200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنیوالے زیادہ تر سولز صارفین، یہ نظام تبدیل کر رہے : وزیر توانائی
یونٹوں کے بجائے غربت کی بنیاد پر صارفین کوریلیف دینے کے نظام پر کام جاری، گردشی قرضہ کم ہو کر 1670 ارب رہ گیا، 4سال میں ختم کرنیکا ہدف مقرر، اویس لغاری بجلی کا صرف1 یونٹ بڑھنے پر غریبوں کا 6 ماہ خون چوسا جاتا، عابد شیر ،وقفے کے بعد بھی سینیٹ میں کورم پورا نہ ہوا، اپوزیشن کا وزرا کی عدم موجودگی پر اعتراض، اجلاس کل تک ملتوی
اسلام آباد (وقائع نگار)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ بجلی کے ٹیرف سلیب کا تعین ضروری ہے تاکہ مستقبل میں یہ مسئلہ ختم کیا جا سکے۔ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دو کروڑ تک پہنچ گئی ہے جن میں سے زیادہ تر شمسی توانائی بھی استعمال کرتے ہیں۔ حکومت یونٹوں کے بجائے غربت کی بنیاد پر صارفین کو ریلیف دینے کے نظام پر کام کر رہی ہے جبکہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے منصوبہ زیر غور ہے ۔توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ کم ہو کر 1670 ارب روپے رہ گیا اور حکومت نے آئندہ چار سال میں اسے ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے ۔ اسی مدت میں گردشی قرضوں پر ڈیٹ سروس سرچارج بھی ختم کرنے کا منصوبہ ہے ۔ وزارت توانائی کو حکومت کے قیام کے وقت 1180 ارب روپے کی بجٹ سپورٹ ملتی تھی جو رواں سال کم ہو کر 700 ارب روپے رہ گئی ۔ ڈسکوز کے نقصانات میں ہر سال کمی ہوئی ہے تاہم اس کا فائدہ ابھی تک صارفین کو منتقل نہیں ہو سکا۔منگل کو پریذائیڈنگ افسر سینیٹر عبدالقادر کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا جس میں وزرا کی عدم موجودگی پر اپوزیشن ارکان نے اعتراضات اٹھائے۔
سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ایوان میں کوئی وزیر موجود نہیں تو سوالات کے جواب کون دے گا جبکہ سینیٹر ہمایوں مہمند نے اجلاس تاخیر سے شروع ہونے کے باوجود حکومتی ارکان کی عدم موجودگی پر تنقید کی۔سینیٹر جان محمد نے کورم کی نشاندہی کی جس پر گنتی کے بعد کورم نامکمل پایا گیا اور گھنٹیاں بجائی گئیں۔ اجلاس میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کیا گیا۔ وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو ایوان میں صرف آٹھ ارکان موجود تھے ۔ کورم پورا کرنے کے لیے دوبارہ گھنٹیاں بجائی گئیں اور ارکان کا انتظار کیا گیا تاہم وقفے کے بعد بھی کورم مکمل نہ ہو سکا۔وقفہ سوالات کے دوران وزیر پارلیمانی امور طارق فضل نے بتایا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے تحت چھ منصوبے شروع کیے گئے تھے جو بند نہیں ہوئے اور نہ ہی انہیں بند کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے ۔ اسلام آباد میں نیلور ہائٹس کا منصوبہ تکمیل کے قریب ہے جبکہ پنجاب میں منصوبوں کی نگرانی صوبائی حکومت کر رہی ہے ۔ بعض منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور کچھ تکمیل کے مراحل میں ہیں، وفاقی دارالحکومت میں منصوبے سی ڈی اے کے زیر انتظام ہیں۔
سینیٹر عابد شیر علی نے بجلی کے ٹیرف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے بل کروڑوں عوام کے لیے بڑا مسئلہ بن چکے ہیں اور پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے بھی بل برداشت کرنا مشکل ہو رہا ہے ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 200 یونٹ سے ایک یونٹ زیادہ بجلی استعمال کرنے پر بل اچانک دگنا کیوں ہو جاتا ہے اور کیا ڈسکوز کی بجلی چوری کا بوجھ بھی غریب صارفین پر ڈالا جا رہا ہے ۔جواب میں وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ بجلی کے ٹیرف سلیب کا تعین ضروری ہے تاکہ مستقبل میں یہ مسئلہ ختم کیا جا سکے ۔ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دو کروڑ تک پہنچ گئی ہے جن میں سے زیادہ تر شمسی توانائی بھی استعمال کرتے ہیں۔ حکومت یونٹوں کے بجائے غربت کی بنیاد پر صارفین کو ریلیف دینے کے نظام پر کام کر رہی ہے جبکہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے منصوبہ زیر غور ہے ۔سینیٹ کا اجلاس جمعرات کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments