جموںو کشمیر پر بھارتی قبضے کیخلاف یوم سیاہ منایا گیا، قومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور
مظفرآباد میں کنٹرول لائن کی جانب مارچ، مقبوضہ خطے میں ہڑتال، مظاہرے ، گلگت بلتستان اسمبلی میں بھی قرارداد منظور اسلام آباد میں یکجہتی واک، لاہور پریس کلب کے باہر مظاہرہ، عالمی برادری مسئلہ حل کرائے :صدر، وزیراعظم کے پیغامات
اسلام آباد، لاہور، مظفرآباد، سرینگر (اپنے رپورٹر سے ، نامہ نگار، وقائع نگار، سیاسی نمائندہ، دنیا نیوز، نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط کیخلاف پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں نے 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ منایا، ریلیاں نکالیں اور مظاہرے کئے جبکہ قومی اسمبلی نے بھارت کے غیرقانونی قبضے کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یومِ سیاہ منایا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی، احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور گھروں، سڑکوں اور کھمبوں پر سیاہ پرچم لہرائے گئے ۔ مختلف مقامات پر پوسٹرز بھی چسپاں کئے گئے جن میں 1947ء کے بھارتی حملے اور 5 اگست 2019ء کو آئین کی دفعات 370 اور 35 اے کی منسوخی کی مذمت کرتے ہوئے بھارتی فوج کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔مظفرآباد میں شاہراہ سرینگر پر کنٹرول لائن کی جانب مارچ کیا گیا جبکہ ہٹیاں بالا، میرپور اور کوٹلی میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ، کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو سلام پیش کرتے ہیں، بھارت 5 اگست کے اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ سے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے کا مطالبہ کیا۔گلگت بلتستان میں بھی یومِ سیاہ منایا گیا اور گلگت میں ریلی نکالی گئی۔ گلگت بلتستان اسمبلی نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت اور کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور کی۔اسلام آباد میں ریڈیو پاکستان چوک سے ڈی چوک تک احتجاجی ریلی اور کشمیر ڈے واک کا انعقاد کیا گیا۔ وزارت خارجہ کے حکام نے سیکرٹری خارجہ عاصم افتخار احمد کی قیادت میں یکجہتی واک میں شرکت کی۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی برادری کشمیری عوام کی مشکلات کے ازالے کیلئے کردار ادا کرے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے ، پاکستان کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا۔لاہور میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے زیراہتمام پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ کوئٹہ، چمن، پشین اور دیگر اضلاع میں بھی ریلیاں نکالی گئیں جبکہ پشاور میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی قیادت میں ریلی ہوئی۔ گورنر نے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنی امنگوں کے مطابق مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیرصدارت 27 اکتوبر یومِ سیاہ پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام اور چیئرمین کشمیر کمیٹی قاسم نون نے پیش کی۔ امیر مقام نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا، 1989ء سے اب تک ہزاروں کشمیری شہید کئے گئے لیکن آزادی کا جذبہ آج بھی برقرار ہے ۔قرارداد میں کہا گیا کہ 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج کا جموں و کشمیر میں داخلہ اور جبری قبضہ مسئلہ کشمیر کی تاریخ کا اہم موڑ ہے ۔ ایوان نے بھارت کے غیرقانونی قبضے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پرامن حل اور کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے ۔ قرارداد میں حکومت پاکستان کی جانب سے کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ قومی اسمبلی نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور تنازع کشمیر کے منصفانہ، پرامن اور پائیدار حل کیلئے مؤثر کردار ادا کیا جائے ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں، پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments