معیشت مستحکم مگر 3 بڑے خطرات برقرار، حکومت بھی سہ جہتی بنیاد پر نمٹنے کو تیار : ماہانہ اکنامک آئوٹ لک جاری
خلیجی تنازع،تیل قیمتیں،عالمی سطح پر مہنگائی اہم چیلنجز،غریب گھرانوں کی ٹارگٹڈفیول سبسڈی،سٹرکچرل اصلاحات جاری رہیں گی زرمبادلہ ذخائر26.8،ترسیلات زر10.9ارب ڈالر،ادائیگیوں کاتوازن3.1ارب ڈالرسرپلس،مہنگائی میں کمی آرہی،رپورٹ
اسلام آباد(مدثرعلی رانا) وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ خلیجی تنازع، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو اور عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے کو ملکی معیشت کیلئے بڑے خطرات رہیں گے، ان خطرات کا سامنا کرنے کیلئے حکومت 3 اہم اقدامات کرے گی، میکرو اکنامک استحکام کو مضبوط رکھا جائے گا، مہنگائی کی توقعات کو کنٹرول میں رکھا جائے گا اور مالیاتی اور بیرونی محاذ پر استحکام کو یقینی بنایا جائے گا، اس کے ساتھ ساتھ غریب گھرانوں کیلئے ٹارگٹڈ فیول سبسڈی بھی جاری رہے گی، اس طرح سرمایہ کاری، پیداوار اور پائیدار ترقی کیلئے سٹرکچرل ریفارمز بھی جاری رہیں گی۔ وزارت خزانہ نے جمعرات کو ماہانہ اکنامک آئوٹ جاری کردیا جس میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کشیدگی اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود پاکستان کی معیشت پہلی سہ ماہی کے دوران مستحکم رہی۔ زرمبادلہ ذخائر 26.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جن میں سٹیٹ بینک کے ذخائر 21.5 ارب ڈالر ہیں۔
ترسیلات زر 14 فیصد اضافے کے ساتھ 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ سب سے حوصلہ افزا پیش رفت بیرونی فنانسنگ میں بہتری ہے ۔ حکومت نے ستمبر میں کامیابی سے 3 ارب ڈالر کے خود مختار یورو بانڈ کا اجرا کیا، جس کے بعد غیر ملکی سرمایہ کاری کا اعتماد بحال ہوا ہے ۔ پورٹ فولیو انویسٹمنٹ میں 2.9 ارب ڈالر کا خالص اضافہ ہوا جبکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 20 فیصد اضافے سے 72 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔ جولائی سے ستمبر تک ترسیلات زر کا حجم اشیاء اور خدمات کے تجارتی خسارے سے بھی زیادہ ہے ، اسی وجہ سے ادائیگیوں کا توازن 3.1 ارب ڈالر سرپلس میں آ گیا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 27 کروڑ ڈالر خسارہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق خریف کی فصل نے ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔ مکئی کی پیداوار 12.1 فیصد اضافے سے 9.98 ملین ٹن، گنے کی پیداوار 8.8 فیصد اضافے سے 97.3 ملین ٹن اور چاول کی پیداوار 1.8 فیصد اضافے سے 10.2 ملین ٹن رہی، البتہ کپاس کی پیداوار 4.8 فیصد کم ہو کر 6.71 ملین بیلز رہی۔
زرعی قرضوں کی تقسیم 32.7 فیصد بڑھ کر 540.5 ارب روپے ہو گئی۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں جولائی تا اگست 1.9 فیصد اضافہ ہوا۔ آٹو موبائل سیکٹر میں تیزی رہی، ٹرک اور بس کی پیداوار 54.2 فیصد، کاروں کی پیداوار 31.8 فیصد اور دو/تین پہیہ گاڑیوں کی پیداوار 28.1 فیصد بڑھی۔ سیمنٹ کی ملکی فروخت 7.8 فیصد بڑھ کر 10.8 ملین ٹن ہو گئی جو تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی کا ثبوت ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی میں کمی کا رجحان ہے ، ستمبر میں افراط زر 11.1 فیصد سے کم ہو کر 10.3 فیصد پر آ گئی تاہم ٹرانسپورٹ 27.4 فیصد اور بجلی گیس 12.4 فیصد مہنگی ہونے سے عوام پر توانائی کا بوجھ برقرار ہے ۔ رپورٹ کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط بہتر رہا، جولائی تا اگست وفاقی آمدن 2912.9 ارب روپے رہی جبکہ اخراجات 2124.4 ارب سے زائد رہے اور 0.5 فیصد جی ڈی پی سرپلس حاصل ہوا۔ ایف بی آر نے پہلی سہ ماہی میں 3086.2 ارب روپے جمع کئے جو ہدف سے 33.2 ارب اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments