سرکاری گندم نایاب ، ریٹ 5 ہزار روپے من تک جاپہنچا، آٹااور روٹی بھی مہنگی
لاہور میں گندم مقررہ قیمت سے 1200 روپے مہنگی بیچی جا رہی، 10 کلو آٹے کا تھیلا 1130میں فروخت، 20 کلو کا نایاب سادہ روٹی14کے بجائے 25 روپے میں فروخت ، شہریوں کی جیبوں پر روزانہ لاکھوں کا بوجھ،کارروائیاں جاری :ڈی جی فوڈ پنجاب
لاہور (عمران اکبر)رواں مالی سال کے دو ماہ پانچ روز گزرنے کے باوجود مہنگی گندم، آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں کمی نہ آسکی، گندم کا ریٹ 5 ہزار روپے فی من تک پہنچ گیا جبکہ سرکاری گندم کی دستیابی نہ ہونے کے برابر رہ گئی، پاسکو نے بھی گندم جاری نہ کی جس کے باعث پنجاب بھر میں گراں فروشی کا سلسلہ جاری ہے ،فوڈ سیفٹی ، پیرا اور ضلعی انتظامیہ کی کارروائیوں بے اثر، شہریوں کی جیبوں پر روزانہ لاکھوں روپے کا اضافی بوجھ پڑ نے لگا۔ پنجاب میں سرکاری گندم کا فی من ریٹ 3800 روپے مقرر ہے تاہم پاسکو کی جانب سے سرکاری گندم جاری نہ کیے جانے کے باعث محکمہ خوراک کے پاس گندم نہ ہونے کے برابر رہ گئی جبکہ لاہور سمیت متعدد اضلاع میں گندم 1200 روپے اضافی ریٹ پر 5 ہزار روپے فی من فروخت کی جا رہی ہے ، رحیم یار خان میں گندم کی قیمت 5200 روپے فی من تک پہنچ چکی ، گندم کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیگر بڑے شہروں میں بھی برقرار ہے ، اسلام آباد میں گندم 5100 روپے ، پشاور میں 5200 روپے جبکہ کراچی میں 5100 روپے فی من تک فروخت ہو رہی ہے۔
دوسری جانب گراں فروشی کے خلاف فوڈ سیفٹی، پیرا اور ضلعی انتظامیہ کی کارروائیوں کے باوجود مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ برقرار ہے ، 10 کلو آٹے کا تھیلا 1130 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے ،لاہور سمیت دیگر شہروں میں 20 کلو کا تھیلا نایاب ہو چکا ، 15 کلو آٹے کا تھیلا 2200 روپے میں سپلائی و ڈیمانڈ سے زائد قیمت پر مارکیٹ میں دستیاب ہے ۔اسی طرح سادہ روٹی بھی مقررہ قیمت 14 روپے کے بجائے 20 سے 25 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے جس سے شہریوں کے روزمرہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگیا اور محکمہ فوڈ سیفٹی کے اعدادوشمارمحض دعو ے رہ گئے ۔ادھر ڈی جی فوڈ پنجاب امجد حفیظ کا دعویٰ ہے کہ پنجاب بھر میں تمام فلور ملز معمول کے مطابق فعال ہیں اور آٹے کی پسائی مسلسل جاری ہے ،مارکیٹ میں آٹے کی دستیابی اور سپلائی چین برقرار رکھنے کیلئے تمام ضروری اقدامات مکمل ہیں،آٹے کی سپلائی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہونے دی جائے گی،ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف متعلقہ ادارے متحرک اور قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments