حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے بڑھادیئے : 3 میزائل ، 4 ڈرونز ناکارہ، نجران میں ہیلی کاپٹر گرکرتباہ، اسحاق ڈار کے ایرانی ، مصری وزراخارجہ سے رابطے

 حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے بڑھادیئے : 3 میزائل ، 4 ڈرونز ناکارہ، نجران میں ہیلی کاپٹر گرکرتباہ، اسحاق ڈار کے ایرانی ، مصری وزراخارجہ سے رابطے

سعودی ہیلی کاپٹر کے دونوں پائلٹ جاں بحق، ایک پروجیکٹائل گرنے سے 6افراد زخمی ، حوثیوں کا ہیلی کاپٹرگرانے کا دعویٰ،سعودی فوجی اتحاد کی تردید،یمن میں سرکاری فوج کی تعز محاذ پر پیش قدمی مصر ی دفاعی کونسل نے سعودیہ فوج بھیجنے کی منظوری دیدی، پارلیمنٹ میں ووٹنگ آج تک کیلئے موخر ، جی سی سی اور روس کا مشترکہ وزارتی اجلاس،آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی پر تبادلہ خیال

ریاض،صنعا،اسلام آباد،منامہ (نیوز ایجنسیاں،  وقائع نگار)حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے بڑھا دئیے ،یمن کی سرحد کے قریب سعودی جنوبی شہر نجران میں حوثی باغیوں کے داغے گئے ایک گولے کے رہائشی علاقے پر گرنے سے کم از کم 6 افراد زخمی ہوگئے ، جبکہ 3 مکانات اور 3 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔سعودی شہری دفاع کے ادارے نے ایکس پر کہا کہ اتوار کو نجران میں دشمن کی جانب سے داغے گئے گولے کے گرنے کی اطلاع پر امدادی کارروائیاں کی گئیں۔ بیان کے مطابق گولہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے داغا تھا۔حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے ۔ حوثی باغی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے ۔سعودی عرب نے اتوار کو کہا کہ اس نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغے  گئے مزید 3میزائل اور4 ڈرونزتباہ کر دئیے ہیں۔سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق فضائی دفاع نے جنوب مغربی شہر خمیس مشیط کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل تباہ کیے ۔ دارالحکومت ریاض کے قریب دو اور ملک کے تیل سے مالامال مشرقی علاقے میں ایک ڈرون بھی مار گرایا گیا۔حوثیوں کے فوجی ترجمان یحیی سریع نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ نجران کے قریب ایک سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے ، جو سرحد کے قریب حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے میں ملوث تھا۔ المالکی نے حوثیوں کا یہ دعویٰ مسترد کیا کہ انہوں نے سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔

حوثی فوجی ترجمان کے بیان پر ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ہیلی کاپٹر جلد میدان جنگ میں نظر آئے گا،تاہم المالکی نے تصدیق کی کہ یمنی سرحد کے قریب جنوب مغربی علاقے نجران میں ایک سعودی جاسوس ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا، جس کے نتیجے میں اس کے دونوں پائلٹ جاں بحق ہو گئے ۔حالیہ ہفتوں میں یمن کی جنگ میں دوبارہ شدت آنے کے ساتھ حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے بڑھا دئیے ہیں ۔حوثی فوجی ترجمان یحیی سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے یمن میں 110 فضائی اور میزائل حملے کیے ۔دارالحکومت صنعا کے علاوہ الحدیدہ، تعز، عمران، حجہ، صعدہ، الجوف، الضالع اور مأرب کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔یحیی سریع کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں 30 سے زائد افراد جاں بحق اور متعددزخمی ہوئے ہیں۔ جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے ۔دوسری جانب یمن میں جھڑپیں جاری ہیں ،یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی صوبہ تعز کے سنامہ اور صراری محاذوں پر انہوں نے پیشرفت کی ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کی صبح شروع کیے گئے فوجی آپریشن کے دوران حوثی جنگجوؤں کی پوزیشنوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔

فوج کے مطابق تعز کے شمال مغربی علاقوں میں حوثی جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کیلئے تین فضائی حملے بھی کیے گئے ، جبکہ صوبے کے مختلف محاذوں پر لڑائی تاحال جاری ہے ۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کا کہنا ہے کہ یمن میں حالیہ ہفتوں کے دوران لڑائی میں شدت آنے کے باعث دو لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد ریاض کے معروف کنگڈم سینٹر کی انتظامیہ نے تمام دفتری ملازمین کیلئے تاحکم ثانی گھر سے کام کرنا لازمی قرار دے دیا ہے ۔ 99 منزلہ عمارت کی انتظامیہ نے ای میل کے ذریعے ملازمین کو دفاتر آنے سے گریز کی ہدایت کی، تاہم عمارت میں قائم شاپنگ مال کھلا رہے گا۔ مصر کی قومی دفاعی کونسل نے سعودی عرب میں دفاعی مشن کیلئے فوج بھیجنے کی منظوری دے دی ہے ۔مصری پارلیمنٹ کے ایک رکن کے مطابق فوجی تعیناتی اور اس کے مشن کی منظوری صدر عبدالفتاح السیسی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں دی گئی۔یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کو خطے میں سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے ۔قومی دفاعی کونسل کی منظوری کے بعد فوجی تعیناتی کے معاملے پر پارلیمنٹ کی کارروائی اہم ہوگی۔دوسری جانب مصر کی پارلیمان نے سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرنے کی اجازت سے متعلق صدر عبدالفتاح السیسی کی درخواست پر ووٹنگ موخر کرتے ہوئے اجلاس آج پیر تک ملتوی کردیا۔ دو ارکان پارلیمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ فیصلہ تمام قانون سازوں کو اپنی رائے پیش کرنے کا موقع دینے کیلئے کیا گیا ہے۔

ایک رکن کے مطابق اجلاس میں توسیع کا مقصد ہر رکن کو اظہارِ خیال کا موقع فراہم کرنا ہے ، جبکہ دوسرے رکن نے بھی تصدیق کی کہ کارروائی پیر کو جاری رہے گی۔ صدر السیسی نے سعودی عرب کو حوثی حملوں سے بچانے کیلئے ممکنہ فوجی تعاون کی اجازت طلب کی تھی۔ادھر منامہ میں اتوار کو خلیج تعاون کونسل اور روس کامشترکہ وزارتی اجلاس ہوا جس میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا ،اجلاس میں جی سی سی وزرائے خارجہ اور روسی ہم منصب سرگئی لاوروف نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔اجلاس کے موقع پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور روسی ہم منصب سرگئی لاوروف نے بھی ملاقات کی جس میں سعودی عرب اور روس کے تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔علاقائی صورتحال، یمن میں کشیدگی میں اضافے ، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کو درپیش خطرات کے علاوہ علاقائی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔علاوہ ازیں پاکستان ایک مرتبہ پھر خطے کی سفارتکاری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ،نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی گزشتہ روز ایران اور مصر کے وزرا ئے خارجہ سے ٹیلی فونک بات چیت ہوئی ،دونوں وزرائے خارجہ نے بغداد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کی ۔ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا کہ اسحاق ڈار اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں خطے کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزرائے خارجہ نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی ،سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کیلئے بھرپور حمایت کا اظہار کیا ، اس کے علاوہ آر فور فریم ورک کے تحت تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ، دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بغداد میں او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر سائیڈ لائنز پر اسحاق ڈار سے گفتگو کی ،اسحاق ڈار سے رابطے سے قبل ایرانی وزیر خارجہ بغداد میں ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ سے گفتگو سے متعلق دفتر خارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بات چیت کی گئی اور او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس پر بھی گفتگو ہوئی۔ بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا ، دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...