لاہور جمخانہ کا 5 ہزار روپے سالانہ کرایہ کس بنیاد پر مقررہوا: خصوصی کمیٹی بنجاب اسمبلی

 لاہور جمخانہ کا 5 ہزار روپے سالانہ کرایہ کس بنیاد پر مقررہوا: خصوصی کمیٹی بنجاب اسمبلی

ارکان کے 50سالہ توسیع پر بھی سوالات، کرایہ داری چھوڑ کر جگہ واپس لے لینی چاہیے :پارلیمانی سیکرٹری خالد رانجھا آڈٹ نہیں کروا رہے : ڈی جی آڈٹ، جمخانہ نے آج جواب نہ دیا تو معاملہ استحقاق کمیٹی میں لے جائینگے :چیئرمین سمیع اللہ

لاہور (سیاسی نمائندہ) تقریباً دو سال بعد پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نمبر 6 کے اجلاس میں لاہور جمخانہ کلب کو قیمتی سرکاری اراضی لیز پر دینے ، 5 ہزار روپے سالانہ کرایہ مقرر کرنے ، کمرشل آڈٹ، تعمیرات کی اجازت، تجارتی سرگرمیوں اور مالی جواب دہی کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ میاں سمیع اللہ خان کی زیرصدارت اجلاس میں کمیٹی نے بورڈ آف ریونیو، محکمہ کالونیز اور دیگر متعلقہ اداروں سے لیز کا تاریخی ریکارڈ،  منظوریوں اور سرکاری خط و کتابت سمیت مکمل دستاویزات طلب کرلیں جبکہ جمخانہ انتظامیہ کو آج کے اجلاس میں اپنا مؤقف پیش کرنے کیلئے طلب کرلیا۔ارکان نے لاہور کے قلب میں واقع قیمتی سرکاری اراضی محض 5 ہزار روپے سالانہ کرائے پر فراہم کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ سیکرٹری بورڈ آف ریونیو نے بتایا کہ جمخانہ کی لیز 1996 میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے خط پر کی گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی ہدایت میں 5 ہزار روپے سالانہ کرایہ مقرر کرنے کا ذکر تھا؟ سیکرٹری نے بتایا کہ کمشنر بورڈ آف ریونیو کو لکھے گئے خط میں اس رقم کا ذکر موجود ہے ۔ چیئرمین نے آئندہ اجلاس میں مکمل تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے اپریل 1996 میں لیز کی تجدید پر بھی سوال اٹھایا کہ اس وقت موجودہ لیز مارچ 2000 تک مؤثر تھی تو مدت ختم ہونے سے تقریباً 4 سال قبل مزید 50 سال کیلئے لیز دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ متعلقہ محکموں سے مستند شواہد کے ساتھ جواب طلب کرلیا گیا۔ رکن میاں امجد علی جاوید نے ایک محدود طبقے کے ادارے کو قیمتی سرکاری اراضی فراہم کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یا تو جمخانہ 52 ارب روپے کرایے کی مد میں ادا کرے یا 65 ہزار دکانداروں سے کرایوں میں اضافے کے تحت رقم وصول نہ کی جائے ۔ احمد اقبال چودھری نے لاہور جمخانہ کو نوآبادیاتی دور کی باقیات قرار دیتے ہوئے ادارے کے انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں جمخانہ کے کمرشل آڈٹ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ رکن سید علی حیدر گیلانی نے ڈی جی آڈٹ سے استفسار کیا کہ لاہور جمخانہ کا کمرشل آڈٹ کیوں نہیں ہورہا۔

ڈی جی آڈٹ نے بتایا کہ لاہور جمخانہ آڈٹ نہیں کروا رہا اور معاملہ ہائیکورٹ لے جاچکا ہے ، جبکہ چیف سیکرٹری پنجاب کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے ۔ جمخانہ کی حدود میں قائم ریستورانوں اور دکانوں سمیت تجارتی اداروں کی ٹیکس ادائیگیوں اور مالی جواب دہی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔پارلیمانی سیکرٹری خالد رانجھا نے کہا کہ اگر معاملہ کرایہ داری ختم کرنے کا ہے تو جگہ واپس لے لینی چاہیے ۔ رکن راؤ کاشف رحیم نے جمخانہ کی کمیٹی معطل کرکے ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کی تجویز دی۔ چیئرمین سمیع اللہ خان نے متعلقہ اداروں کو تمام سوالات کے جوابات آج کے اجلاس تک پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مقررہ وقت تک جواب نہ آیا تو معاملہ استحقاق کمیٹی میں لے جائیں گے ۔ جمخانہ انتظامیہ کو بھی آج اجلاس میں اپنا مؤقف پیش کرنے کیلئے مدعو کیا گیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...