پختونخوا اسمبلی کے اختیارات 6ماہ بعد بحال :وزیر قانون

 پختونخوا اسمبلی کے اختیارات 6ماہ بعد بحال :وزیر قانون

آرٹیکل 232 کے تحت نافذ ہنگامی حالت کیلئے کوئی مدت متعین نہیں :اعظم تارڑ پی ٹی آئی کے کالعدم تحریک طالبان سے رابطوں کے بارے شواہد موجود:عطا تارڑ

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی، سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہونے تک غیر معینہ مدت تک برقرار رہے گی، اسلام آباد میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت نافذ ہنگامی حالت کے لیے کوئی مقررہ مدت متعین نہیں کی گئی تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ آرٹیکل 234 کے تحت صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات چھ ماہ بعد بحال ہو جائیں گے تاہم قانون سازی کے اختیارات بحال ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ صوبائی حکومت بھی خودبخود بحال ہو جائے گی،اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت صوبے کا انتظام غیر معینہ مدت تک اپنے ہاتھ میں رکھنے کی خواہش مند نہیں،انہوں نے کہا کہ صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال اور آئینی نظام کی ناکامی کے پیش نظر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کئے گئے ہیں،انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبے میں حالات جلد معمول پر آ جائیں گے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ صوبے میں ریکارڈ کئے گئے دہشت گردی کے واقعات کی تعداد 2021 سے 2024 کے دوران 2,911 تھی، جو 2024 سے 2026 کے عرصے میں بڑھ کر تقریباً 8,600 ہو گئی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے رابطے میں تھی،ہم پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کے درمیان ان روابط کے حوالے سے شواہد فراہم کریں گے جن کا ہم نے سراغ لگایا ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...