دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند : آئینی عدالت
فارمیسی ایکٹ رجسٹرڈ ڈاکٹر کو صرف اپنے مریض کو دوا دینے کی اجازت دیتاہے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار ،معاملہ قانونی طریقہ کار سے نمٹانے کی ہدایت
اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ رجسٹرڈ ڈاکٹر اپنے مریض کو دوا تجویز کرنے کے ساتھ اسے فراہم بھی کرسکتا ہے ، تاہم وہ ڈرگز ایکٹ 1976 کے تحت مطلوبہ لائسنس کے بغیر میڈیکل سٹور یا ریٹیل ڈرگ آؤٹ لیٹ نہیں چلا سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے یہ فیصلہ پشاور ہائیکورٹ کے ڈی آئی خان بینچ کا 5 جون 2023 کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے جاری کیا۔ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنرز کے خلاف میڈیکل سٹورز اور ڈسپنسریاں چلانے کے الزام میں کی جانے والی ضابطہ کی کارروائی روک دی تھی۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا کے سیکرٹری صحت کی اپیل پر فیصلہ سنایا۔ بعض رجسٹرڈ ڈاکٹرز کے کلینیکل مراکز میں ڈسپنسریاں اور میڈیکل سٹورز کا حکام نے معائنہ کیا اور ادویات قبضے میں لینے کے بعد فارم-6 جاری کیا، ڈاکٹروں کو شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے گئے ۔وفاقی آئینی عدالت نے اپنے 9 صفحات پر مشتمل فیصلے میں واضح کیا کہ فارمیسی ایکٹ 1967 کی دفعہ 31(4)(a) رجسٹرڈ ڈاکٹر کو صرف مریض کو دوا دینے یا اپنا نسخہ خود پورا کرنے کی اجازت دیتی ہے ۔اس شق کو میڈیکل سٹور قائم کرنے یا ادویات کی تجارتی بنیادوں پر فروخت کا اختیار قرار نہیں دیا جاسکتا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments