لانگ مارچ کا اگلا مرحلہ آج پشاور سے شروع : فضل الرحمن مذاکرات میں ڈیڈ لاک ختم کرانے کیلئے متحرک

لانگ مارچ کا اگلا مرحلہ آج پشاور سے شروع : فضل الرحمن مذاکرات میں ڈیڈ لاک ختم کرانے کیلئے متحرک

صوبے کا فیصلہ بند کمروں میں نہیں ہونا چاہئے : آفریدی، حکومتی کمیٹی کی مولانا سے ملاقات کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش ملک انارکی سے بچانے کیلئے سیاسی مفاہمت کی طرف بڑھنا ہوگا :گوہر، بانی سے ملاقات ضروری :علامہ ناصر ، اچکزئی کا رابطہ

پشاور،اسلام آباد(دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک )پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا اگلا مرحلہ آج پشاور کے حیات آباد ٹول پلازہ سے دن 2بجے شروع ہو گا اور یہ رات 9 بجے چارسدہ روڈ پہنچے گا، اگلی صبح پھر چارسدہ روڈ سے دوبارہ شروع ہو کر ضلع چارسدہ میں داخل ہوگا۔اس حوالے سے وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی نے جاری اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ صوبے کے مستقبل کا فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے ، بند کمروں میں نہیں،پشاور کے عوام لانگ مارچ کے اگلے مرحلے میں بھرپور شرکت کر کے سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کریں۔

انہوں نے کہا کہ پختونخوا حکومت ایسی کسی پالیسی کو قبول نہیں کرے گی جس کے نتیجے میں پختونخوا میں دوبارہ بدامنی، دہشت گردی اور خونریزی کا راستہ ہموار ہو ،پشاور کو دوبارہ تشدد، گولیوں اور دھماکوں کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ واضح رہے 4اکتوبر کو لکی مروت سے شروع تحریک انصاف کا لانگ مارچ پختونخوا کے مختلف اضلاع سے گزرتے ہوئے اسلام آباد جانے کیلئے آگے بڑھ رہا ہے۔ادھر وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں گزشتہ روز وی آئی پی نقل و حرکت، تاجروں کے متوقع احتجاج اور کرکٹ ٹیم کی آمدورفت کے باعث بعض علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ فی الوقت اسلام آباد اور راولپنڈی کی تمام مرکزی سڑکیں اور موٹرویز کھلی ہیں۔

 اسلام آباد ،پشاور(دنیا نیوز،این این آئی،آن لائن،مانیٹرنگ ڈیسک )حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات کرانے اور ڈیڈ لاک کے خاتمہ کیلئے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی متحرک، کردار ادا کرنے کو تیار ہوگئے ،ادھر اپوزیشن قائدین نے حکومت سے مذاکرات کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کیساتھ ملاقات سے مشروط کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی ہے۔ کمیٹی نے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے مصالحانہ کردار کیلئے رضا مندی، پیش شرائط سے وزیراعظم کو آگاہ کردیا اورخصوصی پیغام بھی پہنچایا،مولانا فضل الرحمن نے ثالث بننے کیلئے فریقین کو اپنی بنیادی شرائط سے آگاہ کرتے کہا ہے کہ پہلے وہ جائزہ لیں گے کہ دونوں فریق مسئلے کے حل میں کتنے سنجیدہ ہیں،اگر فریقین ایک دوسرے کے موقف کو تسلیم کریں تو درمیانی راستہ نکل آئے گا تاہم اگر ڈیڈلاک برقرار رہا اور لانگ مارچ کے خلاف طاقت کا استعمال ہوا تو کچھ نہیں بچے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ اور ملاقات بھی متوقع ہے ۔ دوسری طرف ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ سے قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ ناصر عباس سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور آل پارٹیز کانفرنس پر مشاورت کی ، دونوں نے حکومت کے ساتھ مذاکرات سے متعلق حکمت عملی پر بھی مشاورت کی۔ ادھر چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے رابطے کی تردید کردی جبکہ انہوں نے گزشتہ روز چارسدہ میں صوبائی وزیر فضل شکور کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور صوبائی وزیر فضل شکور کی جبری گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہماری جماعت کی کوشش ہے کہ بہتری کی طرف جائیں اور جمہوریت ڈی ریل نہ ہو تاہم اگر معاملات اسی طرح گمبھیررہے تو اس کا انجام بہتر نہیں ہو گا ، کسی بھی اقدام کیخلاف جواب دینے کیلئے پی ٹی آئی نے صف بندی کر رکھی ہے ،ہماری جماعت خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھی حالانکہ وہ اپنے لیڈر سے ملاقات نہ ہونے کی صورت میں مذاکرات میں بیٹھنا نہیں چاہتے تھے ۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہماری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے مولانا فضل الرحمٰن ہمارے ساتھ اتحاد میں ہوں اور انہیں اتحاد میں شامل کرنے کی بڑی کوششیں کیں ، میرا مولانا فضل الرحمن سے کوئی رابطہ ہوا نہ ہی ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی، اس وقت ڈیڈ لاک ہے اور چیزیں بہتری کی طرف نہیں جا رہیں ۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ موجودہ حالات کا حل ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں ، پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگا تو صوبے میں تناؤ بڑھے گا۔ صوبہ پہلے ہی بہت گمبھیرصورتحال سے گزر رہا ہے ، اختیارات نام کی کوئی چیز نہیں، پہلے ہی غیر اعلانیہ گورنر راج ہے ،دہشتگردی عروج پر ہے ، یہ وقت نہیں کہ ایسے اقدامات کئے جائیں۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ عدلیہ، پارلیمان اور اسمبلی پر لوگوں کا اعتماد اٹھ چکا ، اگر نظام اسی طرح چلانا ہے تو واقعی وقت آگیا ہے اسے ری سیٹ کرنے پر غور کیا جائے ، صوبائی وزیرفضل شکور کواٹھایا گیا جوانتہائی افسوسناک بات ہے ، آج 18 واں دن ہے لیکن ان کے اہلخانہ کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں ،ہر پاکستانی اور ہرصوبے کے وزیراعلیٰ کو سوچنا چاہیے کہ اگر آج یہ خیبرپختونخوا میں ہو رہا ہے تو کل سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں بھی ہو سکتا ہے ، ایسا نہیں ہونا چاہیے ،جبری گمشدگیاں ختم ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے حکومت پرزوردیا کہ بڑی ایمانداری، خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ بغیرکسی شرط کے مذاکرات کی میز پر بیٹھا جائے ، اب بھی وقت ہے قوم اوراقتدارمیں موجود لوگ اس معاملے کو دیکھیں،حکومت اور اپوزیشن دونوں کی گاڑیاں کچے میں پھنسی ہوئی ہیں ،عوام کی گاڑی موٹروے پر چڑھنی اور جمہوریت کی پٹڑی پر عوام کو چلنا چاہیے ،اگر اس برائے نام بچی کھچی جمہوریت کو بچانا ہے تو انا کو جانے دینا ہوگا ، ملک کو انارکی کی طرف جانے سے روکنے کیلئے انا کوایک طرف رکھ کر مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کی طرف بڑھنا ہوگا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کیلئے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ناگزیر ہے کیونکہ بانی کی توثیق کے بغیر مذاکرات بے معنی ہوں گے ۔ بیرسٹر گوہر کی وفاقی وزیر داخلہ سے ملاقات کی تصدیق کرتے انہوں نے کہا کہ ملاقات کا مقصد فریقین کے درمیان کچھ مشترکہ نکات اور ایجنڈا تیار کرنے کی کوشش کرنا تھا ،مذاکرات ختم ہونے کے بعد میرا کسی سرکاری شخصیت سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کا مقصد انہیں صرف آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینا تھا ۔ ادھر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف درخواست مضحکہ خیز ہے ، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوجائے تو ملکی مفاد کے بڑے فیصلہ ہوسکتے ہیں ،لانگ مارچ سیاسی عمل اور ہمارا قانونی وآئینی حق ہے کیوں دستبردار ہوں ۔ پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت یا فضل الرحمن کی جانب سے مذاکرات پر کوئی رابطہ نہیں ہوا ۔ اپوزیشن اتحاد کے ترجمان اخوانزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات سے متعلق کوئی اجلاس نہیں بلایا ،مذاکرات کا مکمل اختیار محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے پاس ہے ۔پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرت سے متعلق کوئی زوم اجلاس بلایا نہ مجھے اس کا علم ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...