کرنٹ سے ہاتھ ضائع، پیسکو کوعلاج کے اخراجات دینے کاحکم

کرنٹ سے ہاتھ ضائع، پیسکو کوعلاج کے اخراجات دینے کاحکم

سہولت دستیاب نہ ہوئی تو کمپنی کوبیرون ملک اخراجات ادا کرنا ہونگے :ہائیکورٹ کمپنیوں کی ذمہ داری صرف بلا تعطل بجلی فراہمی نہیں، حفاظتی تقاضے بھی پورا کرنے ہیں چارسدہ میں11ہزار وولٹ بجلی لائن گرنے سے بچی لُبابہ جھلس گئی اوردونوں ہاتھ ضائع ہوگئے

اسلام آباد (اپنے نامہ نگارسے ) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اعظم خان نے بجلی کے کرنٹ سے دونوں ہاتھ گنوانے والی 9 سالہ بچی لُبابہ کے علاج اور بحالی سے متعلق صدر کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے پیسکو کو بچی کی جامع طبی جانچ، جدید مصنوعی اعضا کی فراہمی ، علاج اور بحالی کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا پابند قرار دے دیا ہے ۔ جسٹس اعظم خان نے پیسکو کی درخواست پر 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ،جس میں قرار دیا گیا کہ متاثرہ بچی کو آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن، راولپنڈی سے جامع طبی معائنے کی سہولت فراہم کی جائے ،پیسکو بچی کے علاج، جدید مصنوعی اعضا اور بحالی کے تمام اخراجات برداشت کرے گی۔

اگر ضروری علاج یا مصنوعی سہولت پاکستان میں دستیاب نہ ہوئی تو کمپنی کو بیرون ملک علاج کے اخراجات بھی ادا کرنا ہوں گے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ذمہ داری صرف صارفین کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ انسانی جانوں کی حفاظت اور حفاظتی تقاضوں کو پورا کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے ۔ عدالت نے پیسکو کی درخواست خارج کرتے ہوئے صدرِ پاکستان کے 30 اکتوبر 2025 کے فیصلے کو برقرار رکھا، جس میں کمپنی کو بچی کے علاج اور مصنوعی اعضا کے انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی تھی ۔ مقدمے کے مطابق جولائی 2021 میں خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے علاقے پیر قلعہ میں 11 ہزار وولٹ کی بجلی کی لائن گرنے سے بچی لُبابہ شدید جھلس گئی تھی، حادثے کے نتیجے میں اس کے دونوں ہاتھ کاٹنے پڑے اور وہ مستقل معذوری کا شکار ہو گئی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...