آٹا اور گندم مہنگی، شہری روٹی کو ترسنے لگے
گندم کی قیمت 4,500 روپے فی من سے تجاوز کر گئی ،عام آدمی کو مشکلات
فیصل آباد (عبدالباسط سے ) محکمہ خوراک، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی مبینہ غفلت کے باعث اوپن مارکیٹ میں آٹے اور گندم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے ، جس سے عام آدمی، خصوصاً مزدور طبقہ، شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 4,500 روپے فی من سے تجاوز کر گئی ہے ، جبکہ چکی کے دیسی آٹے کی قیمت 150 روپے فی کلوگرام سے بھی بڑھ چکی ہے ۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آٹے کی فی کلو قیمت میں 30 روپے سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ، جس کے باعث شہریوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔اسی طرح 15 کلوگرام فائن آٹے کے تھیلے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس کی قیمت تقریباً 2,000 روپے تک پہنچ گئی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آٹے اور گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کے بجائے متعلقہ اداروں نے مبینہ طور پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
جس کے باعث ناجائز منافع خور کھلے عام شہریوں سے من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ذرائع نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ خوراک، ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کے بعض اہلکار ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے مبینہ طور پر ان سے بھاری نذرانے وصول کر کے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جس کے باعث شہری مہنگائی کے دوہرے عذاب کا شکار ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ان کی قوتِ خرید ختم کر دی ہے ، جبکہ دوسری جانب قیمتوں پر مؤثر کنٹرول نہ ہونے سے بنیادی اشیائے خورونوش بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔شہریوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے اور گندم کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری، مؤثر اور شفاف اقدامات کیے جائیں تاکہ ناجائز منافع خوری کا خاتمہ ہو اور عوام کو ریلیف مل سکے۔