قصہ مسلمانوں کے وفد کی لارڈ منٹو سے ملاقات کا

قصہ مسلمانوں کے وفد کی لارڈ منٹو سے ملاقات کا

اسپیشل فیچر

تحریر : پروفیسرڈاکٹر ایم اے صوفی


محمڈ ن ایجوکیشنل کانفرنس ڈھاکہ کے بعدہند کے مسلمانوں کے زعماء کی ایک سپیشل میٹنگ منعقد کی گئی تاکہ ہند کے مسلمانوں کی سیاسی تنظیم کی تشکیل ہو سکے۔ نواب وقار الملک نے صدارت فرمائی اور اُردو ز بان میں تقریر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:
''وقت اور حالات نے ہمارے لیے اب ضروری کر دیا ہے کہ ہند کی مسلم قوم ایک ایسوسی ایشن کی تشکیل کے لیے اکٹھی ہو جائے، تاکہ اُن کی اپنی ایک آواز ہو اور سُنی بھی جائے۔ بلکہ اِس آرگنائزیشن کا اِتنا جلال ہو کہ سمندر پار تک مسلمانوں کے مطالبات سنُے جائیں۔‘‘
نواب آف ڈھاکہ نے کہا کہ حالات نے ہمیں اب مجبور کر دیا ہے کہ ہماری ایک تحریک یا پلیٹ فارم ہو کیونکہ اب تک انگلستان والوں کو مسلمانانِ ہند کے مسائل اور ناانصافیوں کی خبر نہیں کیونکہ اب تک انڈیا کے سیاسی مشاہیر یہ ہی کہتے چلے آرہے ہیںکہ اُن کی سیاسی جماعت (کانگریس)مسلمانوں کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے اصلی مسائل نہ تو سمجھے گئے ،نہ پیش کیے گئے اور اب اُن ہی لوگوں کی بات سُنی جاتی ہے جو سیاسی پلیٹ فارم سے اُونچی آواز میں بولتے ہیں۔ لہٰذا مسلمان مجبوراً پیچھے رہ گئے۔ اپنے تمدّنی وقار اور فطرت پر ڈٹے رہے اور موقع پرست آگے بڑھ گئے اور دوسری قومیں اپنے مقاصد کی خاطر آگے بڑھ گئیں۔
اس سے قبل یکم اکتوبر1906 ء کو 35 مضبوط ترین مسلم شرکاء کے وفد نے وائسرائے ہند لارڈ منٹو کیساتھ آغا خان کی سربراہی میں شملہ میںملاقات کی اور مسلمانانِ ہند کی جانب سے وائسرائے ہند کو خطاب کیا اور اپنے مطالبات پیش کیے ۔اِس وفد میں35ممبران تھے۔ بنگال صوبہ سے 5نمائندہ تھے۔ ایک نمائندہ آسام مشرقی بنگال سے تھا۔ اِن میں :
1۔صاحبزادہ بختیار شاہ سربراہ میسور نواب فیملی
2۔نواب بہادر سعید امیر حسین خان آف کلکتہ بنگال
3۔نصیر حسین خیال کلکتہ بنگال
4۔خان بہادر مرزا شجاعت علی کونسل جنرل مرشدآباد
5۔عبدالرحیم بار ایٹ لاء کلکتہ
6۔خان بہادر سید نواب علی چوہدری میمن
مسلمانوں کے نمائندگان نے تحریری خطاب میں ہند کے مسلمانوں کے تمام سیاسی معاملات واضح کیے۔ مسلمانوں کے سماجی حقوق مثلاًسرکار ی دفاتر میں ملازمت مسلمانوں کے لیے بند تھی۔ اِسی طرح صوبائی سطح اور مرکز میں یونیورسٹی نہیں،میونسپل کمیٹی میں مسلمانوں کے راستے بند تھے۔مسلمانوں کی نہ تو کسِی بورڈ میں نمائندگی تھی اور نہ کسی یونیورسٹی ،سینٹ میں حصہ تھانہ ہی وائسرائے کونسل میں مسلمانوںکی شمولیت تھی اور خاص کر مشرقی بنگال آسام میں تو کیفیت 1905 ء کی تقسیم بنگال کے بعد مزید خراب ہو گئی اور مسلمانوں کے ساتھ ،برتائو غیرمناسب ، متصبانہ اور تفریق والا تھا۔
خطاب کے دوران وضاحت کی گئی کہ جن ضلعوں یا صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔ اُن علاقوں کے مسلمانوں کیساتھ حکومت کابرتائو اور سلوک مناسب نہیں ہے اور کانگریس لیڈروں کارویہّ غیر منصفانہ ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو ہر لحاظ سے پیچھے رکھا جا رہا ہے۔ اِسی طرح صوبہ سندھ اور پنجاب کاحال ہے۔
مسلمانوں کے اِس اجلاس میں نواب سلیم اللہ خان اور سید نواب علی چوہدری تقسیم بنگال کے معاملے میں بضد تھے کہ اِس خطاب کی تحریر میں یہ بھی درج کیا جائے کہ مسلم آف بنگال کی بڑی خواہش ہے کہ تقسیم بنگال کو پروان چڑھایا جائے۔ لیکن پنجاب سے میاں محمد شفیع اور میاں شاہ دین اِس معاملہ کے حق میں نہ ہو سکے۔ لہٰذا خطاب میں بنگال کی تقسیم کا مسئلہ شامل نہ ہو سکا۔
نواب محسن الملک بھی ہندوئوں کی مسلمانوں کے خلاف سرگرمیوں کے حق میں نہ تھے کہ اس سے مسئلہ پیچیدہ ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب وفد تیار ہواتونواب سر سلیم اللہ خان جونواب سراسد اللہ خان کے فرزند ارجمند تھے اپنے باپ کی وفات1901 ء کے بعد نواب ہوئے اور 1903 ء میں نواب بہادر بنے وہ وفد میں شامل نہ ہوئے۔ سرسلطان آغا خان سوئم نے وفد کی قیادت کی۔
جب یہ وفد شملہ میں منٹو وائسرائے ہند سے ملاِتووفد کو وائسرائے نے یقین دلایا کہ مسلمانوں کے مسائل کو ہمدردی سے سُنا جائے گا اور اُن کی جائز شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔
4 اکتوبر1906 ء کو وائسرائے ہند لارڈ منٹو نے لارڈ مورلے کو لندن میں وفد کے بارے میں آگاہ کیااور تفصیلات کے ساتھ اسلامیان ہند کے مسائل اوردیگر سیاسی حالات سے آگاہ کیا۔ مورلے نے منٹو کی تجاویز اور سفارش کوپسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور لارڈ منٹو کی تعریف کی کہ آپ نے ایک نازک مسئلہ کو نہایت ذہانت اور قابلیت سے حل کیا۔لارڈ منٹو نے تمام35 بڑی شخصیتوں کا جائزہ لیا اور حکومت برطانیہ کی کوتاہیوں اور کانگریس کی پوشیدہ گمراہیوں سے آگاہی حاصل کی ۔کیونکہ خطاب میں نہایت استدلال اور عالمگیر قانون کا حوالہ دیا گیاتھا۔یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کے مطالبات کے تاثرات نے وائسرائے کا ذہن پوری طرح سے صاف کر دیا ۔ لارڈ منٹو نے لارڈ مورلے کو واضح طور پر اطلاع کی:
''ہند کے مسلمانوں کا وفد آیا اُن کی تکالیف ، شکایات جائز ہیں۔ غور طلب ہیں ۔ اُن کا ازالہ کرنا ضروری ہے اور حکومت برطانیہ کی جانب سے اُن کو حوصلہ اور تسلّی دی گئی ہے۔‘‘
گویا نواب محسن الملک نے مسلمانانِ ہند کی پوری ترجمانی کی ۔ہند کے مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں صاف ستھری اپیل پیش کی گئی اور نہایت سنجیدگی کے ساتھ اس کا جواب لارڈ منٹو نے دیا۔اِس ملاقات کا بڑا اہم نتیجہ مسلم لیگ کی تخلیق کی صورت میں برآمد ہوا۔ مسلمانوں کو حوصلہ میسّر آیا اور اُن میں خود اعتمادی کی لہرپیدا ہوئی کہ ان کی شکایات اور باتیں اچھی طرح سنی جا سکتی ہیں۔اگر ہم کسی مقام پر کھڑے ہو جائیںاور30 دسمبر 1906ء کا تاریخی دن ہمیں تمام معاملات کی یاد دلاتا ہے کہ کس طرح اِس تنظیم نے محنت کی اور جُدا ملک حاصل کیا۔ مسلم لیگ کی تشکیل میں بنگال کے مسلمانوں کا بڑا کردار رہا اور سب سے زیادہ خلوص نواب سرسلیم اللہ خان آف ڈھاکہ کی طرف سے رہا۔(جاری ہے)
(کتاب ''مسلم لیگ اورتحریک پاکستان‘‘ سے اقتباس)
اس سے قبل نواب سرسلیم اللہ خان نے آل انڈیا محمڈن کنفیڈریشن کی سکیم تیار کی اور مسلمانوں کے اہم لیڈرز اورجماعتوں کو ارسال کی۔ اس کا مقصد ایک ہی تھا کہ ہند کے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی جائے اورانڈین نیشنل کانگریس کے بڑھتے ہوئے اثر سے مسلمانوں کو بچایا جائے اور نوجوان مسلم نسل کے لیے مواقع پیدا کیے جائیں کہ جو سیاست میں حصہ لینے کی خواہش رکھتے ہیںایک سیاسی پلیٹ فارم پر ہی وہ ا پنامافی الضمیر بیان کر سکیں گے۔ اگر مسلم قوم کا کوئی سیاسی موثر پلیٹ فارم نہ ہوا تو مسلمان نوجوان کانگریس کی طرف رُخ کریں گے اور پھروہ برطانیہ کا آلہ کاربن کر رہ جائیں گے۔
لہٰذا نواب سرسلیم اللہ خان نے مسلم زعماء کو ایک تحریر روانہ کی جس میں کنفیڈریسی (Confedracy) آف مسلم ڈھاکہ کی تشکیل کا ذکر تھا کہ محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے بعد دسمبر1906 ء میں مسلمانوں کے لیے ایک سیاسی پلیٹ فارم تیار ہونا چاہیئے۔ وہ تقسیم بنگال کے بڑے حامی تھے اور مشرقی بنگال کو مسلم بنگال بنانا چاہتے تھے۔ اُن کی سعی جمیلہ سے ڈھاکہ یونیورسٹی کا اعلان 1911ء دہلی دربار میں ہوا تھا۔نواب سلیم اللہ خان نے اپنے رفقاء کی مدد سے کنفیڈریسی آف مسلم ڈھاکہ کے حوالے سے اس میں کافی تبدیلیاں لائی گئیں۔ تاہم مسلم کنفیڈریسی کی رُوح اور مقصد کی تعریف کی گئی۔ نواب آف ڈھاکہ کا مسلمانوں کی اِس سیاسی جماعت کی تشکیل میں بڑ ا حصہ تھا کہ ہند کے اتنے بڑے زعماء کو ڈھاکہ میں مدعو کرنے کا اہتمام کیا تاکہ مسلمانوں کے لیے ایک بااثر سیاسی پلیٹ فارم مضبوط بنیادوں پر مہیا کیاجائے۔
اس طرح آل انڈیامسلم لیگ کی بنیاد30 دسمبر1906 ء میں سرنواب سلیم اللہ خان کی رہائش گاہ پررکھی گئی اور محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے بعد نواب وقار الملک کی صدارت میں سیاسی تنظیم کے بنانے کا فیصلہ ہوااور مسلم لیگ کی تشکیل پر اتفاق رائے ہوا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے مقاصد میں سے اوّلین مسلمانوں کے لیے مذہب میں آزادی اور مذہب کی مذہبی ترقی و تشریح تھی۔اخلاقی قدروں کی تقویت سیاسی اور مالی حالات کے پیش نظر اخلاقی قدرو ں کے استحکام پر تبدیلی کا اظہار کیا گیا۔ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ اچھے ،مناسب تعلقات ،پرُ امن زندگی اور برطانوی حکومت کی رضامندی کو شامل کیاگیااور پہلے ریزولیشن میں صاف صاف تحریر کیا گیا کہ مسلمانوں کی ترقی اور فوائد کے لیے جماعت تشکیل دی گئی ہے۔ قرارد اد میں ظاہر کیا گیا کہ یہ مسلمانانِ ہند کی میٹنگ جو ڈھاکہ میں 30 دسمبر1906 ء کو منعقد ہوئی ہے۔ فیصلہ کیا گیا کہ ہند کے مسلمانوں کی رہنمائی اور حفاظت کے لیے ایک سیاسی ایسوسی ایشن آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے معرضِ وجود میں آگئی ہے۔جس کے فی الحال یہ مقاصد ہوں گے:
1۔اسلامیانِ ہند کی طرف سے برٹش حکومت کے لیے اچھے فرمانبرداری جذبات و واقعات ہوں گے۔ یہ اس لیے کیا گیاکہ نئی تنظیم سے حکومت برطانیہ کو غلط فہمی میسّر نہ آ جائے۔
2۔ہند کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق اور مسائل کی حفاظت کرنا اور حکومت برطانیہ کو آگاہ کرنا ۔
3۔ مسلمانوں کے تعلقات دوسری تحریکوں کے ساتھ استوار کرنا،یہ لیگ کے مقاصد تھے۔
آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد ڈھاکہ میں سر سلیم اللہ خان کی رہائش گاہ پر30دسمبر1906 ء کو رکھی گئی اور دو ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی بشمول نواب وقار الملک اور نواب محسن الملک تشکیل دی گئی تاکہ لیگ کا آئین تیار کیا جائے جو آئندہ کراچی کے سیشن میں پیش کیا جائے۔ لہٰذا کمیٹی کی رپورٹس اور کارکردگی 29 دسمبر1907 ء کو لیگ کے سیشن میں پیش کی گئیں اور آل انڈیا مسلم لیگ کے عہدیداروں کا انتخاب مارچ1908 ء میں لکھنؤ میں ہوا۔
اِسی اثناء میں بنگالی بیرسٹر امیر علی نے جو لندن میں سکونت اختیار کر چکے تھے، لندن برانچ آف آل انڈیا مسلم لیگ تخلیق کی۔ اس کی افتتاحی تقریب Caxton ہال لندن ویسٹ منسٹر6 مئی1908 ء کو ہوئی ۔ جسٹس امیر علی لندن میں اس کے صدر چُنے گئے۔ وہ واحد جوشیلے ،ذہین وکیل مسلمان تھے جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافیوں کا اظہار کُھل کر کیا۔ اس برانچ نے ہند کے مسلمانوں کے لیے کافی اچھے اثرات مرتب کیے اور یہاں سے علیٰحدگی کی تحریک کی ابتداء ہوئی اور کانگریس کی لیڈر شپ میں ڈر اور خوف مسلمانوں کی ایک علیحدہ سیاسی تنظیم کے وجود میں آنے سے پیدا ہونے لگا۔ کانگریس مسلمان لیڈر بھی مسلم لیگ کے نام،وجود،عمل،ترقی سے خوف کھانے لگے۔
جسٹس امیر علی وہی تو تھے جنہوں نے سنٹر ل نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن کلکتہ میں بنائی تھی اور تعلیمی اعتبار سے مسلمانوں میں شعور کو اُجاگر کیا۔ حسن علی آفندی آف کراچی کی امیر علی سے علیگڑھ میں ملاقات ہوئی اور حسن علی آفندی کو اپنی ایسوسی ایشن سندھ کراچی میں بنانے کی ترغیب دی۔ چنانچہ حسن علی آفندی نے نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن کراچی بنائی۔ خود صدر چُنے گئے۔ آپ نے سندھ مدرسۃ الاسلام کی بنیاد رکھی اور اِسی سندھ مدرستہ الاسلام سے قائد اعظم محمد علی جناح ؒنے تعلیم حاصل کی۔ گویا نواب سرسلیم اللہ خان ، میاں عبدالطیف اور جسٹس امیر علی بنگال صوبہ کے ایسے نامورشاہین ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی تعلیم کے لیے بہت کچھ کیا ۔ سرسید احمد خان نے بھی مردانہ وار تعلیم کے میدان میں جنگ لڑی اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے 10 اکتوبر1913 ء کو مسلم لیگ میں شمولیت حاصل کی اور1923 ء کو کانگریس سے علیٰحدگی اختیار کی۔ علامہ اقبال ؒ کا الہٰ آباد کا خطبہ 1930 ء کا بھی آزاد مملکت حاصل کرنے میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
کتاب ''مسلم لیگ اور تحریکِ پاکستان ‘‘ سے اقتباس

 

 

(بقیہ اگلے ڈائجسٹ میں یوم آزادی کے حوالے سے لگا نا ہے)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
جدید ٹیکنالوجی، ترقی کا راستہ

جدید ٹیکنالوجی، ترقی کا راستہ

17مئی کو دنیا بھر میں ورلڈ انفارمیشن سوسائٹی ڈے منایا جاتا ہےدنیا تیزی سے ڈیجیٹل انقلاب کے دور سے گزر رہی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ تعلیم، صحت، تجارت، بینکاری، میڈیا، زراعت اور حکومتی امور سمیت کوئی میدان ایسا نہیں رہا جہاں جدید معلوماتی نظام اور انٹرنیٹ نے اپنی جگہ نہ بنائی ہو۔ اسی اہمیت کے پیشِ نظر ہر سال 17 مئی کو ''ورلڈ انفارمیشن سوسائٹی ڈے‘‘ (world information Society Day) منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی افادیت کو اجاگر کیا جا سکے اور لوگوں میں ڈیجیٹل شعور پیدا ہو۔ اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد یہ باور کرانا ہے کہ جدید معلوماتی ذرائع انسانی ترقی، معاشی استحکام اور عالمی رابطوں کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ موجودہ دور میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی محض سہولت نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ کورونا وبا کے دوران پوری دنیا نے دیکھا کہ تعلیم، کاروبار، دفتری امور اور سماجی رابطے آن لائن نظام کے ذریعے جاری رکھے گئے۔ اس تجربے نے ثابت کیا کہ جدید ٹیکنالوجی بحران کے وقت بھی انسانی زندگی کو رواں رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔آج دنیا میں معلومات تک رسائی بے حد آسان ہو گئی ہے۔ چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی حصے کی خبر، تحقیق یا تعلیمی مواد تک پہنچنا ممکن ہے۔ طلبہ گھر بیٹھے عالمی جامعات کے کورسز سے استفادہ کر رہے ہیں، جبکہ کاروباری ادارے آن لائن تجارت کے ذریعے اپنی مصنوعات پوری دنیا میں فروخت کر رہے ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا نے ابلاغ کے روایتی طریقوں کو تبدیل کرتے ہوئے ہر فرد کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع فراہم کیا ہے۔اگر پاکستان کی بات کی جائے تو گزشتہ چند برسوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، ای کامرس کا رجحان بڑھا ہے اور نوجوان فری لانسنگ کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ پاکستانی نوجوان گرافک ڈیزائننگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر آن لائن شعبوں میں خدمات انجام دے کر ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان میں آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم اس ترقی کے باوجود کئی چیلنجز بھی موجود ہیں۔ ملک کے دیہی اور دور دراز علاقوں میں اب بھی انٹرنیٹ کی سہولیات محدود ہیں۔ بہت سے طلبہ اور شہری جدید ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر استفادہ نہیں کر پاتے۔ ڈیجیٹل خواندگی کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایسے افراد جو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال سے واقف نہیں، وہ جدید دور کی ترقی سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے شہریوں کو ڈیجیٹل تعلیم فراہم کرنے کیلئے مزید اقدامات کریں۔سائبر جرائم بھی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ سامنے آنے والا ایک اہم مسئلہ ہیں۔ آن لائن فراڈ، ہیکنگ، جعلی معلومات اور سوشل میڈیا کے منفی استعمال نے معاشرتی مسائل کو جنم دیا ہے۔ نوجوان نسل خصوصاً سوشل میڈیا کے بے جا استعمال سے متاثر ہو رہی ہے۔ جھوٹی خبروں اور گمراہ کن معلومات کی تیزی سے ترسیل معاشرتی انتشار پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری اور شعور کو بھی فروغ دیا جائے۔ورلڈ انفارمیشن سوسائٹی ڈے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسانیت کی خدمت اور مثبت مقاصد کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اگر انفارمیشن ٹیکنالوجی کو تعلیم، تحقیق، صحت، ماحولیات اور معاشی ترقی کیلئے بروئے کار لایا جائے تو یہ دنیا میں خوشحالی اور استحکام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر اس کا استعمال نفرت، جھوٹ اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کیلئے کیا جائے تو اس کے منفی اثرات پوری معاشرت کو متاثر کر سکتے ہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو اپنی معیشت کا اہم ستون بنا لیا ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سائنس جیسے شعبے مستقبل کی دنیا کی تشکیل کر رہے ہیں۔ پاکستان کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرے اور تحقیق و جدت کی حوصلہ افزائی کرے۔ تعلیمی اداروں میں آئی ٹی تعلیم کو مزید مؤثر بنایا جائے اور نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت فراہم کی جائے۔اس دن کی اہمیت اس اعتبار سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ دنیا ایک ڈیجیٹل معاشرے میں تبدیل ہو رہی ہے جہاں معلومات ہی طاقت سمجھی جاتی ہے۔ جس قوم کے پاس جدید معلومات اور ٹیکنالوجی ہو گی وہی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھے گی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کو فروغ دیں، نوجوان نسل کو جدید علوم سے آراستہ کریں اور ایسا ڈیجیٹل ماحول پیدا کریں جہاں ترقی کے مساوی مواقع سب کو میسر ہوں۔ مختصر یہ کہ ورلڈ انفارمیشن سوسائٹی ڈے صرف ایک یادگاری دن نہیں بلکہ یہ انسانیت کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معلوماتی ٹیکنالوجی اگر ذمہ داری، شعور اور مثبت سوچ کے ساتھ استعمال کی جائے تو یہ معاشی ترقی، تعلیمی بہتری اور سماجی خوشحالی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک باشعور، ترقی یافتہ اور بااختیار معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔

ضرر رساں کیڑے اور بیماریوں کی یلغار

ضرر رساں کیڑے اور بیماریوں کی یلغار

اکیسویں صدی میں سائنس اور طب نے بیشمار ترقی کر لی ہے، مگر اس کے باوجود انسان آج بھی ضرر رساں کیڑوں اور مہلک بیماریوں کے خلاف اسی طرح نبرد آزما ہے جیسے صدیوں پہلے تھا۔ طاعون ، ٹائیفائیڈ، ٹی بی، ہیپاٹائٹس، کینسر اور حالیہ عالمی وبا کرونا نے یہ ثابت کر دیا کہ معمولی نظر آنے والے جراثیم، وائرس اور کیڑے بھی پوری دنیا کو مفلوج کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ برصغیر میں قیامِ پاکستان سے قبل طاعون جیسی بیماری نے ہزاروں جانیں نگل لیں اور خوف کی فضا اس قدر شدید تھی کہ لوگ اپنے عزیزوں کے جنازوں سے بھی دور رہنے لگے تھے۔آج بھی ہسپتالوں، گنجان آبادیوں اور گندگی سے بھرے علاقوں میں کھٹمل، کاکروچ، مکھیاں اور مچھر بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ کیڑے نہ صرف مریضوں بلکہ صحت مند افراد کیلئے بھی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ ہسپتال میں خوراک کی فراوانی، مناسب درجہ حرارت اور صفائی کے ناقص انتظامات ان کی افزائش کے بڑے اسباب ہیں۔ہسپتالوں میں کھٹمل بڑی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جو انسانی خون پر زندہ رہتا ہے۔ ہسپتالوں میں کھٹمل کو مریض اور ان کے لواحقین کا خون وافر مقدار میں میسر ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے کھٹمل اپنی نسل خوب بڑھاتا ہے۔ یہ کیڑا سال میں سے چار نسلیں بڑھا لیتا ہے۔ اس کی مادہ 300سے 400انڈے دراڑوں، بیڈز اور فرنیچر کے جوڑوں میں محفوظ جگہوں میں دیتی ہے اور تمام انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں اور نکلتے ہی انسانوں کو کاٹ کر خون چوسنے لگ جاتے ہیں۔اس کے کاٹنے سے جلدی امراض، الرجی اور بے خوابی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔اسی طرح جرمن کاکروچ بھی ہسپتالوں میں عام پایا جاتا ہے جو وائرس اور جراثیم پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔ یہ سائز میں امریکن کاکروچ سے چھوٹا ہوتا ہے۔ مادہ 200سے 300 انڈے دیتی ہے۔ یہ کاکروچ 290دن تک زندہ رہتا ہے۔عام گھریلو مکھی مختلف گندگیوں پر بیٹھ کر خوراک کو آلودہ کرتی ہے اور ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور ٹی بی جیسی بیماریوں کے جراثیم انسانوں تک منتقل کرتی ہے۔عام گھریلوں مکھیاں تقریباً 4ہفتے تک زندہ رہتی ہیں اور ہر ہفتہ100سے 200انڈے دیتی ہے۔ گرمیوں میں 12نسلیں پیدا کر لیتی ہے۔ بیس قسم کی انسانی بیماریاں پھیلاتی ہیں ۔ سب سے خطرناک کیڑا مچھر ہے جو ملیریا اور ڈینگی بخار جیسی جان لیوا بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ مادہ مچھرکو انڈے دینے کیلئے خون کی ضرورت ہے اس لئے وہ انسان کو کاٹتی ہے اور گندے پانی میں افزائش پا کر اپنی تعداد میں تیزی سے اضافہ کرتی ہے۔ مچھر کا لاروا اور پیوپا پانی میں پلتا ہے۔ پیوپا کے بعد مچھر بن جاتا ہے اور پانی کی سطح پر نر اور مادہ ملاپ کرتے ہیں۔ اس کے بعد مادہ مچھر خون کی تلاش میں پرواز کرکے انسانوں اور جانوروں کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ان ضرر رساں کیڑوں کے علاوہ ہسپتالوں میں چوہے، بلیوں اور کتوں کی بھر مار ہے۔ چوہوں کا ایک جوڑا سال میں 250چوہوں کی تعداد بنا دیتا ہے۔ چوہے ہر قسم کی خوراک کھا لیتے ہیں۔ مریض کے لواحقین فالتو خوراک ثواب کیلئے کھڑکیوں میں رکھ دیتے ہیں تاکہ پرندے کھائیں۔ پرندوں کے علاوہ ان پر چوہے اور بلیاں بھی پلتی ہیں۔ چوہے مشینوں کی تاریں کاٹ دیتے ہیں ان پر موجود پسو طاعون جیسی بیماری پھیلاتے ہیں۔ہسپتالوں میں بلیوں اور آوارہ کتوں کی موجودگی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ بلیوں کے بال اور پسو الرجی اور دیگر بیماریوں کا سبب بنتے ہیں، جبکہ آوارہ کتے ریبیز یعنی بائولا پن جیسی خطرناک بیماری پھیلاتے ہیں۔ یہ بیماری انسان کو انتہائی اذیت ناک موت کی طرف لے جاتی ہے۔ مریض کتے کی طرح بھونکتا ہے اور مریض کو شدت سے پیاس لگتی ہے اور پانی سے ڈرتا بھی ہے اور پانی پی نہیں سکتا۔ اس طرح پیاس سے بلک بلک کر مر جاتا ہے۔ پیاری جان کی وجہ سے رشتہ دار مریض کے پاس پہنچتے ہیں تو ان کو کتے کی طرح کاٹتا ہے اور اس طرح بیماری اور پھیلتی ہے۔بائولا پن کی بیماری سے اللہ تعالیٰ سب کو بچائے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ کئی سرکاری ہسپتال آج بھی باقاعدہ فیومیگیشن اور جراثیم کش انتظامات سے محروم ہیں۔ بعض مقامات پر مریض اور ان کے لواحقین کھٹملوں اور کاکروچوں سے اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ ان کے جسم پر زخم نمودار ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال متعلقہ اداروں کی غفلت اور ناقص انتظامیہ کی عکاسی کرتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، ہسپتال انتظامیہ اور عوام سب مل کر صفائی، جراثیم کش مہمات اور مؤثر فیومیگیشن کے نظام کو یقینی بنائیں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ ہسپتالوں اور گھروں میں صفائی کا خاص خیال رکھیں اور خوراک کو کھلا چھوڑنے سے گریز کریں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ضرر رساں کیڑے اور بیماریاں انسانی صحت کیلئے مزید بڑے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔اس وقت بھی کئی ہسپتال فیومیگیشن کنٹریکٹ کے بغیر گزارہ کر رہی ہیں جو کہ مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ بہت زیادتی ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!اصغر سودائی  ممتاز ماہر تعلیم اور معروف شاعر (1926-2008ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!اصغر سودائی ممتاز ماہر تعلیم اور معروف شاعر (1926-2008ء)

٭...26ستمبر1926ء کو سیالکوٹ میں جنم لینے والے اصغر سودائی ممتاز ماہر تعلیم اور معروف شاعر تھے، اصل نام محمد اصغر تھا۔٭... 1943ء میں انہوں نے نعرہ ''پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘‘ دیا،جو پاکستان کی مذہبی شناخت بن گیا۔٭...اصغر سودائی بانی پاکستان قائد اعظمؒ محمد علی جناح ؒسے بہت محبت کرتے تھے۔ ایک بار قائداعظم ؒنے خود یہ کہا تھا کہ تحریکِ پاکستان میں 25فیصد حصہ اصغر سودائی کا ہے۔٭...وہ گورنمنٹ جناح اسلامیہ کالج اور گورنمنٹ علامہ اقبال کالج کے پرنسپل کے طور پر بھی فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ڈائریکٹر کالجز پنجاب کے طور پر بھی کام کیا۔٭...شاعری میں سودائی ان کا تخلص تھا، نعت گوئی بھی کی۔٭... ان کے تین شعری مجموعے شائع ہوئے جن میں'' دوسرا چلن صبا کی طرح‘‘، ''شاہ دوسرا‘‘ اور ''کرن صدا کی طرح‘‘ شامل ہیں۔ ٭... انہیں تحریک پاکستان کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا بھی کہا جاتا تھا۔٭... پروفیسر اصغر سودائی کے شاگردوں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے۔ ان شاگردوں میں زیادہ تر نے سودائی صاحب کا اسلوبِ حیات اپنایا۔٭...ان کی عادت تھی کہ وہ اپنی قمیض کا اوپر والا بٹن بھی بند رکھتے تھے۔ ان کا موقف تھا وضع داری کا تقاضا ہے کہ اساتذہ کے قمیض کے سارے بٹن بند ہونے چاہئیں۔٭...انہوں نے ساری زندگی تعلیم و ادب کی آبیاری میں گزاری۔٭...17مئی 2008ء کو اصغر سودائی اس جہانِ رنگ و بو سے کوچ کر گئے۔ وفات کے وقت ان کی عمر 81برس تھی۔٭... انہیں ان کی خدمات کی بنا پر حکومت پاکستان نے ''تمغۂ برائے حسنِ کارکردگی‘‘ سے بھی نوازا۔چند اشعارچلے تو آ گئی دیوار دشمنی یارویہ پیش رفت بھی کچھ کم نہیں ہوئی یارومیں بھول کر تمہیں اس درجہ شادمان ہواکہ جیسے دولت کونین مل گئی یارو٭٭٭٭جب آنکھ میں تری صورت سمائی لگتی ہےمجھے خود اپنی نظر ہی پرائی لگتی ہےیہ تیرا قحطِ تبسم میں کھلھلا دینامجھے تو صورتِ رنج آشنائی لگتی ہے٭٭٭٭پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہشب ظلمت میں گزاری ہےاٹھ وقت بیداری ہےجنگ شجاعت جاری ہےآتش و آہن سے لڑ جاپاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہہادی و رہبر سرور دیںصاحب علم و عزم و یقیںقرآن کی مانند حسیںاحمد مرسل صلی علیپاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ٭٭٭٭٭٭٭

آج کا دن

آج کا دن

نیو یارک سٹاک ایکسچینج کا قیامبٹن ووڈ معاہدہ (Buttonwood Agreement) کے تحت نیویارک سٹاک ایکسچینج کا قیام عمل میں آیا۔ اس لئے اس معاہدہ کو نیویارک سٹاک ایکسچینج کا بانی دستاویز بھی قرار دیا جاتا ہے۔یہ امریکی تاریخ کا ایک اہم ترین مالیاتی معاہدہ تھا۔ معاہدے کیلئے نیویارک شہر میں تجارت کااہتمام کیا گیا اور17مئی1792ء کو 68وال سٹریٹ سے باہر سٹاک بروکرز کے درمیان اس پر دستخط کئے گئے۔ قدیم کمپیوٹر کی دریافت1902ء میں یونانی ماہر آثارِ قدیمہ ولیریس سٹیس (Valerios Stais)نے قدیم زمانے کی ایک حیرت انگیز مشینی ایجاد دریافت کی۔ یہ آلہ بحیرہ ایجیئن میں یونان کے قریب ایک بحری جہاز کے ملبے سے ملا۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک قدیم میکانکی اینالاگ کمپیوٹر تھا جو سورج، چاند اور سیاروں کی حرکات اور فلکیاتی حسابات کیلئے استعمال ہوتا تھا۔ اس دریافت نے دنیا کو حیران کر دیا کیونکہ یہ اپنے دور سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کا نمونہ تھا ۔افغانستان فضائی حادثہ2010ء میں پامیر ایئر ویز کی فلائٹ 112 افغانستان کے ضلع شکردرہ میں حادثے کا شکار ہوگئی، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 44 افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ پرواز افغان دارالحکومت کابل سے قندوز جا رہی تھی کہ خراب موسم اور دشوار گزار پہاڑی علاقے کے باعث حادثہ پیش آیا۔ امدادی ٹیموں کو خراب موسمی حالات کی وجہ سے جائے حادثہ تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لبنان معاہدہ1983ء میں آج کے دن لبنان، اسرائیل اور امریکہ نے لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن بحال کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کا منصوبہ بنایا گیا۔

انسانی قوت کا ناقابلِ یقین مظاہرہ

انسانی قوت کا ناقابلِ یقین مظاہرہ

گردن سے 21 ہزار پاؤنڈ وزنی بس کھینچنے کا حیران کن کارنامہدنیا میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو اپنی غیر معمولی جسمانی طاقت اور حیران کن صلاحیتوں کے باعث لوگوں کو دنگ کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں ایک طاقتور شخص نے اپنی گردن کے ذریعے 21 ہزار پاؤنڈ وزنی بس کھینچ کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ حیرت انگیز کارنامہ نہ صرف انسانی قوتِ برداشت اور عزم کی مثال ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ مسلسل محنت، سخت تربیت اور مضبوط ارادے انسان کو ناممکن دکھائی دینے والے کام انجام دینے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ ایسے منفرد ریکارڈز کھیلوں اور جسمانی صلاحیتوں کی دنیا میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ایگمونڈ مولینا (Egmond Molina) نامی طاقتور شخص نے اپنی گردن کے ذریعے بس کھینچ کر ایک اور شاندار عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا ہے۔ 49 سالہ ایگمونڈ مولینا نے 9860 کلوگرام (21,737 پاؤنڈ) وزنی بس کو 20 میٹر تک کھینچ کر گردن سے سب سے بھاری گاڑی کھینچنے کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔انہوں نے یہ کارنامہ انجام دے کر یوکرین کے ڈمائٹرو ہرنسکی (Dmytro Hrunskyi)کا سابقہ ریکارڈ پیچھے چھوڑ دیا، جو 2024ء میں 8,060 کلوگرام (17,769.26 پاؤنڈ) وزنی گاڑی کھینچ کر قائم کیا گیا تھا۔یہ کامیابی دراصل ایگمونڈ مولینا کی طاقت کے ریکارڈز کی ایک طویل فہرست میں تازہ ترین اضافہ ہے، جو اس نے اپنی محنت، ہمت اور غیر معمولی عزم کے ذریعے قائم کیے ہیں۔ وہ یہ سب کارنامے اپنے چاروں بچوں نائجل، ایگمونڈ جونیئر، بینجمن اور ایڈیلینڈا کو فخر دلانے کیلئے انجام دیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میرا مقصد اپنی اولاد اور اپنے جزیرے کے نوجوانوں کیلئے نظم و ضبط اور محنت کی ایک ایسی وراثت چھوڑنا ہے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے۔ایگمونڈ مولینا نے کہا کہ اپنے سفر کی کہانی دنیا کے ساتھ شیئر کرنا ان کیلئے ایک اعزاز ہے۔ ان کے مطابق وہ اپنے خوبصورت وطن اروبا (Aruba) کی نمائندگی کرتے ہیں، جو ایک چھوٹا جزیرہ ہے جس کی آبادی تقریباً ایک لاکھ دس ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد دنیا کو یہ دکھانا ہے کہ عظمت صرف بڑے ممالک یا بڑے شہروں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ دنیا کے چھوٹے سے چھوٹے خطوں سے بھی غیر معمولی کامیابیاں جنم لے سکتی ہیں۔ ان کے قائم کردہ ریکارڈز ان کے لوگوں اور ان کے خاندان کی لازوال وراثت کو خراجِ تحسین ہیں۔ وہ اپنا پورا کریئر اپنے دادا دادی کے نام کرتے ہیں، جن کی تربیت اور حوصلہ افزائی نے انہیں اس مقام تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا۔ایگمونڈ مولینا جنہیں ''ہیومن کرین‘‘ کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے، اس وقت اپنے نام 10 عالمی ریکارڈز کر چکے ہیں۔یہ ریکارڈز اس کی غیر معمولی جسمانی طاقت، برداشت اور حیران کن مہارت کو ظاہر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ دنیا کے منفرد طاقتور کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایگمونڈ ایک سٹرنتھ کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ عالمی ریکارڈ توڑنے کیلئے کس سطح کی محنت اور تیاری درکار ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میری ترغیب انسانی صلاحیتوں کے سائنسی مطالعے میں پوشیدہ ہے۔ میری سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک پلیٹ فارم لفٹ ہے، جس میں، میں نے ہپ بیلٹ سسٹم کے ذریعے 1,002 کلوگرام (2,209 پاؤنڈ) وزن زمین سے اٹھایا۔ صرف 87 کلوگرام جسمانی وزن کے ساتھ یہ کارنامہ طاقت اور وزن کے تناسب کے لحاظ سے غیر معمولی ہے اور روایتی ایلیٹ پاور لفٹرز کی حدود سے بھی آگے جاتا ہے۔متعدد ریکارڈز توڑنے کے بعد ان کیلئے کسی ایک پسندیدہ کارنامے کا انتخاب کرنا آسان نہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ایک انگلی سے ڈیڈ لفٹ کرنا ان کے دل کے بہت قریب ہے اور یہ کارنامہ ان کیلئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ایگمونڈ نے کہا کہ 2026ء کے آغاز میں 159 کلوگرام (350.5 پاؤنڈ) کے ساتھ ایک انگلی سے ڈیڈ لفٹ کا ریکارڈ دوبارہ حاصل کرنا ''خصوصی فنکشنل طاقت‘‘ کی فتح تھی۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی جسم کے چھوٹے پٹھوں کے گروہ بھی مناسب تربیت کے ذریعے بہت بڑے وزن سنبھال سکتے ہیں۔ان کا تازہ ترین کارنامہ سب سے اہم ثابت ہوا، جس میں گردن سے بس کھینچتے ہوئے ان کی سانس لینے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی کیونکہ وزن نے آکسیجن کے بہاؤ کو نمایاں طور پر محدود کر دیا۔ایگمونڈ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بس کھینچنے کے دوران جب رسی ان کے سانس کی نالی کو دباتی ہے تو انہیں شدید دباؤ میں طاقت پیدا کرنا پڑتی ہے اور ساتھ ہی اپنی سانس کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال جسمانی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ایک ذہنی جنگ بھی بن جاتی ہے، جس میں انسان کو انتہائی دباؤ کے باوجود پرسکون رہنا پڑتا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ چیلنج ان چوٹوں کی وجہ سے مزید مشکل ہو جاتا ہے جو انہوں نے اپنے سفر کے دوران برداشت کیں۔ بس کھینچنے کے دوران ان کی انگلی کی جلد پھٹ گئی، 90 کلوگرام دانتوں سے وزن اٹھانے کے باعث جبڑے میں شدید سوزش پیدا ہوئی، ایک ٹن پلیٹ فارم لفٹ کے دوران گھٹنے کی چوٹ آئی، جبکہ ٹرام کھینچنے کے عمل میں ان کے دائیں کندھے میں 1.2 سینٹی میٹر کا گیپ آ گیا۔ ایگمونڈ کے مطابق ان تمام مشکلات اور چوٹوں کے باوجود وہ مسلسل ڈسپلن کے ساتھ ری ہیبی لیٹیشن، تھراپی اور کامیابی کی غیر متزلزل خواہش کے ذریعے آگے بڑھتے رہے۔ کچھ ریکارڈز انہوں نے اسی حالت میں حاصل کیے جب وہ زخمی تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کندھے کا جو زخم انہیں ٹرام کھینچنے کے دوران لگا تھا وہ آج تک مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوا۔ایگمونڈکے حیرت انگیز کارنامے٭...متوازی بارز پر منہ کے ذریعے سب سے زیادہ وزن (90.3 کلوگرام)اٹھانے کا ریکارڈ٭...متوازی بارز پر منہ کے ذریعے افقی جسمانی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے 90.30 کلو گرام (199.07 پاؤنڈ)وزن اٹھانے کا ریکارڈ٭...33.32 سیکنڈمیں ایک انگلی سے 20 میٹر بس کھینچنے کا مظاہرہ٭...30 سیکنڈ میں دونوں ہاتھوں سے سب سے زیادہ(6) بوتل کے ڈھکن کھولنے کا ریکارڈ٭...ہپ بیلٹ کے ذریعے پلیٹ فارم سے سب سے زیادہ وزن 1,002 کلوگرام (2,209 پاؤنڈ) اٹھانے کا ریکارڈ ٭... 39.9 سیکنڈمیں دانتوں سے 20 میٹر ٹرام کھینچنے کا مظاہرہ٭... 38.60 سیکنڈ میں ایک انگلی سے 20 میٹر ٹرام کھینچنے کا مظاہرہ٭...سب سے تیز (2.87 سیکنڈمیں)گرم پانی کی بوتل پھاڑنے کا ریکارڈ٭...ایک انگلی سے سب سے بھاری 159 کلوگرام (350.53 پاؤنڈ)ڈیڈ لفٹ

حرکات و سکنات میں چھپا ذہنی رویوں کا راز!

حرکات و سکنات میں چھپا ذہنی رویوں کا راز!

جدید معاشرے میں انسانی رویوں اور نفسیاتی کیفیات کو سمجھنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ بظاہر نارمل نظر آنے والے افراد کے اندر چھپی پیچیدہ شخصیتیں اکثر ہمارے اندازوں کو غلط ثابت کر دیتی ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق بعض اوقات جسمانی حرکات و سکنات اور مخصوص انداز نشست و برخاست ایسے راز افشا کر دیتے ہیں جو الفاظ بیان نہیں کر پاتے۔ حالیہ تحقیق میں ایک معروف ماہر نفسیات نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک خاص جسمانی انداز اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ کوئی شخص بظاہر عام ہونے کے باوجود خطرناک نفسیاتی رجحانات رکھتا ہے۔ یہ انکشاف نہ صرف سماجی رویوں کو سمجھنے میں مددگار ہے بلکہ ہمیں اپنے اردگرد کے لوگوں کو پرکھنے کیلئے ایک نیا زاویہ بھی فراہم کرتا ہے۔نفسیاتی مریضوں کو پہچاننا بہت مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ اپنی دلکشی، لوگوں کو قابو میں کرنے کی صلاحیت اور عام انسانی جذبات کی نقل کرنے کی غیر معمولی مہارت کے باعث اکثر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ تاہم ایک ممتاز ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہ ایک خاص اور باریک جسمانی انداز اس شخصیت کے عارضے کے بارے میں اشارہ دے سکتا ہے۔یونیورسٹی آف میساچوسٹس میں نفسیاتی اور دماغی علوم کی پروفیسر ایمیریٹا سوسن کراوس وِٹبورن کے مطابق تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ وہ افراد جو کھلے اور پھیلے ہوئے انداز اختیار کرتے ہیں، دوسروں کا استحصال کرنے کا زیادہ رجحان رکھتے ہیں۔ مبالغہ آمیز انداز،کھڑے ہونے یا بیٹھنے کو سائیکوپیتھی، چالاکی، مقابلہ بازی اور سماجی درجہ بندی جیسے رجحانات سے بھی جوڑا گیا ہے۔اپنی رپورٹ میں وِٹبورن نے کینیڈا کی مک گل یونیورسٹی کی تحقیق کا حوالہ دیا، جس میں مخصوص جسمانی انداز اور سائیکوپیتھک رجحانات سے جڑی شخصی خصوصیات کے درمیان تعلق پایا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان اندازوں میں مٹھیاں بلند کرنا، دھڑ کو پیچھے کی طرف لے جانا، کمر کے نچلے حصے کو خم دینا (لارڈوٹک پوزیشن)، مادہ جانوروں میں قبولیت کا انداز اور کمر کو پیچھے کی طرف موڑنا شامل ہیں۔وِٹبورن کے مطابق ایک اہم اشارہ جو آپ کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ کوئی شخص آپ پر حاوی ہونا چاہتا ہے، وہ اس کا کھلا، سیدھا اور پھیلا ہوا جسمانی انداز ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص کسی دوسرے کے سامنے جھکنے یا ہار ماننے کیلئے تیار ہوتا ہے، وہ عموماً جھکا ہوا نظر آتا ہے اور خود کو سمیٹ لیتا ہے۔سائیکوپیتھ(نفسیاتی مریض) ان افراد کو کہا جاتا ہے جن میں معاشرتی اصولوں کی خلاف ورزی، چالاکی اور بے حسی جیسے اوصاف پائے جاتے ہیں، مثلاً بے خوفی، سطحی دلکشی اور ہمدردی کا فقدان۔اکثر ڈرامائی یا مجرمانہ رویّوں کے حوالے سے انہیں سرد مزاج، خطرہ مول لینے والے اور ضمیر سے عاری افراد کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، جنہیں بعض اوقات اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے یا مجرمانہ اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔کینیڈا کی مک گل یونیورسٹی کے محققین نے جسمانی انداز (پوسچر) اور شخصی خصوصیات کے درمیان تعلق کا جائزہ لینے کیلئے پانچ مطالعات پر مشتمل ایک سلسلہ انجام دیا۔ ان میں سے چار مطالعات میں شرکاء نے اپنی قدرتی حالت میں کھڑے ہونے کی تصاویر فراہم کیں، جبکہ پانچویں مطالعے میں رضاکار لیبارٹری آئے جہاں محققین نے ان کے جسمانی پیمائشیں ریکارڈ کیں۔ ''ٹوڈے سائیکولوجی‘‘ کے مطابق اس تحقیق میں مجموعی طور پر 608 نوجوان افراد شامل تھے۔ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوا کہ جو لوگ زیادہ سیدھے اور اکڑے ہوئے انداز میں کھڑے ہوتے ہیں، ان میں نفسیاتی مرض میں مبتلا ہونے والی خصوصیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔ محققین نے یہ بھی پایا کہ یہ جسمانی انداز وقت کے ساتھ مستقل رہتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رویّہ اتفاقی نہیں بلکہ ایک مستحکم خصوصیت ہے۔مطالعے کے ایک اور مرحلے میں شرکاء کو ہدایت دی گئی کہ وہ یا تو غالب (dominant) یا فرمانبردار (submissive) انداز اختیار کریں۔ جن افراد کو فرمانبرار انداز اپنانے کو کہا گیا، وہ جھکے ہوئے کندھوں اور آگے کی طرف مڑی ہوئی حالت میں کھڑے ہوئے، جبکہ غالب نظر آنے کی ہدایت پانے والے افراد سیدھے کھڑے ہوئے، کولہوں کو آگے کی طرف نکالا اور دھڑ کو قدرے پیچھے کی جانب جھکایا۔ تاہم محققین نے یہ بھی واضح کیا کہ محض جسمانی انداز بدلنے سے کسی شخص کی ذہنی کیفیت میں تبدیلی کے شواہد نہیں ملے۔تحقیق کے آخری مرحلے میں سائنس دانوں نے اپنے ابتدائی نتائج کی تصدیق کی اور زیر مطالعہ شخصی خصوصیات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا۔ ان خصوصیات میں سائیکو پیتھی، چالاکی، مقابلہ بازی اور سخت سماجی درجہ بندی پر یقین شامل تھے، ایسے رجحانات جنہیں محققین نے دوسروں پر برتری حاصل کرنے کی کوششوں سے جوڑا۔ محققین کے مطابق وہ افراد جو زیادہ غالب انداز اپناتے ہیں، ممکن ہے اس کے پیچھے یہ خواہش کارفرما ہو کہ وہ کمزور یا ماتحت نظر نہ آئیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سیدھا کھڑا ہونا اور خود اعتمادی کا اظہار دوسروں کے ردِعمل کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے وقت کے ساتھ غالب رویوں کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔ وِٹبورن نے کہا کہ اگر آپ فطری طور پر سیدھے کھڑے ہونے والے انسان ہیں تو کیا ہوگا؟ شاید آپ کو بچپن میں رقص سیکھنے یا کھیلوں میں حصہ لینے کا موقع ملا ہو، اور مضبوط جسمانی انداز اسی کا ایک فائدہ ہو۔اس تحقیق کے تناظر میں اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ اس غالب رجحان کے حامل نہیں ہوتے، وہ اپنے جسمانی انداز میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ وہ شرکاء جو ان ناپسندیدہ خصوصیات میں کم نمبر حاصل کرتے تھے، مختلف انداز اپناتے نظر آئے، بجائے اس کے کہ وہ ہمیشہ خود کو طاقتور اور سخت ظاہر کر کے دوسروں پر حاوی ہونے کی کوشش کریں۔