پختونخوا میں ایمرجنسی، دہشتگردی خاتمے کا اصل امتحان شروع
سیاسی تعاون، حکومتی رٹ ،امن کی بحالی اور گورنر راج کی کامیابی اہم چیلنج
(تجزیہ:سلمان غنی)
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کے بعد اب ان اقدامات پر عمل درآمد اور ان کے نتائج کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے ۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد صوبے میں دہشت گردی کا خاتمہ، امن و امان کی بحالی اور حکومتی رٹ مضبوط بنانا ہے ۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ گورنر اور ان کی مشاورتی کونسل دستیاب اختیارات کو کس حد تک مؤثر انداز میں استعمال کر پاتے ہیں۔آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت مخصوص ہنگامی حالات میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی گنجائش موجود ہے ۔ تاہم غیر معمولی اختیارات کا استعمال قانونی تقاضوں، آئینی حدود اور پارلیمانی نگرانی سے مشروط ہونا چاہیے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف واضح اہداف مقرر کیے جائیں، متعلقہ اداروں میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور پیش رفت کا آزادانہ جائزہ لینے کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے عوامل گہری جڑیں رکھتے ہیں۔ ان سے نمٹنے کیلئے صرف انتظامی اقدامات کافی نہیں ہوں گے بلکہ سیاسی رہنماؤں، قبائلی عمائدین اور مختلف طبقات کو اعتماد میں لینا بھی ضروری ہے ۔ سکیورٹی اداروں کے مؤثر تعاون کے ساتھ عوامی اعتماد کی بحالی اور معمولات زندگی کو محفوظ بنانا بھی حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے ۔ایمرجنسی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ ردعمل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پارٹی کے بعض رہنما گورنر راج کے خلاف سخت ردعمل اور گورنر ہاؤس کے گھیراؤ کی باتیں کرتے رہے ، لیکن اب تک کوئی بڑا احتجاج سامنے نہیں آیا۔
اس سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ پی ٹی آئی نے فوری تصادم کے بجائے محتاط رویہ اختیار کیا ہے ۔ تاہم احتجاج نہ ہونے کو پارٹی کی عوامی حمایت ختم ہونے یا عوام کی جانب سے گورنر راج کی مکمل تائید کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔پی ٹی آئی کیلئے موقع ہے کہ وہ سیاسی اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف قومی حکمت عملی میں اپنا کردار ادا کرے ۔ دہشت گردی کسی ایک جماعت یا حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے صوبے اور ملک کی سلامتی سے جڑا معاملہ ہے ۔ سیاسی اختلافات کو قومی سلامتی کے تقاضوں پر حاوی نہیں ہونا چاہیے ۔دوسری جانب گورنر راج کی کامیابی کا معیار صرف احتجاج روکنا یا سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی کرنا نہیں ہوگا۔ اصل کامیابی دہشت گردی میں کمی، شہریوں کے تحفظ، معمولات زندگی کی بحالی اور عوام کے اعتماد میں اضافے سے ثابت ہوگی۔ اگر ان اقدامات کے باوجود دہشت گردی کا مسئلہ برقرار رہتا ہے تو حکمت عملی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ موجودہ انتظامی بندوبست کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کا موقع دیا جائے اور نتائج نہ ملنے کی صورت میں پارٹی سیاسی کردار ادا کرے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی بھی موجودہ اقدامات کے نتائج کا انتظار کر سکتی ہے۔خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی کامیابی کا فیصلہ عملی نتائج کریں گے ۔ ریاست کو دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ آئینی تقاضوں اور شہری حقوق کا احترام یقینی بنانا ہوگا، جبکہ تمام سیاسی قوتوں کو امن کے قیام کیلئے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments