درخواستگزار کو قرآن پاک پر حلف کی پیشکش واپس لینے کی اجازت

 درخواستگزار کو قرآن پاک پر حلف کی پیشکش واپس لینے کی اجازت

اہم شرط مسترد کرکے پیشکش جزوی قبول کرنا غیر مشروط قبولیت نہیں :ہائیکورٹ محمد اعظم کی سول نظرثانی درخواست منظور ، اپیلیٹ کورٹ کا حکم کالعدم قرار

لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے قرآن پاک پر خصوصی حلف کے ذریعے تنازع حل کرنے کی پیشکش واپس لینے کی اجازت دیتے ہوئے ماتحت اپیلیٹ کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیدیا، اپیل میرٹ پر فیصلے کیلئے واپس بھیج دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار حسین نے محمد اعظم خان کی جانب سے دائر سول نظرثانی درخواست پر 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا کہ فریقین کے درمیان اصل پیشکش اور اس کے جواب کا جائزہ لیے بغیر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ خصوصی حلف کے حوالے سے کوئی حتمی اور پابند معاہدہ طے پا چکا تھا، درخواست گزار محمد اعظم خان نے 19 اگست 2023 کو اپیلیٹ کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے پیشکش کی تھی کہ تنازع قرآن پاک پر خصوصی حلف کے ذریعے حل کیا جائے۔

ساتھ جھوٹا حلف اٹھانے کی صورت میں بیوی کو طلاق دینے کی شرط بھی شامل تھی۔ 22 اگست کو مخالف فریق عدالت پیش ہوا اور حلف اٹھانے پر آمادگی ظاہر کی تو 24 اگست کو درخواست گزار نے پیشکش واپس لینے کی درخواست دائر کردی ۔ ماتحت اپیلیٹ کورٹ نے طلاق کی شرط کو مسترد کردیا، تاہم حلف کی پیشکش کو قابل عمل سمجھتے ہوئے درخواستگزار کی پیشکش واپسی کی درخواست مسترد کردی ۔ لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ قانونِ معاہدات کے تحت اگر کسی پیشکش میں شامل اہم شرط کو مسترد کرکے صرف اس کا ایک حصہ قبول کیا جائے تو اسے اصل پیشکش کی غیر مشروط قبولیت قرار نہیں دیا جا سکتا، ماتحت اپیلیٹ کورٹ نے طلاق کی شرط کو مسترد کرنے کے باوجود باقی پیشکش کو پابند معاہدہ سمجھنے میں قانونی غلطی کی ،قبولیت اصل پیشکش کی شرائط کے مطابق ہونا ضروری ہے ۔عدالت نے محمد اعظم خان کی سول نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے 27 ستمبر 2023 کا ماتحت اپیلیٹ کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور ہدایت کی کہ متعلقہ اپیل کا فیصلہ قانون کے مطابق میرٹ پر کیا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...