لیبر قوانین بے اثر،کم از کم اجرت پر عملدرآمد نہ ہو سکا

لیبر قوانین بے اثر،کم از کم اجرت پر عملدرآمد نہ ہو سکا

متعدد فیکٹریاں رجسٹریشن کے بغیر کام کر رہی ہیں، انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات

پینسرہ (نمائندہ دنیا)سرکاری اعلانات اور گزٹ نوٹیفکیشن کے باوجود صنعتی اداروں میں مزدوروں کے حقوق کا تحفظ خواب بن کر رہ گیا ہے ۔ سال 2025-26 کے لیے مقرر کی گئی 40 ہزار روپے ماہانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد نہ ہو سکا، جس پر لیبر ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق متعدد فیکٹریاں تاحال رجسٹریشن کے بغیر کام کر رہی ہیں، جس کے باعث ہزاروں مزدور سوشل سیکیورٹی سہولیات، ہیلتھ کارڈ اور قانونی تحفظ سے محروم ہیں۔ صنعتی یونٹس کی مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث مزدوروں کو نہ صرف کم اجرت کا سامنا ہے بلکہ بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔

دوسری جانب نئے مالی سال 2026 کے بجٹ میں مزدوروں کی تنخواہوں میں معمولی اضافے کی تجویز سامنے آئی ہے ، تاہم مزدور حلقوں کا کہنا ہے کہ جب حکومت پہلے سے جاری گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق 40 ہزار روپے اجرت پر عملدرآمد کروانے میں ناکام ہے تو نئے اضافے پر عملدرآمد بھی مشکوک ہے ۔مزدور رہنماؤں کے مطابق مہنگائی کے موجودہ دور میں معمولی اضافہ مزدوروں کے لیے اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے ، جبکہ اصل مسئلہ سرکاری اعلانات پر عملدرآمد کا ہے ۔صنعتی علاقوں میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ فیکٹریوں میں حفاظتی آلات، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات اور ورکرز کی صحت کے اقدامات موجود نہیں، جس کے باعث حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔متعدد فیکٹریوں میں پینے کا صاف پانی، صفائی ستھرائی اور واش رومز کے ناقص انتظامات کے باعث مزدور مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں