ایمرجنسی لگی تو سہیل آفریدی حکومت کا مستقبل خطرے میں رہیگا

 ایمرجنسی لگی تو سہیل آفریدی حکومت کا مستقبل خطرے میں رہیگا

موجودہ صوبائی حکومت وفاق سے تعاون پر تیار نہ ہی فورسز کی مدد کیلئے آمادہ

(تجزیہ:سلمان غنی)

ایوان صدر میں منعقدہ اجلاس میں آئین کے آرٹیکل232اور 234 کے تحت ایمرجنسی جنسی کے نفاذ اور گورنر راج سمیت مختلف آپشنز پر غورو خوض ہوا اور طے پایا کہ صوبہ میں امن بارے انتظامی اقدامات ناگزیر ہیں جس کے لئے آئینی طور پر پیش رفت ناگزیر ہے ۔ اجلاس میں صوبہ میں طاری حالات اور دھشت گردی کے رجحانات پر مختلف اداروں کی رپورٹس پر بھی اجلاس کو اعتماد میں لیا گیا اور بتایا گیا کہ اب آئینی  اقدامات ناگزیر ہیں ،جس پر فیصلہ ہوا کہ آج وفاقی کابینہ میں حتمی فیصلہ ہو گا۔

البتہ اب بھی ایسی اطلاعات ہیں کہ پس پردہ ایسی کوششیں جاری ہیں کہ پختونخوامیں آئینی آپشنز کو بروئے کار لانے کی بجائے صوبائی حکومت کو اپنے طرز عمل کو تبدیل کرنے اور دھشت گردی کے خلاف فورسز سے ملکر آپریشن پر آمادہ کیا جائے، اس حوالے سے تیاریاں کی گئی ہیں۔ اس حوالہ سے انتظامی مشینری کی صف بندی بھی ہو چکی ہے، البتہ ناقدین اسے سیاسی عدم استحکام اور آئینی بحران کا باعث قرار دے رہے ہیں، حکومت سمجھتی ہے کہ صوبہ میں امن و امان میں حکومت نا کام اور صوبہ عدم استحکام سے دو چار ہے ،لہذا اب وفاق کو اپنی فورسز پر اعتماد کرتے ہوئے اسکی کارکردگی پر اعتماد کرنا ہوگا۔ اس لئے کہ موجودہ صوبائی حکومت نہ وفاق سے تعاون پر تیار ہے نہ فورسز سے تعاون کے لئے تیار ہے۔

آرٹیکل232کے تحت ایمرجنسی صرف اس صورت میں لگ سکتی ہے جب صورتحال صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو اور اسے دس روز کے اندر پارلیمنٹ سے منظور کرانا لازم ہو اور اب پارلیمنٹ کا اجلاس بھی اس ضمن میں طلب کیا جا رہا ہے ،پارلیمنٹ میں حکومتی اتحادیوں کی اکثریت کے باعث اسکی تائید بھی ممکن بن پائے گی ۔مولانا فضل الرحمن سے وزیراعظم کی ملاقات بھی اسی ضمن میں ہے ،معلوم ہوا ہے کہ فضل الرحمن نے اس صورت میں ملاقات پر آمادگی ظاہر کی تھی کہ یہاں گورنر راج کا نفاذ نہ ہو اور انہیں اس حوالہ سے مطمئن کیا گیا ہے ، البتہ ایمرجنسی کی صورت میں سہیل آفریدی کی حکومت کا مستقبل خطرے میں پڑا رہے گا ،موجودہ صوبائی حکومت وفاق سے تعاون پر تیار نہ ہی فورسز کی مدد کیلئے آمادہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...