بلاول کا یونیورسٹی آف لاڑکانو کا دورہ،وزیراعلیٰ کی بریفنگ
یونیورسٹی میں 5فیکلٹیز، 16شعبہ جات اور 26تعلیمی پروگرامز موجود ہیں، مرادشاہ وزیراعلیٰ کا یونیورسٹی کیلئے اضافی مالی معاونت، ترقیاتی فنڈز اور ادارہ جاتی تعاون پر زور
لاڑکانہ (بیورو رپورٹ)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کو یونیورسٹی آف لاڑکانو کا دورہ کیا ،جہاں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے انہیں یونیورسٹی کے تعلیمی، انتظامی، مالیاتی اور ترقیاتی امور کے ساتھ ساتھ درپیش اہم چیلنجز اور مستقبل کی ضروریات کے بارے میں بریفنگ دی۔ بریفنگ میں یونیورسٹی کو مضبوط بنانے اور لاڑکانہ ڈویژن سمیت سندھ کے ملحقہ پسماندہ علاقوں میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھانے کے لیے اضافی مالی معاونت، بنیادی ڈھانچے کی بحالی، ترقیاتی فنڈز اور ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔ سندھ اسمبلی سے 24 جولائی 2023 کو منظور ہونے والے یونیورسٹی آف لاڑکانو ایکٹ 2023 کے تحت قائم ہونے والی یونیورسٹی نے یکم جنوری 2024 کو باضابطہ طور پر کام شروع کیا۔ یونیورسٹی چار سرکاری اداروں اور کیمپسز کے انضمام کے ذریعے قائم کی گئی، جن میں قائد عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (QUEST) کیمپس لاڑکانہ، جامعہ سندھ کیمپس لاڑکانہ، شہید ذوالفقار علی بھٹو ایگریکلچر کالج ڈوکری اور شہید بینظیر بھٹو لا کالج لاڑکانہ شامل ہیں تاہم لا کالج کا انضمام تاحال مکمل ہونا باقی ہے ۔
یونیورسٹی کے مختلف کیمپسز میں مجموعی طور پر تقریباً 528.5 ایکڑ اراضی موجود ہے ، جس میں آریجا مین کیمپس کی 350 ایکڑ، ڈوکری میں فیکلٹی آف ایگریکلچر سائنسز کی 150 ایکڑ اور ایئرپورٹ روڈ اور واگن روڈ پر واقع سہولیات شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے پی پی چیئرمین کو بتایا کہ یونیورسٹی میں پانچ فیکلٹیز، 16 شعبہ جات اور 26 تعلیمی پروگرامز موجود ہیں، جہاں انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی، زراعت، مینجمنٹ سائنسز، کامرس، سماجی علوم، فنون اور نیچرل سائنسز میں انڈر گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور ڈاکٹریٹ کی سطح پر تعلیم فراہم کی جا رہی ہے ۔ مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس سمیت جدید شعبوں میں بھی تعلیمی پروگرامز پیش کیے جا رہے ہیں۔بریفنگ کے مطابق یونیورسٹی میں 2026 کے لیے مختص 3,206 طلبہ کی گنجائش کے مقابلے میں اس وقت 2,875 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ادارے میں 78 مستقل اور 21 کنٹریکٹ فیکلٹی ممبران خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ انتظامی عملے میں 324 مستقل ملازمین، 11 کنٹریکٹ ملازمین اور 41 کنٹیجنٹ پیڈ ملازمین شامل ہیں۔ سال 2025-26 کے لیے پی ایچ ڈی فیکلٹی ممبران کی تعداد 34 ہے ، جبکہ آئندہ تعلیمی سال کے لیے یہ تعداد 35 ہونے کا تخمینہ ہے ۔مالی سال 2026-27 کے لیے یونیورسٹی نے اپنے مجموعی دستیاب وسائل کا تخمینہ 894.568 ملین روپے لگایا ہے ۔یونیورسٹی کی فوری بنیادی ڈھانچے اور ادارہ جاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے 2.034 ارب روپے کی مالیت کی ایک علیحدہ نئی ترقیاتی اسکیم بھی جمع کرائی گئی ہے ۔ بریفنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بروقت مالی معاونت، زیرِ التوا ترقیاتی اسکیموں کی منظوری اور موجودہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی یونیورسٹی کی تعلیمی صلاحیت مضبوط بنانے اور لاڑکانہ ڈویژن سمیت ملحقہ علاقوں کے طلبہ کی خدمت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments