شہر میں 62 سال بعد بھی ماسٹر پلان پر عمل نہ ہوسکا
ایک کروڑ سے زائد آبادی کیلئے بے ہنگم پرانا انفراسٹرکچر، بڑھتی ٹریفک دیگر مسائل شہریوں کیلئے وبالِ جان بن چکے ،3بار بننے ولاماسٹر پلان کاغذی کارروائی تک محدود
فیصل آباد(ذوالقرنین طاہر سے )پاکستان کا مانچسٹر کہلوانے والا صنعتی شہر فیصل آباد 62 سال بعد بھی ماسٹر پلان پر عملدرآمد سے محروم ہے ۔ ماسٹر پلان پر کام نہ ہونے سے بے ہنگم انفراسٹرکچر اور بڑھتی ہوئی ٹریفک سمیت دیگر مسائل شہریوں کے لیے وبالِ جان بن چکے ہیں تفصیلات کے مطابق صنعتی شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے مگر آبادی کے تناسب سے سہولیات نہ ہونے کے مترادف ہیں کیونکہ شہر میں ماسٹر پلان پر کبھی کام ہی نہیں ہوسکا فیصل آباد کا پہلا ماسٹر پلان 1964 تا 1984 بنایا گیا تھا مگر عملدرآمد نہ ہوسکا دوسری بار 1996 میں ماسٹر پلان تشکیل دیا گیا مگر کام شروع نہ ہوا تیسرا ماسٹر پلان 2006 میں بنایا گیا مگر کاغذی کاروائی سے آگے نہ بڑھ سکا 2017 میں چوتھا ماسٹر پلان تیار کیا گیا مگر اس بار بھی عملدرآمد نہ ہوا پانچویں 2022 میں ماسٹر پلان بنایا گیا جس کا حتمی ڈرافٹ بھی بن گیا مگر اس بار بھی عملدرآمد نہ ہوسکا ۔
اس حوالے سے شہریوں کاکہناہے کہ ماسٹر پلان شہر کی اہم ضرورت ہے کسی بھی بڑے شہر کے ماسٹر پلان میں آبادی کے تناسب سے نجی ہائوسنگ کالونیوں،صنعتی علاقوں، زرعی رقبہ جات ،سڑکوں،فلائی اوورز،انڈر پاسز،تفریحی مقامات،ہسپتالوں اور کاروباری مراکز کی ری ڈیزائننگ کی جاتی ہے جو وقت کی ضرورت اور آبادی کے تناسب سے طے کی جاتی ہے جبکہ فیصل آباد کی آبادی 1964 کی نسبت دو گنا سے بھی زائد ہوچکی ہے صنعتی شہر میں دیگر اضلاع سے آکر کام کرنے والے لوگ بھی آباد ہوچکے ہیں اور محتاط اندازے کے مطابق فیصل آباد کی آبادی اس وقت ایک کروڑ سے زائد ہے جبکہ مین انفراسٹرکچر اب بھی 62 سال سے زائد پرانا ہے جسکی وجہ سے شہریوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ سال 2022 کے ماسٹر پلان پر ماحولیات کا این او سی شامل نہ ہونے کا اعتراض لگایاگیاجس پر ڈی جی ایف ڈی اے آصف چودھری کاکہناہے کہ ماحولیات سے این او سی لینے کے لیے درخواست کردی گئی ہے ۔