ایس ایم ایز کیلئے قرضوں کا حجم 23 ارب سے بڑھ گیا :وزیر خزانہ
پاکستان امداد پر انحصار سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہو رہا ہے محمد اورنگزیب کی مائیکروفنانس کانفرنس ، فنانس سٹیئرنگ کمیٹی اجلاس میں گفتگو
کراچی (اے پی پی)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معاشی استحکام، پائیدار اقتصادی ترقی، ڈھانچہ جاتی اصلاحات، تجارت و سرمایہ کاری، نئی معیشت اور مالی سہولیات تک رسائی حکومت کی چھ اہم ترجیحات ہیں۔پاکستان مائیکروفنانس نیٹ ورک کی 10ویں سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے د ہرے خسارے جو بلند ترین سطح پر جی ڈی پی کے تقریبا 12.5 فیصد تک پہنچ گئے تھے ، گزشتہ مالی سال کے اختتام پر کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گئے ، ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر کی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گئے ہیں جو تقریبا تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ پاکستان امداد پر انحصار سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہو رہا ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ایس ایم ایز، زراعت اور سستی رہائش کے لیے مالی معاونت بڑھانے کے لیے کمرشل بینکوں اور مائیکروفنانس شعبے کے درمیان مضبوط تعاون ضروری ہے ۔ زرعی شعبے اور ایس ایم ایز میں نئے قرض لینے والوں کی تعداد بڑھانا مائیکرو فنانس شعبے کی اہم ترجیح ہونی چاہیے ۔ برآمدی ری فنانس کی حد ایک کھرب روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ کھرب روپے کر دی گئی ہے جبکہ نئی حد کا 20 فیصد ایس ایم ایز کے لیے مختص ہے ۔ دریں اثنا وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت ایکسیس ٹو فنانس سٹیئرنگ کمیٹی کا پانچواں اجلاس ہوا جس کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ ایس ایم ایز کیلئے قرضوں کا حجم 23 ارب روپے بڑھ گیا ہے ۔اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ جون میں ایس ایم ای فنانسنگ 1.114 ٹریلین روپے تھی، ستمبر 2026 میں 1.137 ٹریلین روپے ہوگئی، ایس ایم ای قرض لینے والوں کی تعداد 25 ہزار سے زائد بڑھ کر 3 لاکھ 50 ہزار 862 ہوگئی ہے ۔ اعلامیہ کے مطابق وزیرخزانہ نے ایس ایم ای فنانسنگ میں مزید تیزی لانے کی ہدایت کر دی ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments