دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے سیاسی مطالبات پر لچک دکھانی چاہیے

دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے سیاسی مطالبات پر لچک دکھانی چاہیے

کامیابی کا انحصار سیاسی اعتماد کی بحالی اور مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پر ہوگا

(تجزیہ:سلمان غنی)

حکومت کی جانب سے دہشت گردی جیسے بڑے چیلنج سے نمٹنے کیلئے ایک مشترکہ لائحہ عمل اور اس کیلئے ملک میں اتحاد و یکجہتی کی فضا کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے ۔ اس ضمن میں ایوان بالا میں وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اﷲ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم دہشت گردی کے خلاف سیاسی جماعتوں سے مل بیٹھنے کیلئے تیار ہیں اور سیاسی جماعتیں ہی مل بیٹھ کر کسی ایسے لائحہ عمل پر اتفاق کر سکتی ہیں ،جس پر عمل پیرا ہو کر پاک سرزمین کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کیا جا سکے ۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر نہیں ہونی چاہئے اور ہم دہشت گردی کے خلاف ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہمیں مذاکرات کی میز سے اٹھنا نہیں چاہئے تھا ۔جہاں تک سیاسی قوتوں کو مل بیٹھنے کی حکومتی تجویز کا تعلق ہے تو یہ اصولی طور پر کارگر ثابت ہو سکتی ہے بشرطیکہ اسے صرف رسمی مشق بنانے کی بجائے حقیقی سیاسی اتفاق رائے اور اعتماد کی بحالی کی طرف ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر لینا چاہئے۔

موجودہ سیاسی ماحول اور ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے اس کی عملی کامیابی میں کئی رکاوٹیں ہیں جنہیں دور کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہوگی، ویسے بھی ماضی میں نیشنل ایکشن پلان جو سیاسی جماعتوں کی تائید سے عمل میں آیا تھا یہ ایک متفقہ ریاستی فیصلہ تھا جس نے وفاق اور صوبوں کو متحد کیا تھا ۔جب ریاست یک زبان ہوتی ہے تو کارروائی زیادہ موثر ہوتی ہے ۔ 2017 کے بعد پالیسی میں تبدیلی کے عمل سے انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو نقصان پہنچا اور آج کی بڑی ضرورت بھی دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد ہے ،یہ جنگ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہونی چاہئے ۔ حکومت اور پی ٹی آئی میں اعتماد کا فقدان ہے اور حال ہی میں ان کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام رہے اور دونوں نے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔نئی صورتحال میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد سیاسی کشیدگی بڑھی ہے اور اس کے باعث سیاسی اتفاق رائے کے حصول کے عمل کو نقصان پہنچا ہے۔

لہٰذا اگر حکومت دہشت گردی کے خلاف سیاسی اتحاد و یکجہتی کی خواہاں ہے تو اس کی کامیابی کا انحصار سیاسی اعتماد کی بحالی اور مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پر ہوگا، دیرپا کامیابی کیلئے ضروری ہوگا کہ تمام فریق بشمول پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے اور انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی پر حقیقی اتفاق رائے پیدا کیا جائے ۔ پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمہ کے باوجود اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر خود یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کے ساتھ ہیں، تو پھر انہیں بھی عملاً اپنے بیانات کی روشنی میں یہ پیغام دینا ہوگا کہ وہ اس ضمن میں ایسا طرز عمل اختیار نہیں کریں گے جس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی مفادات سے مشروط کیا جائے ۔پی ٹی آئی اصولی طور پر تو تعاون کا عندیہ دیتی ہے لیکن اسے شرائط سے منسلک کر کے نتیجہ خیز نہیں بننے دیتی۔ دوسری جانب حکومت کا بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف سیاسی قوتوں سے تعاون تو مانگتی ہے مگر انہیں سیاسی گنجائش دینے کو تیار نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو دہشت گردی جیسے بڑے چیلنج سے نمٹنے کیلئے اتحاد و یکجہتی کو یقینی بنانے کیلئے سیاسی مطالبات پر لچک دکھانی چاہئے اور یہ زیادہ بڑی سیاسی قیمت نہیں ہوگی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...