مولانا پر خواجہ آصف کے الزامات کی تائید نہیں کر سکتا : رانا ثنااللہ

مولانا پر خواجہ آصف کے الزامات کی تائید نہیں کر سکتا : رانا ثنااللہ

سیاست میں بعض اوقات حدود سے تجاوز ہو جاتا ،سیاستدانوں میں لچک ہونی چاہیے اہم ترمیم لائے تو حکومت مولانا سے ضرور تعاون مانگے گی: ’’دنیا مہربخاری کیساتھ‘‘

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اور خواجہ آصف کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کی گئی گفتگو کشیدہ سیاسی ماحول کا نتیجہ ہے ۔ وہ مولانا فضل الرحمن پر خواجہ آصف کے الزامات کی تائید نہیں کر سکتے ۔ پروگرام ‘‘دنیا مہربخاری کے ساتھ’’ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست میں بعض اوقات ماحول گرم ہونے پر حدود سے تجاوز ہو جاتا ہے ، تاہم سیاست دانوں میں اتنی لچک ہونی چاہیے کہ معاملات کو بعد میں بہتر انداز میں حل کیا جا سکے ۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی مسلم لیگ (ن) کی تلخیاں رہی ہیں، لیکن بعد میں معاملات بہتر انداز میں حل ہو گئے۔

پی ڈی ایم حکومت کے دوران مولانا فضل الرحمن کے ساتھ اچھی یادیں وابستہ ہیں۔ خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان حالیہ تلخی کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خواجہ آصف کسی کی ہدایت پر بات نہیں کرتے بلکہ اپنے خیالات کا اظہار دبنگ انداز میں کرتے ہیں۔ اسمبلی میں ان کا بیان بھی کسی کے کہنے پر نہیں تھا۔ ان کے خیال میں بہتر ہوتا کہ مولانا فضل الرحمن کی تقریر کے فوراً بعد خواجہ آصف جواب دے دیتے ۔ محسن نقوی بھی مولانا فضل الرحمن کے بارے میں باتیں کرتے رہے ہیں اور موقع ملنے پر انہوں نے بھی جواب دیا۔ سیاست دانوں کے درمیان تلخی ہو جائے تو ان کے بیانات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے ۔

سیاست دانوں کے درمیان ماضی میں بھی اختلافات ہوتے رہے ہیں جو بعد میں ختم ہو جاتے ہیں۔ ایسے معاملات پر ٹی وی ٹاک شوز میں غیر ضروری تبصرے نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر کوئی اہم ترمیم لانا پڑی تو حکومت مولانا فضل الرحمن سے ضرور تعاون مانگے گی۔ جب ترمیم ملک اور قوم کے مفاد میں ہوگی تو مولانا ساتھ دیں گے ۔ ان کے مطابق ترمیم منظور کرانے کے لیے حکومت کے پاس مطلوبہ تعداد موجود ہے ۔نورین نیازی کے تمام طبی ٹیسٹ معمول کے مطابق آئے ہیں اور ان کی طبیعت بہتر ہے ، نورین نیازی ملک میں انتشار پھیلانے کے خدشے کے باعث جیل میں ہیں۔ ان کے علاج اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت کے معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...