وفاقی خودمختار اداروں میں خواتین کو 33فیصد نمائندگی دینے کا فیصلہ
سینٹرز آف ایکسی لینس بل کے تحت بورڈز ، کمیٹیوں میں کم از کم ایک خاتون کی شمولیت لازم
اسلام آباد (ایس ایم زمان) قومی اسمبلی سے سینٹرز آف ایکسی لینس ایکٹ 1974 میں ترمیمی بل کے تحت وفاقی بورڈز، ،خودمختار و نیم خودمختار اداروں، سرکاری کمپنیوں، سٹیٹوٹری باڈیز اور حکومتی ملکیتی اداروں میں خواتین کو 33 فیصد نمائندگی دی جائے گی، وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے پیش کردہ اس قانون کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت کے ماتحت تمام خود مختار اداروں اور منسلک کمیٹیوں میں خواتین کی شمولیت کو قانونی شکل دینا ہے۔ ترمیم کے مطابق ایکٹ کے سیکشن 2 میں کمیشن کی نئی تعریف شامل کی گئی ہے جس سے مراد ہائر ایجوکیشن کمیشن ہے۔
جبکہ 'متعلقہ ڈویژن' سے مراد وہ ڈویژن ہے جسے اس ایکٹ کے مطابق امور تفویض کیے گئے ہوں۔ اس کے قانون کے مختلف سیکشنز کے تحت جہاں جہاں 'وفاقی حکومت' کا لفظ استعمال ہوا تھا، اسے تبدیل کر کے 'متعلقہ ڈویژن' یا وزیرِ اعظم کے اختیارات سے ہم آہنگ کر دیا گیا ہے ۔ بل کے تحت سینٹرز آف ایکسی لینس کے بورڈز اور کمیٹیوں میں ماہرین کی تقرری کے دوران اس بات کو لازم بنایا گیا ہے کہ ان میں کم از کم ایک خاتون لازمی شامل ہوگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments