سندھ کابینہ :سندھ پبلک سروس کمیشن میں اصلاحاتی پیکج منظور ،عمر کی حد 33 سال مقرر

سندھ کابینہ :سندھ پبلک سروس کمیشن میں اصلاحاتی پیکج منظور ،عمر کی حد 33 سال مقرر

ایس پی ایس سی میں شرکت کے مواقع کی تعداد 5 ، اسکریننگ ٹیسٹ میں کامیابی کیلئے کم از کم نمبر 33 فیصد کرنیکی منظوری ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال سجاول کا انتظام ایم ای آر ایف کو دینے ،سندھ کونسلز یونیفائیڈ گریڈز (سروس)رولز میں ترامیم منظور ڈاکٹر حسن ، تارا عذرا ایس پی ایچ ایف اے بورڈ میں بطور ڈائریکٹرز شامل،مراد شاہ کی زیر صدارت اجلاس، دورہ چین پر بریفنگ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے منگل کو صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں عوامی صحت، ادارہ جاتی اصلاحات، محصولات میں اضافے اور سیلاب کے بعد گھروں کی تعمیرِ نو پر توجہ دی گئی۔ کابینہ نے میر رضا علی انکوائری کمیشن کی رپورٹ عام کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔اہم تجاویز میں عالمی بینک کے تعاون سے کراچی کی 25 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی 2.3 ارب روپے سے بڑھا کر 25.5 ارب روپے کرنے کا پروگرام اور سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیرِ نو کے تیسرے مرحلے کی خاطر یورپی سرمایہ کاری بینک کی جانب سے 115 ملین یورو کی مالی معاونت کا پیکیج شامل تھا۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزرا، مشیران، معاونینِ خصوصی، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ اور متعلقہ سیکرٹریز نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں وزیراعلیٰ نے کابینہ کو اپنے حالیہ دورئہ چین کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے دورے کی دعوت پر چینی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور سرمایہ کاری، تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی، زراعت اور ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے مواقع کو اجاگر کیا۔وزیراعلیٰ نے کابینہ کو بتایا کہ شنگھائی سندھ سرمایہ کاری و تجارت کانفرنس میں 400 سے زائد مندوبین نے شرکت کی جبکہ اس موقع پر 36 مفاہمتی یادداشتوں پر اتفاق ہوا۔ وزیراعلیٰ نے کابینہ کو ہواوے کے ساتھ تعاون کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔

ہواوے کے صدر کے پاکستان آنے کی توقع ہے ، جبکہ محکمہ سرمایہ کاری سندھ کو مجوزہ اقدامات پر پیش رفت کی ہدایت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت دورے کے نتائج کو سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، معاشی ترقی، روزگار اور سندھ کے عوام کے لیے بہتر عوامی خدمات میں تبدیل کرنے پر توجہ دے گی۔کابینہ نے بھرتیوں کے طریقہ کار اور امتحانی انتظامات سے متعلق امیدواروں کے تحفظات کے بعد سندھ پبلک سروس کمیشن میں اصلاحات کے پیکیج کی منظوری دے دی۔منظور شدہ اقدامات کے تحت مشترکہ مسابقتی امتحان (سی سی ای)کے لیے عمر کی بالائی حد 30 سال سے بڑھا کر 33 سال کر دی گئی ہے جبکہ امتحان میں شرکت کے مجاز مواقع کی تعداد تین سے بڑھا کر پانچ کر دی گئی ہے ۔ کابینہ نے سی سی ای 2026 ئکے اسکریننگ ٹیسٹ میں کامیابی کے لیے کم از کم نمبر 40 فیصد سے کم کرکے 33 فیصد کرنے کی بھی منظوری دی۔ ایک پرچے پر مشتمل امتحانات کے لیے کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹنگ متعارف کرائی جائے گی، جبکہ امتحان ختم ہوتے ہی نتائج پرنٹ کر دیئے جائیں گے ۔ انٹرویو کے نمبروں میں بھی وفاقی پبلک سروس کمیشن کے تناسب کے مطابق نظرثانی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ احتجاج میں حصہ لینے والے امیدواروں کے خلاف انتقامی کارروائی روکنے کے لیے تحفظات اور انٹرویو کے دوران امیدواروں کو نشانہ بنانے کے الزامات کا جائزہ لینے کا طریقئہ کار وضع کرنے کی تجاویز بھی شامل تھیں۔

کابینہ نے عالمی بینک کے تعاون سے سندھ پراپرٹی ریونیو انہانسمنٹ پروگرام (سندھ پریپ)کے لیے مذاکرات کے بعد طے پانے والے پیکیج کی منظوری دے دی۔ یہ پروگرام پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کو جدید بنانے ، ٹیکس کی ادائیگی کی پابندی بہتر کرنے اور بلدیاتی مالیاتی انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم اقدام ہے ۔پروگرام کے لیے عالمی بینک 150 ملین ڈالر فراہم کرے گا، جس میں پروگرام فار رزلٹس کے حصے کے لیے 110 ملین ڈالر اور سرمایہ کاری کے منصوبے کی مالی معاونت کے لیے 40 ملین ڈالر شامل ہیں۔ سندھ حکومت پروگرام فار رزلٹس کے حصے سے منسلک مزید 20 فیصد رقم بطور مساوی مالی حصہ فراہم کرے گی۔ پروگرام کا مقصد اس کے نفاذ کے دوران کراچی کی 25 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز میں شہری غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس کی وصولی 2.3 ارب روپے سے بڑھا کر 25.5 ارب روپے تک پہنچانا ہے ۔اس میں دیگر شہری کونسلوں میں پراپرٹی ٹیکس کے نظام کو جدید بنانے ، منتخب کردہ 45 مقامی کونسلوں کی ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے اور مربوط مالیاتی انتظامی معلوماتی نظام متعارف کرانے کا منصوبہ بھی شامل ہے ۔مذاکرات کے بعد طے پانے والے پیکیج میں مالی معاونت اور عمل درآمد کے معاہدے ، نتائج کا فریم ورک، تصدیق کے ضوابط اور ماحولیاتی و سماجی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ عالمی بینک کے بورڈ میں اس پروگرام پر غور 30 اکتوبر 2026 کو طے تھا۔

توقع ہے کہ اس پروگرام سے مقامی حکومتوں کے محصولات کی بنیاد مضبوط ہوگی اور بلدیاتی خدمات کی مالی معاونت کی ان کی صلاحیت میں بہتری آئے گی۔کابینہ نے سندھ فلڈ ایمرجنسی ہاؤسنگ ری کنسٹرکشن پروجیکٹ کے تیسرے مرحلے کے لیے یورپی سرمایہ کاری بینک کی اضافی مالی معاونت کے پیکیج پر غور کیا۔ اس پیکیج میں 115 ملین یورو شامل ہیں، جن میں 100 ملین یورو قرض اور 15 ملین یورو گرانٹ ہے ۔ یہ پیکیج منصوبے کے پی سی ون سے مطابقت رکھتا ہے ، جس کی مالیت 42.09 ارب روپے ہے اور اسے نومبر 2025 میں ایکنک نے منظور کیا تھا۔ اس میں یورپی سرمایہ کاری بینک کی 35.075 ارب روپے کی مالی معاونت اور سندھ حکومت کا 7.015 ارب روپے کا حصہ شامل ہے ۔ مالی معاونت کے انتظام کے تحت وفاقی حکومت قرض لینے والی، سندھ حکومت درمیانی فریق اور سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (ایس پی ایچ ایف)عمل درآمد کرنے والا ادارہ ہوگا۔کابینہ نے پہلے ہی دستخط شدہ مالیاتی معاہدے اور منصوبے پر عمل درآمد کے معاہدے کی توثیق کی اور قرض کی رقم آگے منتقل کرنے کے مجوزہ معاہدے کی منظوری دی، جس پر بعد میں دستخط کیے جائیں گے ۔ منصوبہ کا مقصد سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو اپنے گھر دوبارہ تعمیر کرنے اور گزشتہ سیلابوں کے تباہ کن اثرات سے بحالی میں مدد فراہم کرنا ہے ۔

کابینہ نے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال سجاول کا انتظام میڈیکل ایمرجنسی ریزیلینس فاؤنڈیشن (ایم ای آر ایف)کو پانچ سال کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دینے کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے ڈی ایچ کیو/ٹیچنگ اسپتال ٹھٹھہ اور ضلع ٹھٹھہ کی 7 صحت سہولتوں کے انتظام کے لیے ایم ای آر ایف کی مدت میں بھی پانچ سال کی توسیع کی منظوری دی۔ ہیلتھ نیٹ ورک (آئی ایچ ایچ این)کے ذریعے چنیسر ڈسپنسری اور میٹرنٹی ہوم کو فعال کرنے کی بھی منظوری دے دی۔ کابینہ نے مجوزہ سندھ گورنمنٹ لینڈز مینجمنٹ ایکٹ اور اس پر عمل درآمد کے مجوزہ فریم ورک پر غور کیا۔ کابینہ نے موجودہ لیزوں، ترقیاتی منصوبوں کی مدت، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں اور اپیلوں اور قانونی تقاضوں کی پابندی کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مجوزہ قانون سازی کا جائزہ لینے اور آئندہ کابینہ اجلاس میں سفارشات پیش کرنے کے لیے وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔کابینہ نے مقامی کونسلوں میں افسران اور اہلکاروں کی تعیناتی سے متعلق ضوابط کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے سندھ کونسلز یونیفائیڈ گریڈز (سروس)رولز 2020 میں ترامیم کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور متعلقہ وفاقی حکام کو بھیجے گئے خطوط کی بعد از وقت منظوری دے دی، جن میں چینی کے مجموعی برآمدی کوٹے میں سندھ کا 30 فیصد حصہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

محکمہ زراعت، رسد و قیمت نے چینی کی دو لاکھ میٹرک ٹن برآمد اور اس کوٹے میں صوبے کے حصے سے متعلق تجویز پیش کی تھی۔ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات نے ضلع سجاول میں 405,002 ایکڑ بین الجزر و مد اراضی کو محفوظ جنگلات قرار دینے کی مجوزہ کارروائی پر پیش رفت رپورٹ پیش کی۔ کابینہ نے سندھ پالیسی فار ریسیپٹ اینڈ ڈسپوزل آف نیچرل گیس رائلٹی اِن کائنڈ 2026 کی منظوری دے دی۔ اس کے تحت صوبائی حکومت تجارتی طور پر قابلِ عمل ہونے اور صوبے کی موجودہ آمدن کے تحفظ سے مشروط طور پر اپنی آئینی 12.5 فیصد قدرتی گیس رائلٹی نقد رقم کے بجائے گیس کی صورت میں وصول کرنے کے امکانات کا جائزہ لے سکے گی۔کابینہ نے محکمہ داخلہ کے اس نوٹیفکیشن کی بعد از وقت منظوری دے دی جس کے تحت کراچی میں پاکستان چوک کے قریب مٹھا رام ہاسٹل کو کے ٹی سی حملوں کے مقدمات میں مبینہ طور پر ملوث پانچ ملزمان کو محفوظ تحویل میں رکھنے کے لیے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔ سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس کی درخواست کے بعد 7 ستمبر 2026 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے ذریعے ہاسٹل کو سب جیل قرار دیا گیا تھا۔کابینہ نے یکم اکتوبر کے اجلاس کی کارروائی اور 8 اکتوبر کو سرکولیشن کے ذریعے کیے گئے فیصلوں کا جائزہ لیا۔کابینہ نے ضلع لاڑکانہ کی تحصیل باقرانی میں دیہہ سمنو کے مرتضیٰ آباد گاؤں اور دیہہ شاہ بیگ کے نیو گڈ گاؤں کو متعلقہ قانونی فریم ورک کے تحت کچی آبادیاں قرار دینے کی تجویز منظور کر لی۔

اسپتالوں کے انتظام سے متعلق فیصلوں کے ساتھ کابینہ نے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن (ایس آئی پی ایم اینڈ آر)کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ نجَم سومرو کی دوسری مدتِ ملازمت میں 10 اگست 2028 تک توسیع کی منظوری بھی دے دی۔ کابینہ نے ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج محبوب علی ڈایو کو سندھ کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ 2024، جس میں 2025 تک ترامیم شامل ہیں، کے تحت کراچی میں خصوصی عدالت (سی این ایس۔وی) کا پریزائیڈنگ افسر مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ سائمہ امداد منگی کی ڈی نوٹیفکیشن کی بھی توثیق کی۔ کابینہ نے سندھ حکومت کی وی آئی پی فلائٹ سروس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور پائلٹ میجر (ر)سید محمد عباس کے معاہدے میں دو سال کی تجدید کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے ڈاکٹر حسن عباس اور تارا عذرا داؤد کو سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز کے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹرز کے طور پر شامل کرنے کی منظوری دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...