معاشی استحکام برقرار، 1 ارب 21 کروڑ ڈالر کا سٹاف لیول معاہدہ، پٹرول سبسڈی جلد ختم کی جائے : آئی ایم ایف
مشرق وسطٰی بحران سے شرح ترقی متاثر،3.6فیصد تک رہی، فیول سپورٹ صرف مستحقین تک محدود کی جائے ،ترسیلات زر نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رکھا مئی میں مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر رہی،پاکستان زرمبادلہ ذخائر بڑھائے ،توانائی شعبے میں واجبات وصولی کو بہترکریں،پیداواری لاگت میں کمی لائی جائے :اعلامیہ
اسلام آباد(مدثرعلی رانا)عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف )اور پاکستان کے درمیان 1 ارب 21 کروڑ ڈالر قسط کیلئے سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد رقم سٹیٹ بینک اکاؤنٹ میں رواں ماہ ہی منتقل کردی جائے گی۔ آئی ایم ایف نے اقتصادی جائزہ مذاکرات کا اعلامیہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ای ایف ایف پروگرام کے تحت پاکستان نے مشرق وسطٰی کے تنازع کے اثرات سے کامیابی سے نمٹا ہے اور مضبوط پالیسیوں کے باعث معاشی استحکام برقرار رہا،آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ پٹرول سبسڈی جلد ختم کی جائے۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان نے معاشی اہداف کے حصول کیلئے بہترین کوششیں کیں، اصلاحات کا عمل تیز تر ہوا، پاکستان کے ساتھ موجودہ ای ایف ایف پروگرام کی پانچویں قسط کیلئے چوتھا جبکہ آر ایس ایف پروگرام کے تحت تیسرے جائزے کیلئے مذاکرات ہوئے، پاکستان کو موجودہ قرض پروگرام ای ایف ایف کی 5 ویں قسط کے طورپر 1ارب ڈالر اور موسمیاتی تبدیلیوں کے پروگرام آر ایس ایف کی چوتھی قسط کے طورپر 21 کروڑ ڈالر مل سکیں گے ،یہ اقساط ملنے کے بعد دونوں پروگرامز سے مجموعی طورپر ملنے والی کل رقم 5اعشاریہ 7 ارب ڈالر ہو جائے گی۔
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کی پہلی تین سہ ماہی میں جولائی سے مارچ 2026 معاشی ترقی 4 فیصد رہی، مشرق وسطٰی بحران کی وجہ سے پاکستان کی شرح نمو متاثر ہوئی اور 3اعشاریہ 6 فیصد رہی، مئی 2026 میں پاکستان میں افراط زر کی شرح بلند ترین سطح پہ پہنچی، سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر سے پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کنٹرول رہا۔ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی پٹرول سبسڈی سکیم کو مرحلہ وار ختم کیا جائے ، اسے مزید وسعت نہ دی جائے ، پٹرول کی سبسڈی سکیم صرف مستحقین تک محدود کی جائے ، آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ پاکستان توانائی کی اصلاحات پر عمل درآمد جاری رکھے اور واجبات کی وصولی بہتر کرے ، پاکستان توانائی کے شعبے میں پیداواری لاگت میں کمی کیلئے اقدامات کرے ، گیس سیکٹر میں وصولیاں بہتر نقصانات میں کمی کی جائے ۔
آئی ایم ایف کا اعتراض ہے کہ پاکستان میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں اخراجات اہداف سے کم ہیں، مالی سال2025 میں صحت عامہ اور تعلیم پر معیشت کا محض 2اعشاریہ 2 فیصد اور مالی سال 2026 میں صحت عامہ اور تعلیم پر معیشت کا محض 2اعشاریہ 5 فیصد خرچ ہوا۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان رواں مالی سال 2027 میں صحت عامہ اور تعلیم پر معیشت کا 2اعشاریہ 8 فیصد خرچ کرے ۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو آئندہ سال کیلئے 5 اہم ترجیحات بتائی ہیں جس میں ٹیکس نظام بہتر کر کے قرضوں میں کمی، مالیاتی انتظام میں شفافیت، صحت و تعلیم پر خرچ 2اعشاریہ 2 سے بڑھا کر 2اعشاریہ 8 فیصد کرنا اور غریب گھرانوں کیلئے کیش امداد، سٹیٹ بینک کا سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھنا اور ایکسچینج ریٹ میں لچک، بجلی اور گیس کے شعبے میں اصلاحات اور گردشی قرضے پر قابو پانا شامل ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments