کراچی : جماعت اسلامی کے مارچ پر پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج،12کارکن گرفتار
کراچی: (دنیا نیوز) شہر قائد میں پولیس کی جانب سے جماعت اسلامی کے مارچ پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا جبکہ 12کارکن گرفتار لیے گئے۔
کراچی میں جماعت اسلامی کے کارکنان نے پولیس سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سندھ اسمبلی کی جانب مارچ شروع کر دیا، ابتدائی بات چیت میں کوئی نتیجہ نہ نکلنے پر کارکنان نے پیش قدمی کی، جس پر پولیس نے انہیں روکنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
پولیس حکام نے پہلے ہی حکمت عملی کے تحت مختلف سڑکوں پر پولیس موبائلز اور بسیں کھڑی کر کے راستے بند کر دیئے تھے تاکہ مظاہرین اسمبلی تک نہ پہنچ سکیں، کورٹ روڈ اور نماز روڈ پر خصوصی رکاوٹیں قائم کی گئیں تاکہ مارچ کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔
پولیس کارکنوں کو منتشر کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے، مظاہرین کے پتھراؤ سے کئی پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، دوسری جانب پولیس تشدد سے کارکن بھی زخمی ہوئے، پولیس نے کارکنان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس نے جماعت اسلامی کے 10 سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا، پولیس نے جماعت اسلامی کے ساؤنڈ سسٹم والا ٹرک تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔
سندھ اسمبلی سے متصل شاہراہوں پر ٹریفک جام، گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں، سندھ سیکرٹریٹ کے پیچھے گلیوں میں جماعت اسلامی کے کارکن چھپے ہوئے ہیں، پولیس کی بھاری نفری اسمبلی کے طرف سارے راستوں پر کھڑی ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کا کہنا ہے کہ کچھ پولیس اہلکار پتھر لگنے سے زخمی ہوئے، پولیس کی ٹیمیں سڑکوں کو کلیئر کرانے کے لئے کارروائی کر رہی ہیں۔
قیدیوں کی وین منگوالی گئی، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کسی صورت سڑکوں کو بلاک کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
مظاہرین کے ساتھ جماعت اسلامی کی مقامی قیادت موجود ہے جبکہ اب سے کچھ تھوڑی دیر بعد امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کارکنان سے خطاب اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔