کراچی کی تباہی پرچیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا کے سوالات

کراچی کی تباہی پرچیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا کے سوالات

شہر کا وفاقی محصولات میں تقریباً 67 فیصد اور ملکی برآمدات میں 54فیصد حصہ سڑکیں تباہ، پانی نایاب، تباہ حال سیوریج نظام اور بے لگام اسٹریٹ کرائم کیوں

کراچی(کامرس رپورٹر)چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا نے کراچی کو سنگین شہری و معاشی بحران سے نکالنے کیلئے فوری اور مربوط اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ پاکستان کا معاشی مرکز جو وفاقی محصولات میں تقریباً 67 فیصد اور ملکی برآمدات میں 54 فیصد حصہ ڈالتا ہے یہ شہر خستہ حال، سڑکوں، پانی کی شدید قلت، غیر یقینی یوٹیلیٹی سروسز، تباہ سیوریج نظام اور بے لگام اسٹریٹ کرائم کا شکار کیوں ہے؟ کراچی کے تجارتی اداروں اور صنعتی ٹاؤن ایسوسی ایشنز کے سرپرستِ اعلیٰ، صدور، سیکرٹری جنرلز اور نمائندوں کے اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب میں مقررہ مدت میں اقدامات، ادارہ جاتی احتساب اور حقیقی معنوں میں نتائج کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا کراچی کو وعدوں نہیں، عملی کام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بجلی اور گیس کی غیر یقینی فراہمی، ناکافی انفرا اسٹرکچر اور صنعتی صلاحیت کا کم استعمال پیداواری لاگت بڑھا رہے ہیں جس سے مسابقتی صلاحیت متاثر ہورہی ہے ۔ انہوں نے کے فور منصوبے کی جلد تکمیل، مکمل فعال سیف سٹی سسٹم، کراچی بائی پاس، سڑکوں کی بحالی کی لازمی ضمانت، آزادانہ انجینئرنگ آڈٹ اور کاروبار دوست ٹیکس نظام کا مطالبہ کیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...