خواتین اور جھاڑو
اسپیشل فیچر
یہ تو طے ہے کہ گھریلو خواتین کے لیے جھاڑو جزو لازم ہے۔ گھریلو خواتین کا گزارہ جھاڑو کے بغیر ممکن نہیں۔ تاہم برس ہا برس جھاڑو استعمال کرنے کے باوجود خواتین کی اکثریت جھاڑو کے بیش تر فوائد و ثمرات سے بے خبر بلکہ لاعلم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جھاڑو سے صرف جھاڑو دیتی ہیں اور جب جھاڑو مرزا فرحت اللہ بیگ کی نانی کی طرح صرف ’’نانی چندو‘‘ رہ جاتی ہے تو وہ جھاڑو اُٹھا کر کوڑے میں پھینک دیتی ہیں اور تین چار ماہ استعمال کے بعد پرانی جھاڑو کی جگہ نئی جھاڑو آجاتی ہے۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ جھاڑو صرف خواتین کے زیر استعمال نہیں رہتی۔ جھاڑو مرد بھی استعمال کرتے ہیں۔ مرد زیادہ تر جھاڑو صفائی اور خواتین کی دھلائی کے لیے استعمال کرتے ہیں لیکن اب اللہ کے فضل سے ایسے پڑھے لکھے، سلجھے، سمجھ دار اور وضع دار مرد بھی مارکیٹ میں آگئے ہیں جو عورت کی خوش نودی کی خاطر جھاڑو استعمال کرتے ہیں۔ ایسے تمام مرد بڑے سُکھی اور شانت رہتے ہیں کیوں کہ ان سے ان کی مائیں بہنیں اور بیویاں خوش رہتی ہیں۔ یہ جو آپ دفاتر، فیکٹریوں، ملوں، اسکولوں، کالجوں، یونی ورسٹیوں، سیمیناروں، جلسوں، جلوسوں میں بڑے خوب صورت وجیہہ خوبرو باوقار اور بارعب مرد افسران دیکھتے ہیں۔ ان میں سے اکثر وجاہت اور دبدبے سے بھرپور مرد اپنے گھروں میں نیکر پہنے جھاڑو لگا رہے ہوتے ہیں کیوں کہ ان کی مائیں کسی ناقابل تشخیص بیماری میں مبتلا بستر استراحت پر جوس، سوپ، کافی اور پھل فروٹ، فش یا چکن کھانے کا کام انجام دے رہی ہوتی ہیں۔ لہٰذا یہ خوش پوش اور خوبرو لڑکے اپنی مائوں کو آرام پہنچانے اور ان کے احکامات بجالانے کی خاطر علی الصباح جھاڑو پونچھا کرکے گھر سے نکلتے ہیں۔ اس وقت یہ جینز جیکٹ میں اسمارٹ لڑکے اور مرد دیکھنے کے لائق ہوتے ہیں۔ بعض کے گلے میں نیکر کے علاوہ بنیان بھی پائی جاتی ہے۔ بہرحال یہ آفس آنے سے پہلے گھر میں جھاڑو لگا کر آتے ہیں۔ اگرچہ گھر میں دودو بلکہ تین تین بہنیں میک اپ اور ٹیلی فون پر گپیں لگا رہی ہوتی ہیں لیکن ایک تابع دار بیٹے اور ہونہار بھائی کی یہی مجبوری ہے کہ وہ صبح اُٹھ کر پہلے جھاڑو لگائے، پھر ٹاکی لگائے، پھر ڈسٹنگ کرے، برتن دھوئے، ناشتہ بنائے اور اگر ممکن ہوتو جانے سے پہلے ماں کی ٹانگیں کمر اور سر دبائے۔ پھر میک اپ زدگان بہنوں کو کالج ، یونی ورسٹی یا آفس ڈراپ کرکے خود اپنے دفتر جائے۔ اگر کوئی انہیں رنگے ہاتھوں جھاڑو دیتے پکڑ لے اور پوچھ بیٹھے کہ گھر میں چار عورتوں کے ہوتے وہ یہ بے ہودہ کام کیوں کررہے ہیں تو لڑکا فوراً کہے گا: ’’بھئی امی تو بہت بیمار رہتی ہیں۔ انہیں ڈاکٹر نے کئی سال سے بیڈ ریسٹ دے رکھا ہے۔اب وہ پچپن برس کی عمر میں جھاڑو دیتی کیا اچھی لگیں گی۔‘‘’’لیکن یہ جو تمہاری دو ہٹی کٹی بہنیں ہیں… انہیں شرم نہیں آتی… بھائی سے جھاڑو لگواتے ہوئے… یار کیسی بے شرم اور بے ضمیر بہنیں ہیں تمہاری… ایک اکلوتے بھائی سے سارے گھر کا کام لیتی ہیں… یہ بہنیں ہیں یا چڑیلیں؟؟‘‘لڑکا جلدی سے کہتا ہے… ’’یار تم میری بہنوں کو کچھ نہ کہو ورنہ میں تمہارے منہ پر یہی جھاڑو دے ماروں گا۔ میری بہنیں میرا بہت خیال رکھتی ہیں۔ مجھ سے محبت کرتی ہیں اور آخر سارے گھر کاکام کرتی ہیں۔ ایک کالج جاتی ہے دوسری فیملی پلاننگ کے دفتر میں لوگوں کے بچے پیدا کرنے یا نہ کرنے کی گولیاں اور انجکشن دیتی ہے۔ دونوں تھک جاتی ہیں۔ پھر گھر آکر میں کھانا بناتا ہوں تو وہ کھانا میز پر لگاتی ہیں۔ میں برتن دھوتا ہوں اور وہ برتن الماری میں رکھتی ہیں۔ میں کپڑے دھوتا ہوں وہ تہہ کرکے رکھتی ہیں۔ میں کپڑے استری کرتا ہوں وہ پہن لیتی ہیں۔ میں جھاڑو و ٹاکی لگاتا ہوں تو وہ تعریف کرتی ہیں۔ دیکھو ناں آخر وہ کتنا کام کرتی ہیں۔ بے چاری کام کرکر کے تھک جاتی ہیں۔ کل کو انہیں اگلے گھر بھی جانا ہے وہاں بھی کام کرنا ہے۔ ساری زندگی کام ہی کرتی رہتی ہیں۔ انہیں آرام تو ملتا ہی نہیں۔ یار پھر کیا ہوگیا اگر میں نے ذرا سی جھاڑو لگا دی تو…‘‘(زورِ جھاڑو اور زیادہ سے انتخاب)