پنجاب اسمبلی: مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نکالا جائے ، قرارداد منظور

پنجاب اسمبلی: مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نکالا جائے ، قرارداد منظور

رمیش سنگھ اروڑا کی بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کو پاکستان آنے کی دعوت کئی چھوٹے دکاندار لاکھوں کمانے کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کرتے :مجتبیٰ شجاع الرحمن حکومت دوسرے روز بھی کورم پورا کرنے میں ناکام رہی، اجلاس آج تک ملتوی

لاہور (سیاسی نمائندہ، خبرنگار) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سرکاری ملازمین کے لیے لائف انشورنس کمپنی کے قیام، ٹیکس وصولیوں اور مسئلہ کشمیر پر بحث ہوئی جبکہ حکومت  مسلسل دوسرے روز کورم پورا کرنے میں ناکام رہی۔ اجلاس دو گھنٹے چار منٹ تاخیر سے پینل آف چیئرپرسن سمیع اللہ خان کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں یوم سیاہ کشمیر کے حوالے سے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی، قرارداد میں 27 اکتوبر کو کشمیریوں کے لیے سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس روز بھارت نے جموں و کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان واقعات کا نوٹس لے ۔ قرارداد میں کہا گیا کہ طاقت اور جبر کے ذریعے کسی قوم کی آواز دبائی نہیں جا سکتی، جبکہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق نکالا جانا چاہئے ۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے 2024 میں پنجاب لائف انشورنس کمپنی کے قیام کی اجازت دی تھی جس سے ابتدائی طور پر دس لاکھ کلائنٹس ملنے کی توقع ہے۔

کمپنی سرکاری ملازمین کو کم پریمیم پر انشورنس سہولیات فراہم کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی نے مالی سال 2025-26 میں 38 فیصد ترقی حاصل کی جبکہ حکومت کا ٹیکس وصولیوں کا ہدف ایک ہزار ارب روپے سے زائد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض چھوٹی دکانیں لاکھوں روپے کمانے کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کرتیں، جبکہ بڑے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کی جانب سے مبینہ طور پر نقد ادائیگیوں کے لیے الگ اکاؤنٹس رکھے جاتے تھے اور ایک انوائس متعدد مرتبہ جاری کی جاتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوم ڈلیوری کے ذریعے ہونے والے کاروبار میں بھی ٹیکس کی ادائیگی کے مسائل سامنے آئے ہیں۔ اپوزیشن رکن ندیم قریشی نے ملتان میں 156 افراد کے ذمے 88 کروڑ روپے کے واجب الادا ٹیکس کی وصولی نہ ہونے پر سوال اٹھایا۔

صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا نے پنجاب اسمبلی میں بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان کو لاہور آنے اور عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنے پنجابی بھائیوں کا کھلے دل سے استقبال کرے گا۔ پنجابی زبان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے بھی بھگونت سنگھ مان اور بھارتی پنجاب اسمبلی کے سپیکر کو لاہور اور کرتارپور صاحب آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت روزانہ پانچ ہزار سکھ یاتریوں کی آمد طے ہوئی تھی تاہم بھارتی جانب سے تعداد پانچ سو تک محدود کر دی گئی، راہداری کھلی رکھی جائے ۔ بعدازاں اپوزیشن رکن حسن ملک کی نشاندہی پر کورم نامکمل پایا گیا اور اجلاس آج صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...