جنگ کے خطرات، امن کی امیدیں : ایرانی وفد قطر میں، امریکی حکام بھی پہنچیں گے : عرب میڈیا، مجتبیٰ خامنہ ای نے فوج کو کسی بھی حملے کا فوری اور بھرپور جواب دینے کا حکم دیدیا جنگی تیاریوں میں اضافہ
ایرانی سپریم لیڈر کی فوجی سربراہوں سے پہلی ملاقات ، فوجی سربراہ جنرل علی عبداللہی، آرمی چیف امیر حاتمی ، پاسداران کے کمانڈر احمد وحیدی سمیت اعلیٰ فوجی حکام کی شرکت ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات کی خبریں قیاس آرائیاں،امریکی نائب صدر کے پیغام کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لیا،اب کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی:ایرانی وزیر خارجہ
دوحہ ، تہران (نیوز ایجنسیاں )ایران اور قطر کے مذاکرات کاروں نے خلیجی جنگ کے خاتمے اور امریکا کے ممکنہ نئے حملوں کو روکنے کیلئے ہفتے کو دوحہ میں بات چیت کی۔ یہ رابطے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خدشہ ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد صدر ٹرمپ ایران پر دوبارہ حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایرانی وفد کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکام کا امریکی فریق سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں، ان کے بقول ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی خبریں محض میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں۔الجزیرہ سے گفتگو میں عراقچی نے بتایا کہ ایران نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پیغام کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لیا ہے ، تاہم واشنگٹن کی جانب سے ایرانی شرائط تسلیم کیے جانے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ مذاکرات براہِ راست ہوں گے یا بالواسطہ۔
دوسری جانب قطری اخبار العربی الجدید نے ثالثی عمل سے واقف ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں میں پیش رفت ہوئی ہے اور ایک امریکی وفد بھی دوحہ پہنچنے والا ہے ۔امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق قطری ثالث ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں سرگرم ہیں اور مذاکراتی کوششیں جاری ہیں۔رائٹرز کے مطابق ایرانی اور قطری حکام کے درمیان دوحہ میں ہونے والے مذاکرات سے قبل جمعہ کو تہران میں 12 گھنٹے سے زائد طویل بات چیت ہوئی تھی۔ مذاکرات سے باخبر ایک ذریعے نے بتایا کہ ان رابطوں کو واشنگٹن کے ساتھ مسلسل مشاورت کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے ۔علاقائی ممالک کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ نے امریکی انتخابات سے قبل ایران پر حملے روک رکھے ہیں اور منگل کو ووٹنگ ختم ہونے کے بعد دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ نئے حملوں کی صورت میں وہ پڑوسی ممالک میں موجود امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنائے گا۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی فوج کو کسی بھی حملے کا فوری اور بھرپور جواب دینے کی تیاری کا حکم دیا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے دوبارہ فوجی یا دہشت گرد حملے کیے تو ان کے خاتمے کا وقت اور شرائط ایران کی مسلح افواج اور قوم طے کریں گی۔انہوں نے فوجی قیادت کو ایران کے اہداف کی فہرست پر نظرثانی کرتے ہوئے اس میں امریکا اور اسرائیل کے دشمن سے وابستہ تمام ظاہری اور پوشیدہ اثاثے شامل کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی نوعیت کے خطرے کا جواب جغرافیائی حدود کی پابندی کے بغیر دیا جائے ۔ اجلاس میں ایرانی افواج کے سربراہ جنرل علی عبداللہی، آرمی چیف امیر حاتمی اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی سمیت اعلیٰ فوجی حکام شریک تھے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے کے بعد فوجی قیادت کے ساتھ یہ ان کی پہلی رپورٹ شدہ ملاقات تھی۔ ایرانی فوج نے بھی اپنی جنگی تیاریوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرم نیا نے ہفتے کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اگر امریکی صدر نے صہیونیوں کے دباؤ میں آکر انہیں خوش کرنے کی کوشش میں ایک بار پھر خطے میں مہم جوئی کی تو جنگ کے شعلے بلا شبہ کہیں زیادہ وسیع جغرافیائی علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے ۔رائٹرز کے مطابق قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان وسیع تر امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلئے سات روزہ اعتماد سازی منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت دونوں ملکوں کو روزانہ کی بنیاد پر ایسے اقدامات کرنا تھے جن سے باہمی اعتماد بحال ہو سکے ۔ تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے جمعے کو بتایا کہ تہران نے اس تجویز کو قابل قبول نہیں سمجھا۔دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رواں ہفتے ایران کے ایک سخت گیر سینئر سکیورٹی عہدیدار کو خط بھیجا تھا، جسے مذاکرات کی بحالی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے ۔ ٹرمپ نے تاہم اس خط کی اہمیت کم کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ایران میں طبی سامان کی فراہمی کے امکان پر بات کرنا تھا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو کہا کہ تہران وینس کے خط کا جائزہ لے رہا ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے ایران کا اپنا منصوبہ ہی واحد تجویز ہے ۔ عراقچی نے ایکس پر خبردار کیا کہ ایرانی عوام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کو ایران کی طاقتور مسلح افواج کی جانب سے لرزہ خیز جواب ملے گا ، اب کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔یوں ایک طرف قطر کی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں تو دوسری طرف امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں اور امریکی انتخابات کے بعد دوبارہ جنگ چھڑنے کا خدشہ خطے کو بدستور اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments