’’پائریٹس آف دی کیریبیئن ‘‘ کا شکار جہاز کی باقیات دریافت
لندن(نیٹ نیوز)برطانوی غوطہ خوروں نے بہاماس سے 300 برس قبل حقیقی پائریٹس آف دی کیریبیئن کے حملے کے نتیجے میں ڈوبنے والے جہازوں کے ملبے دریافت کر لیے ۔
یہ جہاز خطرناک قزاقوں بلیک بیئرڈ اور کیلیکو جیک ریکھم (جنہوں نے 1690 کی دہائی سے 1720 کی دہائی تک سمندروں پر راج کیا) کے حملے کی وجہ سے غرق ہوئے تھے ۔تین بحری جہازوں کا تعلق ‘قزاقوں کے سنہرے دور’ سے پایا گیا۔ یہ وہ دور ہے جب قزاق مال بردار جہازوں پر حملہ کرتے ، ان کا سامان لوٹتے اور پھر جہازوں کو آگ لگا کر سمندر کی تہہ میں غرق کر دیتے تھے ۔مشہور قزاق بادشاہ ہنری ایوری نے ایک جہاز سے سونا اور چاندی لوٹی، پھر جہاز کو آگ لگا کر ناساؤ کے ساحل کے قریب سمندر میں ڈبو دیا تھا۔جوہرات کی قیمت 3 ارب 15 کروڑ پاکستانی روپے سے زیادہ بنتی ہے ۔