز اتوار دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے، رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پڑاؤ کرے گا۔کل 5 اکتوبر دن 12:30 بجے وہاں سے روانگی ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے -پرسوں 6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ سے پشاور روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے ۔7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے ۔8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی اور رات خیر آباد کے مقام پر گزاریں گے ، آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت اور ریاستی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے کہا کہ خود کو عقلِ کل سمجھنے والے پہلے بھی غلط تھے ، آج بھی غلط ہیں اور جب تک اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتے تب تک غلط ہی رہیں گے ، پی ٹی آئی کے مطالبات مکمل طور پر آئینی اور قانونی ہیں،جو لوگ اقتدار سے چمٹے ہیں انہیں پاکستانی عوام سے خطرہ ہے اور وہ اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے ملک میں آگ لگا رہے ہیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ رجیم چینج کے بعد جان بوجھ کر پختونخوا میں دہشت گردی دوبارہ مسلط کی گئی ، ہمارا خریدا اسلحہ کون ہماری پولیس تک نہیں پہنچنے دے رہا؟ پولیس بغاوت کرنے پر کیوں مجبور ہوگئی ؟ بلوچستان اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں تو وہاں امن کیوں نہیں آ رہا؟۔ 9 مئی کا واقعہ ایک سازش تھی، سی سی ٹی وی فوٹیجز چرانے والوں نے ہی وہ سب کروایا اور اب دوبارہ ایسا کسی کو کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments