مرحوم کے ورثا قرض کی ذاتی ادائیگی کے پابند نہیں:ہائیکورٹ

مرحوم کے ورثا قرض کی ذاتی ادائیگی کے پابند نہیں:ہائیکورٹ

قرض دار کی وفات سے رہن شدہ جائیداد پر بینک کا حق ختم نہیں ہوتا:عدالت بینک رہن شدہ جائیداد سے رقم وصول سکتا ہے :دو رکنی بینچ،اپیل جزوی منظور

 لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے نجی بنک کی اپیل کو جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مرحوم کے ورثا ذاتی طور پر قرض کی ادائیگی کے ذمہ دار نہیں، رہن شدہ جائیداد سے بینک قرض وصول کر سکے گا ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چودھری سلطان محمود اور  جسٹس تنویر احمد شیخ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نجی بینک کی اپیل پر فیصلہ جاری کردیا۔ چار صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس چودھری سلطان محمود نے تحریر کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ ورثا کی ذاتی ذمہ داری اور انہیں وراثت میں ملنے والی رہن شدہ جائیداد کی قانونی حیثیت دو الگ معاملات ہیں، محض اس بنیاد پر کہ ورثا مرحوم کے قانونی جانشین ہیں، انہیں ایسی قرض کی تجدیدی دستاویزات کے تحت ذاتی طور پر ادائیگی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جو قرض دار کی وفات کے بعد تیار کی گئی ہوں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ قرض دار کی وفات سے اس کی زندگی میں رہن رکھی جائیداد پر رہن کا حق ختم نہیں ہوتا، چنانچہ بینک اصل رہن نامے کے تحت رہن شدہ جائیداد سے قرض کی وصولی کا قانونی حق رکھتا ہے تاہم بعد از وفات تیار کردہ قرض کی تجدیدی دستاویزات کی بنیاد پر ورثا پر ذاتی ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے نجی بینک کی اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ بینک کو اصل رہن نامے کے تحت جائیداد سے قرض وصول کرنے کا حق حاصل ہے ، لاہور ہائیکورٹ نے بینکنگ کورٹ کے فیصلے میں جزوی تبدیلی کر دی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...