خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی فوری نظر نہیں آ رہی

خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی فوری نظر نہیں آ رہی

دونوں فریقوں کی حکمت عملی کا انحصار لانگ مارچ کے شرکا کی تعداد پر ہوگا

(تجزیہ:سلمان غنی)

وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنا اﷲنے ریاستی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں مگر ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا ،رانا ثنا اﷲ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہی ہے جس بنا پر تناؤ کی صورتحال طاری ہوئی، انہوں نے اسلام آباد لانگ مارچ کو پی ٹی آئی کی سیاست کا حصہ قرار  دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ سلسلہ 2014 سے جاری ہے اور اس کا مقصد ملک میں عدم استحکام طاری کرنا ہے اس طرز عمل کو حکومت برداشت نہیں کرے گی، رانا ثنا اﷲ کے خیالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت سیاسی طرز عمل کا مظاہرہ تو کر رہی ہے لیکن دہشت گردی پر طے شدہ پالیسی پر کسی قسم کی لچک اور ڈھیل کے موڈ میں نہیں اور خصوصاً پی ٹی آئی کی اسلام آباد کے لئے مارچ کو کسی خاص ایجنڈا کا حصہ سمجھتے ہوئے اس پر کمپرومائز کے لئے تیار نہیں اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو کشیدگی کا باعث ہے جس میں کمی نظر نہیں آ رہی اور فریقین اپنے اپنے موقف پر کاربند نظر آ رہے ہیں۔ فریقین کے لئے یہ سمجھنا اور آگے بڑھنا ضروری ہے کہ یہ مذاکرات کسی کو دبانے کی نیت سے نہیں بلکہ مسائل کا حل نکالنے کی خواہش کے تحت نیک نیتی سے ہونے چاہئیں۔

ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ مذاکرات کبھی مشروط نہیں ہوتے مشکل مذاکرات اگر شرائط سے مشروط ہوں تو وہ ناکام ہو جاتے ہیں اچھی بات یہ نظر آ رہی ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار فریقین مذاکرات کی بات بھی کرتے نظر آ رہے ہیں مطلب کہ وہ کسی انجانے خوف کا شکار بھی ہیں مذاکراتی عمل کے حوالے سے طے شدہ معاملات پر نظر دوڑائی جائے تو لگتا تھا کہ حکومت نے اپوزیشن اور پی ٹی آئی سے شرائط منوانی ہیں، پی ٹی آئی نے تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات والے معاملے پر لچک بھی دکھا دی لیکن 72گھنٹوں والی شرط نے مسائل پیدا کئے ۔ پی ٹی آئی سے لانگ مارچ کے خاتمہ کا مطالبہ ہوا تو اس پر مذاکراتی ٹیم کے رہنما کسی حد تک تیار تھے لیکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ’’میں نہ مانوں‘‘کی ڈگر پر قائم رہے اور ان کی جانب سے کسی بڑے آپریشن پر غیر مشروط حمایت سے انکار نے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں، پی ٹی آئی کی جانب سے اپنا احتجاج خیبر پختونخواکے اندر ہی جاری رکھنے کے عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اب بھی سمجھتی ہے کہ حکومتی دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود بعض معاملات پر پیش رفت ہو سکتی ہے ۔حکومت اور ریاست کی سرگرمیوں سے بھی اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ آئینی آپشنز کے حوالے سے ممکنہ تیاریوں کے باوجود کسی بھی حتمی اقدام سے پہلے حالات کا گہرائی سے جائزہ لیں گے اور وہ یہ ضرور دیکھیں گے کہ پی ٹی آئی کی کتنی احتجاجی صلاحیت ہے اور کیا انہیں عام آدمی کی سپورٹ بھی حاصل ہے ، ویسے تو خیبر پختونخواکی حد تک آنے والی رپورٹس سے یہ بات تو عیاں ہے کہ کسی بھی جگہ احتجاجی مارچ میں تعداد چند ہزار سے زائد نہیں تھی لیکن کہتے ہیں کہ سیاسی مارچ میں لاکھوں کے دعوے میڈیا کے لئے ہوتے ہیں عملاً اس کے لئے چند ہزار بھی بہت ہوتے ہیں ۔

دونوں فریقوں کی حکمت عملی کا انحصار مظاہرین کی تعداد پر ہوگا،فی الحال خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ فوری نظر نہیں آ رہا اور اس کی بڑی وجہ خود اعلیٰ سطح پر حکومتی و سیاسی حلقوں میں کنفیوژن ہے ۔حکومت کے بعض اتحادی خصوصاً پیپلز پارٹی اس پر تحفظات کا اظہار کرتی نظر آ رہی ہے جن کا کہنا ہے کہ پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے اثرات سے دوسرے صوبے بچ نہ پائیں گے مگر بظاہر حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آ رہا اور ایسے خطرات بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ اگریہ اقدامات بھی کارگر نہ ہوئے تو پھر کیا ہوگا کیونکہ خیبر پختونخوا کی حکومت اپنی سیاسی طاقت کے ساتھ دفاعی محاذ پر آنے کو تیار نہیں البتہ ایک بات جو خود پی ٹی آئی اور اس کی حکومت کے آگے بڑا سوالیہ نشان بن کر کھڑی ہے وہ خود صوبہ میں امن و امان کی دگرگوں صورتحال اور خصوصاً دہشت گردی کے سدباب میں اس کی غفلت ہے ۔دہشت گردی کے حوالے سے ملک بھر میں عمومی رائے یہی ہے کہ جس جذبہ اور ولولہ سے مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے اس کے قلع قمع کے لئے سرگرم ہیں ایسے میں حکومتوں اور خصوصاً خیبرپختونخواکی حکومت کیونکر اپنا کردار ادا نہیں کر رہی اور حکمرانوں کی جانب سے پی ٹی آئی پر آنے والا یہی بڑا الزام اس کی دیگر صوبوں میں سیاست پر بھی اثر انداز ہوا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...