اسلام آباد بلدیاتی انتخابات کے لئے قانون سازی،الیکشن کا حکومت کو مراسلہ لکھنے کا فیصلہ

اسلام  آباد بلدیاتی انتخابات کے لئے  قانون سازی،الیکشن  کا  حکومت  کو  مراسلہ  لکھنے  کا فیصلہ

آرڈیننس کی مدت مکمل، پارلیمنٹ سے منظوری نہ ہوئی تو انتخابات 2015 کے قانون کے تحت کرانے ہوں گے نئے نظام میں موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جگہ اسلام آباد میں تین ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جائیں گی

اسلام آباد (ایس ایم زمان) الیکشن کمیشن پاکستان نے اسلام آباد میں مقامی حکومت کے انتخابات کے انعقاد کے لیے قانون سازی کے سلسلے میں وفاقی حکومت کو مراسلہ لکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وفاقی وزارت داخلہ کا اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس 2026 اپنی مدت مکمل کر چکا ہے جبکہ اس کی پارلیمنٹ سے منظوری نہیں ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق منظوری نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد میں مقامی حکومت کے انتخابات 2015 کے قانون کے تحت کرائے جائیں گے ۔ترمیمی آرڈیننس کے تحت اسلام آباد میں موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جگہ تین ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جائیں گی۔ ہر ٹاؤن کارپوریشن جہاں تک ممکن ہو اسلام آباد کی حدود میں موجود قومی اسمبلی کے ایک حلقے کی علاقائی حدود کے مطابق ہوگی۔ یونین کونسلوں کی تعداد حکومت آبادی، تازہ ترین مردم شماری اور انتظامی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کرے گی۔ حکومت ضرورت کے مطابق یونین کونسلوں کی حدود مقرر، تبدیل، ضم یا ختم بھی کر سکے گی تاہم انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد حدود میں تبدیلی نہیں کی جا سکے گی۔

نئے نظام کے تحت ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر، دو ڈپٹی میئر، یونین کونسلوں کے چیئرمین، چار خواتین، ایک کسان یا مزدور، ایک تاجر یا کاروباری شخص، ایک نوجوان اور ایک غیر مسلم رکن شامل ہوگا۔ یونین کونسل کے جنرل ارکان کا انتخاب بالغ حق رائے دہی اور خفیہ رائے شماری سے ہوگا۔ ہر یونین کونسل کو کثیر رکنی وارڈ تصور کیا جائے گا اور سب سے زیادہ ووٹ لینے والے نو امیدوار جنرل ارکان منتخب ہوں گے ۔یونین کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب جنرل اور مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان ہاتھ اٹھا کر کریں گے ۔ اسی طرح ٹاؤن کارپوریشن کے ارکان میئر اور دو ڈپٹی میئر منتخب کریں گے ۔ مقامی حکومت فعال نہ ہونے کی صورت میں حکومت منتظم مقرر کر سکے گی، جو منتخب حکومت کے عہدہ سنبھالنے تک اختیارات استعمال کرے گا۔مقامی حکومت کو ٹیکس، فیس، شرح، کرایہ، ٹول، چارج یا سرچارج عائد کرنے کا اختیار ہوگا، تاہم ٹیکس کی تجویز حکومت کی جانچ کے بعد مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت نافذ ہوگی۔ آرڈیننس کا مقصد اختیارات اور ذمہ داریاں نچلی سطح تک منتقل کرکے مقامی طرز حکمرانی اور عوامی خدمات کو بہتر بنانا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...