قومی اسمبلی : پانچ ترمیمی بلز منظور ، پاکستان فراہمی ہنگامی طبی علاج بل مسترد : 2027 تک سود ختم کرنے کیلئے پر عزم حکومت

 قومی اسمبلی : پانچ ترمیمی بلز منظور ، پاکستان فراہمی ہنگامی طبی علاج بل مسترد : 2027 تک سود ختم کرنے کیلئے پر عزم حکومت

پاکستان کونسل سائنس و ٹیکنالوجی، بزرگ شہری، قومی کمیشن حقوقِ بچگان، فوجداری قانون کے ترمیمی بلزمنظور چھ بل کمیٹیوں کے سپرد، کراچی میں آر ایل این جی کی کمی سے 300میگاواٹ تک بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی :پاور ڈویژن

اسلام آباد (سید قیصر شاہ، اسلم لڑکا) قومی اسمبلی نے پانچ ترمیمی بلزمنظور کرلیے جبکہ چھ قائمہ کمیٹیوں ک سپر د کر دیئے گئے ، ایوان سے منظور ہونے والے بلوں میں پاکستان کونسل برائے سائنس و ٹیکنالوجی (ترمیمی) بل 2025، دارالحکومت اسلام آباد   بزرگ شہری (ترمیمی) بل 2025، قومی کمیشن برائے حقوقِ بچگان (ترمیمی) بل 2025، فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2025 اور مجموعہ ضابطئہ فوجداری (ترمیمی) بل 2024 شامل ہیں جبکہ اپوزیشن رکن شاندانہ گلزار کے چھ بل مزید غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دئیے گئے ۔ ایوان نے پاکستان فراہمیِ ہنگامی طبی علاج پروگرام بل 2024 مسترد کر دیا۔رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے تحریک پیش کی کہ دارالحکومت اسلام آباد بزرگ شہری (ترمیمی) بل 2025 کو قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں فی الفور زیرِ غور لایا جائے ۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ یہ بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود سے متعلق بل ہے اور حکومت اس کی مخالفت نہیں کرتی۔ بعدازاں ایوان نے بل کی منظوری دے دی۔قومی کمیشن برائے حقوقِ بچگان (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری کے لیے سحر کامران نے تحریک پیش کی۔

ڈپٹی سپیکر نے تحریک منظور ہونے کے بعد بل کی شق وار منظوری حاصل کی۔ شق 4 میں نعیمہ کشور خان کی جانب سے پیش کی گئی ترمیم کثرتِ رائے سے مسترد کر دی گئی جس کے بعد بل منظور کر لیا گیا۔ شاندانہ گلزار نے انسدادِ زنا بالجبر تفتیش و سماعتِ مقدمہ (ترمیمی) بل 2024 بھی سینیٹ سے منظور شدہ صورت میں پیش کرنے کی تحریک دی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزارت قانون اور وزارت انسانی حقوق اس بل کی مخالفت کر چکی ہیں۔ ان کے مطابق زنا بالجبر کے مقدمات کی نگرانی اور ٹریک اینڈ ٹریس کا نظام پہلے سے موجود ہے ، جبکہ قواعد میں تبدیلی کی گنجائش بھی برقرار رہنی چاہیے ۔ قومی اسمبلی نے پاکستان فراہمیِ ہنگامی طبی علاج پروگرام بل 2024 مسترد کر دیا۔

تحریک انصاف کے رکن علی محمد خان نے بل کو سینیٹ سے منظور شدہ صورت میں فی الفور زیرِ غور لانے کی تحریک پیش کی جس کی وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے مخالفت کی۔ وزیر صحت نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں عموماً ہنگامی صورتِ حال میں علاج معالجے کی سہولت مفت فراہم کی جاتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مارچ 2025 سے اب تک نئے ہسپتال تعمیر کیے بغیر سرکاری ہسپتالوں میں 3,642 اور 16 نجی ہسپتالوں میں 722 بستروں کا اضافہ کیا گیا ہے ، اس لیے اب اس بل کی ضرورت نہیں رہی۔ ایوان نے علی محمد خان کی تحریک مسترد کر دی۔

قومی اسمبلی میں مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860 اور مجموعہ ضابطئہ فوجداری 1898 میں مزید ترمیم سے متعلق فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2025 بھی پیش کیا گیا۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے بل کی مخالفت نہیں کی، تاہم اسے مزید غور کے لیے قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی تجویز دی، جسے منظور کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے بل متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا۔ پاور ڈویژن کی جانب سے ایوان کو بتایا گیا کہ کراچی میں 6 سے 16 اکتوبر کے دوران آر ایل این جی کی کمی کے باعث بجلی کی پیداوار میں 200 سے 300 میگاواٹ تک کمی ہوئی جس کے نتیجے میں صنعتی علاقوں کے علاوہ دیگر صارفین کو دو سے تین گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ

ا۔ پاور ڈویژن کے مطابق اب صورتِ حال بہتر ہو گئی ہے تاہم کراچی کے 1235 فیڈرز درمیانے درجے کے نقصانات جبکہ 164 فیڈرز زیادہ نقصانات کی زد میں ہیں، جہاں نقصانات کی شرح 32 فیصد سے زیادہ ہے ۔ پارلیمانی سیکرٹری عامر طلال خان نے کہا کہ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں آر ایل این جی کی کمی کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی تھی۔ کراچی کے ایک ہزار سے زائد فیڈرز لوڈشیڈنگ سے مستثنٰی ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری خزانہ سعد وسیم نے ایوان کو بتایا کہ حکومت 2027 تک ملک کو سود سے پاک کرنے کے لئے پرعزم ہے ،مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود میں معمولی اضافے کا مقصد افراط زر کے اضافے کو روکنا ہے ۔ مشرق وسطیٰ تنازع سے معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے اور عام آدمی کو ریلیف دینے کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...