افغانستان :کان کنی پر طالبان دھڑوں میں لڑائی،بدامنی بڑھنے لگی:رپورٹ

 افغانستان :کان کنی پر طالبان دھڑوں  میں لڑائی،بدامنی بڑھنے لگی:رپورٹ

اسلام آباد (اے پی پی) پاک ایشیا یوتھ فورم کی رپورٹ میں انکشاف ہواہے کہ شمالی افغانستان میں کان کنی کے کنٹرول، آمدنی کی تقسیم اور مقامی حقوق کے تنازعات مسلسل تشدد اور بدامنی کا سبب بن رہے ہیں۔

 ‘‘سونا، طاقت اور شکایات: افغانستان کا کان کنی کا شعبہ اور بدامنی’’ کے عنوان سے جاری رپورٹ کے مطابق افغانستان میں معدنیات کے عالمی سطح پر اہم ذخائر موجود ہیں تاہم طالبان دورِ حکومت میں کان کنی کا شعبہ قانونی پابندیوں اور شفافیت کے فقدان کا شکار ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ذیلی قوانین منسوخ کر دئیے گئے ہیں اور مالی آمدنی کے آڈٹ کے لیے کوئی آزاد ادارہ موجود نہیں۔ کان کنی کے ٹھیکے مبینہ طور پر غیر رسمی درخواستوں کے ذریعے کمانڈروں اور حکام کو دئیے جاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق کان کنی کے شعبے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے قندھاری قیادت اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان اقتدار کی کشمکش بدامنی کی بنیادی وجہ ہے ۔ 2024 میں وزارتِ کان کنی و پٹرولیم کا قلم دان حقانی دھڑے سے وابستہ شیخ شہاب الدین دلاور سے لے کر قندھاری قیادت کے قریب سمجھے جانے والے حاجی گل آغا، المعروف ملا ہدایت اللہ بدری کو دے دیا گیا جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔بدخشان اور تخار میں سونے کی کانوں پر تنازعات طالبان کے حریف دھڑوں، کان کنی کمپنیوں اور مقامی باشندوں کے درمیان مہلک جھڑپوں کا سبب بن رہے ہیں۔ جنوری 2026 میں تخار کے ضلع چہ آب کے علاقے سمتی میں جھڑپ کے دوران چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ۔بدخشان کے ضلع نُسَے میں بھی مسلح جھڑپیں ہوئیں جن میں حقانی نیٹ ورک سے وابستہ کمانڈر جمعہ خان فاتح ملوث تھے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...