فٹ بال ہیروز کی دنیا

فٹ بال ہیروز کی دنیا

ہوا میں بال سوئنگ کرنے والے منفرد فٹبالر علی اصغر ٹونی چار جنوری 2001 کی شب پاکستان ایک عظیم فٹبالر سے محروم کر دیا گیا۔ ساڑھے دس بجے شب علی اصغر لاہور میں اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی کے بعد موٹر سائیکل پر اپنے گھر واپس آرہے تھے کہ مغل پورہ لاہور کے ریلوے پھاٹک کے قریب پیچھے سے آنے والی ایک تیز رفتار موٹر سائیکل نے ٹکر ماری جس کے باعث دس روز زندگی و موت کی کشمکش کے بعد وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 

کراچی (امتیاز نارنجا) علی اصغر ٹونی 1950 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اوائل عمری ہی سے فٹبال کھیل کا الفتح فٹبال کلب لاہور سے بحیثیت رائٹ آؤٹ آغاز کیا۔ بعد ازاں وہیب کلب لاہور اور سر امین اکیڈمی کراچی سے بھی کھیلے۔ علی اصغر کو فٹبال کھیل کا شوق ورثہ میں ملا ان کے والد استاد غلام محمد اعلیٰ پائے کے فٹبالر تھے جبکہ ان کے تین بھائی انٹرنیشنل فٹبالر ہیں۔ چھوٹے بھائی غلام سرور ٹیڈی کو پاکستان کیلئے دیارغیر میں پہلی مرتبہ سیف گیمز 1991 سری لنکا میں بحیثیت کپتان گولڈ میڈل جیتنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ 10بہن بھائیوں میں سب سے بڑے علی اصغر نے گورنمنٹ ہائی اسکول باغبان پورہ لاہور سے میٹرک اور گریجویشن کی ڈگری بیلجئم سے حاصل کی۔ علی اصغر نے ابتدائی کوچنگ اپنے والد اوراستاد غلام محمد پشاوری بعد ازاں ڈاکٹر غشیرا (ہنگری ) سے حاصل کی لیکن ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں کیپٹن محمد امین (ائرفورس) نے اہم کردار ادا کیا۔ علی اصغر نے پروفیشنل فٹبال کی ابتداء پاکستان واپڈا سے کی بعد ازا ں پی آئی اے فٹبال ٹیم کا حصہ بن گئے اور تامرگ اسی ادارے سے منسلک رہے۔ علی اصغر ٹونی 1983میں گجرانوالہ میں منعقدہ آل پاکستان ٹورنامنٹ کو اپنا یادگار ٹورنامنٹ قراردیتے تھے جس میں انہیں مین آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔ 1975میں چین کیخلاف ان کا گول ان کے یادگار گولز میں شمار ہوتا ہے۔ ٹونی کو کے ایم سی اسٹیڈیم میں پی آئی اے اور جرمنی کے مابین کھیلا گیا میچ بھی ہمیشہ یاد رہا جو 2-2 سے برابر ہوگیا تھا۔ علی اصغر نے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز برما کیخلاف تھائی لینڈ میں کیا۔ بعد ازاں انہوں نے قومی ٹیم اور پی آئی اے کے ہمراہ ملائشیا، بنکاک، سعودی عرب، نائجر، سنگاپور، افغانستان، چین، ترکی، بیلجیئم، ہالینڈ، یو ایس اے، کویت، قطر، بھارت، نیپال، ایران، عراق اور ہنگری کا دورہ کیا اور تقریباً ہر ملک کیخلاف انہیں گول کرنے کا اعزاز حاصل تھا۔ پی آئی اے کی جانب سے اپنے پہلے ہی میچ میں پاکستان واپڈا کیخلاف 6گول اسکور کئے جبکہ 1975میں کھیلی گئی 23ویں قومی چیمپئن شپ ملتان میں پی آئی اے کیلئے 14گول اسکور کرکے ٹاپ اسکورر قرارپائے۔ علی اصغر کی شاندار کارکردگی کی بدولت پی آئی اے کو تیسری مرتبہ قومی چیمپئن کا اعزاز حاصل ہوا۔ علی اصغرجنہیں پیار سے ٹونی اور ڈبو بھی پکارا گیا جو ان کے نام کا حصہ ہی بن گیا۔ ان کی لگائی ہوئی فری کک کو حریف گول کیپر حیران و پریشان بال کو بڑی بے بسی کے ساتھ جال میں جاتا ہوا دیکھتا تھا۔ علی اصغر آج ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن ان کا دلکش کھیل اور ہوا میں گھومتی ہوئی فری کک آج بھی فٹبال کے شائقین کے دل میں نقش ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں