مذاکرات کا اختیار عمران کے نامزد رہنماؤں کے پاس :سلمان اکرم

مذاکرات کا اختیار عمران کے نامزد رہنماؤں کے پاس :سلمان اکرم

گنڈاپور کے مذاکرات کو لیڈ کرنے کا فیصلہ ہوا نہ پارٹی اسے یہ اختیار دیگی مذاکرات کرنے کو تیار ہیں : پروگرام \'\'دنیا مہربخاری کے ساتھ\'\'،گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کے خلاف کوئی بھی نہیں تھا،یہ بعد کی باتیں، اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ،یہ معاملہ سیاسی کمیٹی، کورکمیٹی کی جوائنٹ میٹنگ میں کئی بار ڈسکس ہوا، ہم مذاکرات کرنے کو تیار ہیں ، بے اصولی ہم نے پہلے کی نہ آئندہ کریں گے ۔دنیا نیوز کے پروگرام \'\'دنیا مہربخاری کے ساتھ\'\'میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ پارٹی کے لوگوں پر سازش کا الزام نہیں لگایا، میری ٹویٹ میں اردو کے الفاظ واضح ہیں ، تین بارلکھا ہے کہ یہ افواہ ہے ، اس افواہ کے خلاف ہم کھڑے ہیں ،پارٹی کو منتشر کرنے کیلئے ہمیشہ باہر سے حملے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غلط بیانیہ بناکر سوالات کئے جارہے ہیں ،پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مجھ سے کسی قسم کی معافی کا مطالبہ نہیں کیا گیا، مذاکرات کا اختیار عمران خان کے پاس ہے اور انہوں نے ہی محمود اچکزئی،علامہ ناصر عباس کو مذاکرات کیلئے مقرر کیا ،یہی لوگ مذاکرات کرسکتے ہیں ۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ کسی صوبائی پارلیمانی پارٹی یا کسی صوبائی تنظیم کا اختیار نہیں کہ پارٹی پالیسی کا فیصلہ کرے ،محموداچکزئی، علامہ ناصر عباس کے علاوہ کسی کو مذاکرات کا اختیار نہیں،پارٹی میں کوئی اپنے ایجنڈے کو بڑھاوا نہیں دے سکتا۔انہو ں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کے مذاکرات کو لیڈ کرنے کا فیصلہ ہوا نہ ہی پارٹی اس کو ایسا اختیار دے گی ،عمران خان نے جو فیصلہ کیا اس پر عمل ہوگا، خیبر پختونخوا میں پارٹی کون لیڈ کرے گا، ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی بھی اپنے آپ سربراہ بن جائے ،مذاکرات کا اختیار صرف مرکزی لیڈرشپ کے پاس ہے ،گورنر راج کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس کا فیصلہ کرچکے ہیں،جمہوریت پسند طاقتوں کے ساتھ مل کر گورنر راج کی مخالفت کی جائے گی ۔ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ مذاکرات ہم پہلے بھی کرچکے ،ہم پہلے بھی سنجیدہ تھے ، اب بھی سنجیدہ ہیں، ہم سمجھتے ہیں اس سے ملک اور صوبے کا فائدہ ہے ہم چاہتے ہیں ملک میں جمہوریت بحال ہو ،حکومت مذاکرات کی کب آفر کرتی ہے اس کا دارومدار حکومت پرہے ،ہمیں نہیں پتا وہ بامعنی مذاکرات کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...