بیرون ملک 21647پاکستانی قید،بجلی ،گیس کا گردشی قرضہ5306ارب ہو گیا

بیرون ملک 21647پاکستانی قید،بجلی ،گیس کا گردشی قرضہ5306ارب ہو گیا

سعودیہ 10745، عرب امارات میں 5297پاکستانی قید، 8569کو سزائیں، 13000سے زائد کے مقدمات زیر سماعت 30 جون تک بجلی شعبے کا گردشی قرضہ ایک ہزار 675ارب ،گیس کا قرضہ 3ہزار 631ارب تک پہنچ گیا ،اسمبلی وقفہ سوالات

اسلام آباد (سید قیصر شاہ، اسلم لڑکا) قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران بتایا گیاکہ 21647 پاکستانی مختلف ممالک کی جیلوں میں قید ہیں جن میں سے 8569 کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں جبکہ 13000 سے زائد قیدیوں کے مقدمات بیرون ملک عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ 30 جون 2026 تک بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ ایک ہزار 675 ارب روپے اور گیس کے شعبے کا قرضہ 3 ہزار 631 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ۔وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی شہری منشیات، کرنسی ، انسانی سمگلنگ، جعل سازی سمیت دیگر جرائم میں ملوث ہونے کے باعث بیرون ملک جیلوں میں قید ہیں۔سب سے زیادہ 10745 پاکستانی سعودی عرب میں قید ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات میں 5297، قطر میں 599، عمان میں 578، امریکا میں 141، برطانیہ میں 23، ترکیہ میں 190، اٹلی میں 353، ملائشیا میں 444، یونان میں 516، بھارت میں 738، ایران میں 169، چین میں 625، تھائی لینڈ میں 35، قازقستان میں 91، عراق میں 81، افغانستان میں 91، بحرین میں 218 اور آسٹریلیا میں 27 پاکستانی قید ہیں۔گیس شعبے کا گردشی قرضہ 3631 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ پٹرولیم ڈویژن نے انکشاف کیا کہ ایک سال کے دوران گیس شعبے کے گردشی قرضوں میں 344 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی قرضے 3631 ارب تک پہنچ گئے ۔وقفہ سوالات کے دوران پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق 30 جون 2025 کو گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ 3288 ارب روپے تھا جو 30 جون 2026 تک بڑھ کر 3631 ارب روپے ہو گیا۔ گردشی قرضوں میں 1783 ارب روپے تاخیر سے ادائیگیوں پر سرچارج بھی شامل ہے ۔پٹرولیم ڈویژن کے مطابق ملک میں گیس کے قابل حصول ذخائر 68803 بی سی ایف ہیں جن میں سے 48140 بی سی ایف پیدا کی جا رہی ہے جبکہ خام تیل کے قابل حصول ذخائر 1378 ملین بیرل ہیں جن میں سے 1102 ملین بیرل خام تیل کی پیداوار ہو چکی ہے ۔ وزارت توانائی نے تحریری طور پر بتایا کہ آر ایل این جی کی فراہمی میں تعطل کے باعث گیس یوٹیلیٹی کمپنیوں کو دستیاب گیس کے مطابق رسد کا انتظام کرنا پڑ رہا ہے ۔ایوان کو بتایا گیا کہ آر ایل این جی کی فراہمی معمول پر آنے کے بعد گھریلو صارفین کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے گی۔ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد مگسی نے اسمبلی کو بتایا کہ کاسمیٹکس مصنوعات کی نگرانی اور لائسنس کے اجرا کے لیے پاکستان جنرل کاسمیٹکس ریگولیٹری اتھارٹی کے نام سے نیا ادارہ قائم کیا جائے گا جبکہ جنرل کاسمیٹکس ایکٹ 2023 منسوخ کردیا جائے گا۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...