ملک میں فریٹ ٹرانسپورٹ شعبہ بحران کا شکار ، نصف سے زائد ٹرک 4 دہائیاں پرانے
ملک کا ٹرانسپورٹ سیکٹر جدید تقاضوں اورموٹرویز کے معیار کے مطابق نہیں ، پرانی گاڑیاں روڈ انفراسٹرکچر کیلئے تباہ کن پنجاب میں 140283گڈز گاڑیاں، بلوچستان 104277، خیبر پختونخوا 58908 اور سندھ میں 34411گاڑیاں رجسٹرڈ ملک میں ریجڈ ٹرکس فلیٹ کا 45.7 فیصد، منی ٹرکس 29.2 فیصد، ملٹی ایکسل ٹرکس 16.9 فیصد اور آئل ٹینکرز 8.2 فیصد ہیں
اسلام آباد (ایس ایم زمان)ملک میں مال و سامان برداری (فریٹ ٹرانسپورٹ) کا شعبہ بحران اور فرسودگی کا شکار ہے ۔ وزارت مواصلات کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں کل 354220 رجسٹرڈ گڈز گاڑیوں میں سے تقریباً نصف سے زائد ٹرک تین سے چار دہائیاں پرانے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک کا ٹرانسپورٹ سیکٹر جدید تقاضوں اور موٹرویز کے معیار کے مطابق نہیں ہے ۔پاکستان میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی سب سے بڑی تعداد پنجاب میں ہے جہاں 140283 گاڑیاں چل رہی ہیں۔ اس کے بعد بلوچستان 104277 گاڑیوں کے ساتھ دوسرے ، خیبر پختونخوا 58908 کے ساتھ تیسرے اور سندھ 34411 گاڑیوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے ۔ اسلام آباد (آئی سی ٹی) میں 2709، آزاد جموں و کشمیر میں 2696 اور گلگت بلتستان میں 10936 گڈز گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں۔گاڑیوں کی اقسام اور ماڈل کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو ریجڈ ٹرکس (2 ایکسل اور 3 ایکسل ٹرک) مجموعی فلیٹ کا 45.7 فیصد (161840) ہیں جبکہ چھوٹے منی ٹرکس کا حصہ 29.2 فیصد (103257)ہے ۔ ملٹی ایکسل ارٹیکولیٹڈ ٹرکس 16.9 فیصد (60003) اور آئل ٹینکرز مجموعی فلیٹ کا 8.2 فیصد (29120) ہیں۔
گاڑیوں کی بناوٹ اور مینوفیکچرنگ میں ہینو (Hino) مارکیٹ میں سب سے زیادہ ہے جس کا حصہ 26.4 فیصد (93609 گاڑیاں) ہے ۔ نسان 11.5 فیصد (40886)، بیڈفورڈ/فورڈ 22.7 فیصد (80468) اور ایسوزو 6.9 فیصد (24617) کا حصہ ہے ۔ ریجڈ ٹرکس کی زمرہ بندی میں بیڈفورڈ ٹرکس اب بھی تقریباً نصف یعنی 47.4 فیصد کا حصہ رکھتے ہیں۔ ارٹیکولیٹڈ ٹرکس کی زمرہ بندی میں ہینو 43.7 فیصد اور نسان 33.7 فیصد ہے ، جبکہ آئل ٹینکرز میں ہینو کا حصہ 37.1 فیصد ہے ۔ منی ٹرکس کی مارکیٹ میں مزدا کا غلبہ ہے ، جس کا حصہ 19 فیصد ہے ۔رپورٹ میں گاڑیوں کے ماڈل اور حالت سے متعلق ڈیٹا کے مطابق 1981 سے 1990 کے درمیان تیار کردہ ٹرک مجموعی فلیٹ کا 22.6 فیصد (80124 گاڑیاں) ہیں جبکہ 1991 سے 2000 کے دوران بنے ٹرک 22.5 فیصد (79502) ہیں۔ اس کے مطابق سڑکوں پر چلنے والے تقریباً 45.1 فیصد ٹرک کم از کم تین دہائیاں پرانے ہیں۔ 2001 سے 2010 کے درمیان بنے ٹرکس کا حصہ 19.2 فیصد (67797) اور 2011 سے 2020 کے دوران بنے نئے ٹرکس کا حصہ محض 12.8 فیصد (45220)ہے ۔ 1980 سے قبل کی گاڑیاں بھی مجموعی فلیٹ کے ایک بڑے حصے پر مشتمل ہیں۔پاکستان میں ٹرک مینوفیکچرنگ کی تاریخ بتاتی ہے کہ 1995-96 سے 2014-15 کے درمیان سالانہ پیداوار 5346 رہی جبکہ 2017-18 کے دوران پیداوار کی بلند ترین سطح ریکارڈ کی گئی۔
جب ایک ہی سال میں 9326 ٹرک تیار کیے گئے تاہم اس کے بعد پیداوار میں شدید کمی دیکھنے میں آئی اور سال 2020-21 میں یہ صرف 3808 ٹرکوں تک محدود رہ گئی۔پاکستان آٹو موبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے ریکارڈ کے مطابق 2007 سے 2021 کے درمیان کل 61179 ٹرک تیار کیے گئے جن میں ہینو نے 25108، ایسوزو نے 18672، ماسٹر نے 11379 اور نسان نے 5675 ٹرک بنائے ۔ وولوو نے 1999 اور ڈونگ فینگ نے 2009 میں اپنی پیداوار ختم کر دی تھی، جبکہ جے اے سی (JAC) نے 2019 میں پیداوار شروع کی اور کل 342 ٹرک تیار کیے ۔مقامی غیر رسمی مینوفیکچرنگ میں استعمال شدہ مواد سے ٹرک کی باڈی کی تیاری پر 10 سے 15 لاکھ روپے لاگت آتی ہے جبکہ یورو ٹو (Euro II) معیارات پر پورا اترنے والے دوسرے ممالک سے برآمد شدہ سیکنڈ ہینڈ ٹرک کی لاگت 70 سے 80 لاکھ روپے بنتی ہے ۔رپورٹ کے مطابق پرانی اور غیر مؤثر گاڑیوں پر انحصار نہ صرف روڈ انفراسٹرکچر کے لیے تباہ کن ہے بلکہ تجارتی کارکردگی اور علاقائی رابطہ کاری میں بھی رکاوٹ ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments