گل شہزادہ عبدالودود بحیثیتِ حکمرانِ سوات
اسپیشل فیچر
وادیٔ سوات کے علاقے میں ایک وقت یہ تھا کہ ایک طرف نوابِ دیر ہر وقت جنگ و جدل کے لئے تیار نظر آتا تھا اور دوسری جانب انگریز قبائلی علاقہ میں کسی منظم ریاست کے قیام کا روادار نہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی ریاستِ امب کا حکمران بھی یہ برداشت نہ کر سکتا تھا کہ اس کے پہلو میں کوئی جدید ریاست جنم لے۔اندرونِ ملک کی حالت بھی کسی طرح اطمینان بخش نہ تھی۔رسد و رسائل کے ذرائع مفقود تھے اور باہر کی دنیا سے رابطہ کٹا ہوا تھا۔ سب سے زیادہ مایوس کن بات یہ تھی کہ عام لوگوں میں قبائلی دور کی باغیانہ خصلت موجود تھی اور ان کی وفاداری پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ان حالات میں حقیقتاً حکومت کا تاج ایسے کانٹوں کا تاج تھا جس کے قیام و بقا کی کوئی ضمانت نہ تھی۔ لیکن اس دور 1917ء میں امید کی کرن صرف ایک تھی۔ یعنی عام لوگ، علما اور اولیائے کرام سے بہت عقیدت اور محبت رکھتے تھے۔میاں گل عبدالودود اس دور کے مشہور پیر اخوند عبد الغفور (سیدو بابا) کے پوتے تھے، لہٰذا نئے حکمرانِ سوات کے سلسلے میں عمائدینِ سوات نے ایک جرگہ بلا لیا جس نے علما کے مشورہ سے گل شہزادہ عبدالودود کے نام پر اتفاق کیا۔ ان کے نام کے انتخاب میں سنڈاکئی ملا صاحب نے اہم کردار ادا کیا۔ گل شہزادہ عبدالودود ان دنوں چک درہ کے قریب موضع دربار میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ خوانینِ سوات نے ایک وفد ان سے ملاقات کے لئے بھیجا اور جرگہ کے متفقہ فیصلے سے انہیں آگاہ کیا۔ گل شہزادہ عبدالودود نے سیدو شریف آ کر بحیثیتِ سربراہِ ریاست اپنا منصب سنبھال لیا۔ ذاتی طور پر میاں گل عبدالودود (المعروف بادشاہ صاحب) بہت خوبیوں کے مالک تھے۔ چوں کہ قبائلی سیاست میں وہ ایک اہم فریق کی حیثیت سے حصہ لیتے رہے تھے اور متعدد قبائلی جنگوں میں اپنے حلیفوں کے شانہ بشانہ لڑ چکے تھے، لہٰذا قبائلی سیاست کے خوب ماہر تھے۔ غیر معمولی قوتِ ارادی کے مالک جرأت مند اور نڈر تھے۔ خود اعتمادی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اخلاقی لحاظ سے مضبوط کردار کے مالک تھے۔ نہ صرف نماز، روزہ کے پابند تھے بلکہ تہجد گزار بھی تھے۔کثرت سے نفلی روزہ رکھتے تھے۔دستار بندی کے بعد انہوں نے ریاست کے نظم و نسق اور امن و امان کی طرف توجہ مبذول کی۔ نظم و نسق کی ذمے داری انہوں نے اپنے جان نثار دوست حضرت علی خان کے سپرد کر دی اور انہیں اپنا وزیر بنایا۔ معمولی تعلیم کے باوجود حضرت علی خان بڑے ذہین اور مدبّر انسان تھے۔ خوانینِ سوات سے معاملات طے کرنے میں ان کی عزت و احترام کا بہت خیال رکھتے تھے اور اپنی کامیاب ڈپلومیسی سے تھوڑے عرصہ میں بادشاہ صاحب کے خلاف مزاحمتی قوتوں کا قلع قمع کر دیا۔ چوروں اور ڈاکوؤں کے لئے قتل کی سزا تھی اور تھوڑے عرصہ میں مکمل امن و امان قائم ہو گیا۔ بعد میں بادشاہ صاحب نے اپنی صاحب زادی ان کے عقد میں دے دی۔ حضرت علی خان کی طرح ان کے چھوٹے بھائی احمد علی خان بادشاہ صاحب کے بڑے وفادار تھے۔ ان کی دیرینہ خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں ریاستی فوج کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ ریاستی فوج اور خوانین کے رضا کاروں کی مدد سے احمد علی خان نے ریاستی حدود میں بڑی توسیع کی۔بادشاہ صاحب کی حکومت کے ابتدائی ایام(1918 ء) میں نوابِ دیر نے حسبِ سابق علاقہ نیک پی خیل پر حملہ کر دیا۔ بادشاہ صاحب نے دیر کے لشکر کے مقابلہ کے لئے اپنے بھائی میاں گل شیرین شہزادہ کو بھیجا۔ شیرین شہزادہ نے دیر کے لشکر پر بڑی بہادری سے حملہ کیا لیکن خود قتل ہو گئے۔ شیرین شہزادہ کے شہید ہونے کے بعد سوات اور باجوڑ کے لوگوں کا غصہ نوابِ دیر کے خلاف حد سے زیادہ بڑھ گیا اور وہ سوات کے لشکر میں جوق در جوق شامل ہونے لگے۔1919ء میں نوابِ دیر کے لشکر کو بادشاہ صاحب نے سخت شکست دی اور ریاستِ دیر کے علاقہ ادینزئی کے نصف حصہ پر قبضہ کر لیا۔ یہ بادشاہ صاحب کی اولین شاندار کامیابی تھی جس نے اس علاقہ پر ان کا سکہ بٹھا دیا۔1921ء میں ایک دفعہ پھر خطرات کے بادل امنڈ آئے تو جدید ریاست کو ایک مشکل ترین دور سے گزرنا پڑا۔ ریاست کے اندر چند قبائل نے بغاوت کر دی۔ دوسری طرف علاقہ بونیر میں نواب امب نے گوکند کے مقام پر حملہ کر دیا۔ کوہستان کے لشکر نے نوابِ دیر کے ایما پر مدین کے مقام پر اجتماع کیا۔ خود امب کا لشکر کوہِ کڑاکڑ تک پہنچ گیا اور دیر کے جس علاقہ ادین زئی پر سوات کے لشکر نے قبضہ کیا تھا، اس میں بھی بغاوت کے آثار نمودار ہونے لگے۔ نوابِ دیر کو انگریز کی حمایت حاصل تھی۔ اس طرح گویا بیک وقت بادشاہ صاحب کی حکومت سخت مشکلات میں گھر گئی۔ لیکن بادشاہ صاحب نے ہمت نہ ہاری۔ بڑی جواں مردی سے تمام محاذوں پر توجہ دی اور اپنی عقل اور تدبر سے کام لیتے ہوئے مسلسل پانچ ماہ تک جنگ و جدل میں مصروف رہنے کے بعد انہوں نے مشکلات پر قابو پا لیا اور تمام محاذوں پر انہیں کامیابی نصیب ہوئی۔٭…٭…٭