اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کے فیصلے کو چیلنج کردیا گیا
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سیشن عدالت شرقی میں عوام راج پارٹی کے سربراہ اور اینکر اقرار الحسن کے خلاف ریاست مخالف مواد کے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ دینے کے مجسٹریٹ کے فیصلے کو چیلنج کردیا گیا۔
اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق نے مجسٹریٹ کے حکم کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے اور این سی سی آئی اے کو جسمانی ریمانڈ کے بغیر تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت جاری کرنے کی استدعا کی ہے ۔ عدالت نے درخواست پر اسپیشل پراسیکیوٹر این سی سی آئی اے کو 15 اکتوبر کے لیے نوٹس جاری کردیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مجسٹریٹ کے فیصلے میں جسمانی ریمانڈ دینے کے لیے ٹھوس اور غیر معمولی وجوہات بیان نہیں کی گئیں جبکہ اقرار الحسن کے چار موبائل فون اور ایک ٹیبلٹ پہلے ہی این سی سی آئی اے کی تحویل میں ہیں۔ وکیل صفائی میاں علی اشفاق نے مؤقف اپنایا کہ موبائل فونز کے فرانزک تجزیے کے لیے ملزم کی جسمانی تحویل ضروری نہیں اور فرانزک تجزیے سمیت سوشل میڈیا کمپنیوں سے معلومات حاصل کرنے کی کارروائی جسمانی ریمانڈ کے بغیر بھی جاری رکھی جاسکتی ہے ۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ جسمانی ریمانڈ غیر معمولی حالات میں دیا جانا چاہیے اور سوشل میڈیا پوسٹ کی بنیاد پر کسی صحافی کو جسمانی ریمانڈ پر دینے سے آزادی اظہار پر منفی اثر پڑتا ہے ۔ وکیل صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کا حکم کالعدم قرار دیا جائے اور این سی سی آئی اے کو ہدایت کی جائے کہ وہ جسمانی ریمانڈ کے بغیر قانون کے مطابق تفتیش مکمل کرے ۔ عدالت نے درخواست پر تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے اقرار الحسن کے اہل خانہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو اقرار الحسن سے اہل خانہ کی ملاقات کرانے کی ہدایت کردی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments