مسیحی لڑکی شادی نظر ثانی کیس، آئینی عدالت کا دونوں کو نوٹس جاری

مسیحی لڑکی شادی نظر ثانی کیس، آئینی عدالت کا دونوں کو نوٹس جاری

عمر سے متعلق تنازع پر فریقین کو فیملی کورٹ جانا چاہیے تھا:قائم مقام چیف جسٹس

 اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت نے مبینہ کم سن مسیحی لڑکی ماریہ شہباز کی شادی سے متعلق نظرثانی کیس میں شادی شدہ جوڑے شہریار اور ماریہ کو نوٹس جاری کر دیئے اور کہا حبس بے جا سے متعلق معاملہ تھا، اگر عمر سے متعلق تنازع تھا تو فریقین کو فیملی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ قائم مقام چیف جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیئے کہ وکلا نشاندہی کریں فیصلے میں کیا غلطیہوئی۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فیصلے میں جن عدالتی نظائر پر انحصار کیا گیا وہ تبدیل ہو چکیں۔ شرعی عدالت نے نئی نظیر دی ہے جس کی تمام عدالتیں پابند ہیں۔ عدالتی عملے کے مطابق شہریار کو نوٹس کی تعمیل نہیں ہو سکی، عدالت نے دوبارہ نوٹس کی ہدایت کر کے سماعت ملتوی کر دی۔ ادھر جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل بینچ نے میشا شفیع اور علی ظفر سے متعلق ہتکِ عزت اور پیکا ایکٹ کے مقدمے میں وفاقی حکومت کو نئی ہدایات کے ساتھ فوری جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ عدالت نے قرار دیا ایڈیشنل اٹارنی جنرل بیک وقت وفاقی حکومت اور ایف آئی اے کی نمائندگی نہیں کر سکتے ۔ درخواست گزار میشا شفیع نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے کا مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے ، پیکا ایکٹ 2016 کی دفعہ 20 کو کالعدم قرار دے کر مقدمہ ختم کیا جائے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...