توہین عدالت کارروائی میں غیر متعلقہ جواب معمولی نہیں لیا جا سکتا:اسلام آباد ہائیکورٹ
اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے)اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود شہری کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے پر توہین عدالت کی درخواست پر ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ محمد علی رندھاوا اور دیگر فریقین کو ذاتی طور پر عدالت طلب کرتے ہوئے کہا عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر متعلقہ حکام آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔
جسٹس محمد آصف کے سماعت کے جاری تحریری حکم نامہ میں کہا گیا کہ متعلقہ حکام کو ہاشم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حکم پر عملدرآمد نہ کرنے کی وضاحت پیش کریں، پاسپورٹ تجدید کی درخواست پر کارروائی کے اقدامات کی رپورٹ پیش کی جائے ، حکام کی پیش کردہ رپورٹ عدالتی حکم کی عدم تعمیل کی تسلی بخش وضاحت دینے میں مکمل ناکام رہی،توہین عدالت کی کارروائی میں غیر متعلقہ جواب داخل کرنا عدم توجہ کو ظاہر کرتا ہے جسے معمولی نہیں لیا جا سکتا، عدالت نے مزید سماعت 21 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر کی عدالت میں ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے زمان وٹو کو توہین عدالت کے ایک کیس میں جواب جمع کرانے پر دوسرے کیس میں سات روز کی مہلت دے دی۔ جواب میں زمان وٹو کاکہنا ہے کہ عدالتی حکم عدولی کا تصور بھی نہیں کرسکتا، عدالتی احکامات کی بجا آوری کیلئے مستعد اور چوکس رہوں گا، عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔
توہین عدالت کے دوسرے کیس میں چیف جسٹس سردار محمد سرفرازڈوگر نے سماعت کا ایک صفحہ پر مشتمل تحریری آرڈر جاری کیا،عدالت نے 28 اکتوبر کو دوبارہ سماعت مقرر کرتے ہوئے ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عدنان علی کو کیس میں خصوصی پراسیکیوٹر مقرر کردیا۔ ممبر زمان وٹو نے عدالت میں مبینہ طور پرغلط بیانی کی تھی۔ علاوہ ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے نیشنل اسمبلی سیکرٹریٹ ایمپلائیز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کا آفس فوری ڈی سیل کرنے اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو تعمیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے سماعت کے تحریری احکامات میں سرکل رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز کو مکمل ریکارڈ سمیت 4 نومبر کو طلب کر لیا اور کہاکہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی ہدایات پر نجی جائیداد سیل کرنے کا قانونی جواز موجود نہیں تھا، انتظامی حکام قانونی اختیار کے بغیر نجی جائیداد سیل نہیں کر سکتے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments