پنشن کیلئے ای او بی آئی کی شرائط پوری کرنا لازم : وفاقی آئینی عدالت
قانونی اہلیت ہمدردی کی بنیاد پر ختم نہیں ہو سکتی، اسلام آباد ہائیکورٹ، وفاقی محتسب اور صدر کے احکامات کالعدم قرار پنشن کیلئے 15سال کی شراکت درکار،درخواست گزار کی بیمہ شدہ ملازمت چھ سال سے بھی کم تھی:تحریری حکمنامہ
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)ای او بی آئی قانون کی لازمی شرائط پوری نہ کرنے والے کو پنشن نہیں دی جا سکتی، وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ پنشن کے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والے شخص کو پنشن دینے کا حکم نہیں دیا جا سکتا، جبکہ قانونی حق کے تنازع کو محض بدانتظامی قرار دے کر وفاقی محتسب کا دائرئہ اختیار نہیں بڑھایا جا سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے ای او بی آئی کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ، وفاقی محتسب اور صدر پاکستان کے احکامات کالعدم قرار دے دیئے۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے تین رکنی بینچ کا 12 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ تحریر کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے عمر اعجاز گیلانی پیش ہوئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ وفاقی محتسب پنشن کی اہلیت طے کرنے کے لیے مخصوص قانونی طریقہ کار کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ پنشن کی درخواست مسترد ہونا بذات خود بدانتظامی نہیں، بدانتظامی کے لیے من مانی، امتیازی سلوک، غفلت یا بلاجواز تاخیر جیسے عناصر کا ہونا ضروری ہے ۔تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ قانون کے لازمی تقاضوں پر عمل سے درخواست گزار کو نقصان پہنچنا بدانتظامی نہیں بن جاتا۔
قانونی اہلیت کی لازمی شرط ہمدردی یا انصاف کے عمومی تصور کی بنیاد پر ختم نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے قرار دیا کہ ای او بی آئی قانون کے تحت پنشن کے لیے عمومی طور پر کم از کم 15 سال کی شراکت درکار ہے ، جبکہ یکم جولائی 2008 یا اس کے بعد بیمہ شدہ ملازمین پر پانچ سال کی خصوصی رعایت لاگو نہیں ہوتی۔تحریری حکم نامے کے مطابق جاوید اقبال بھٹی کی بیمہ شدہ ملازمت چھ سال سے بھی کم تھی، اس لیے وہ پنشن کے حق دار نہیں تھے ۔ پہلے دی گئی 48 ہزار روپے کی اولڈ ایج گرانٹ بھی پنشن کا حق پیدا نہیں کرتی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments