لاپتہ بچیاں بازیاب کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

لاپتہ بچیاں بازیاب کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

بچیاں پھول فروخت کرنے گئیں لیکن واپس نہیں آئیں،درخواست گزارسندھ ہائیکورٹ نے تمام فریقین سے 8 جولائی تک جواب طلب کر لیا

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے کلفٹن سے دو کمسن بچیوں کی مبینہ گمشدگی سے متعلق دائر آئینی درخواست پر متعلقہ حکام کو لاپتہ بچیوں کو بازیاب کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے تمام فریقین سے 8 جولائی تک جواب طلب کر لیا۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کی وکیل بشری عباس نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کی دو کمسن بیٹیاں، 14 سالہ بیبو اور 6 سالہ علینہ، گزشتہ سال مئی سے لاپتہ ہیں۔ دونوں بچیاں کلفٹن میں پھول فروخت کرنے گئی تھیں لیکن واپس گھر نہیں آئیں۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مختلف ذرائع سے معلوم ہوا کہ قربان نامی شخص نے دونوں بچیوں کو مبینہ طور پر اغوا کیا ہے۔

تاہم متعلقہ اداروں سے متعدد بار رجوع کرنے کے باوجود ان کی بازیابی کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے گئے ۔درخواست گزار کے وکیل نے مزید موقف اختیار کیا کہ نامزد ملزم کو ڈی آئی جی آر آر ایف اور ایس ایس پی جیکب آباد کی مبینہ سرپرستی حاصل ہے ، جس کے باعث مقامی پولیس اس کے خلاف کارروائی سے گریز کر رہی ہے ۔ وکیل نے استدعا کی کہ ان الزامات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور بچیوں کی بازیابی کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے ۔ درخواست میں سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی، ویمن اینڈ چائلڈ پروٹیکشن سیل اور نامزد ملزم کو فریق بنایا گیا ہے ۔ عدالت نے تمام فریقین سے 8 جولائی تک تفصیلی جواب بھی طلب کر لیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں